مینگورہ ایک چھوٹا لیکن نہایت گنجان آباد شہر ہے۔ اس کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے ساتھ اس کے مسایل اور اہل مینگورہ کی مشکلات بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں لیکن بلدیہ مینگورہ اور مقامی انتظامیہ کے متعلقہ سرکاری اہل کار اس مسلسل پھیلتے ہوئے شہر کے مسایل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے پھیلاؤ اور بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کوئی پلاننگ ان کے پیش نظر رہتی ہے۔ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے نمایندوں کو بھی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ کے مسایل اور شہریوں کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں۔ سول سو سایٹی (جس کا وجود ہے کہ نہیں) کی طرف سے بھی حکومت اور متعلقہ محکموں پر شہر کے مسایل حل کرنے کے سلسلہ میں کوئی دباؤ نہیں۔ اس شہرِ دل رُبا میں بہت سوچ سمجھ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ ان میں حاجی رسول خان جنھوں نے ریاستی دور دیکھا ہے اور جن کے والئی سوات کے ساتھ خصوصی مراسم بھی تھے، خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ وہ کبھی کبھار مینگورہ کے مسایل پر لکھتے رہتے ہیں اور موجودہ مینگورہ کا تجزیہ ریاستی دور کے مینگورہ سے کرکے ہم جیسے لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں۔ ہمیں اپنا شہر بہت عزیز ہے اور جب ہمیں بزرگوں کی زبانی پتا چلتا ہے کہ والئی سوات اس شہر اور اس کے مکینوں کا خیال اپنی اولاد کی طرح رکھتے تھے، تو ہمیں یک گونہ خوشی کے ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے کہ کاش والئی سوات کے بعد اس شہر کو ان کی طرح کی کوئی مخلص شخصیت ملی ہوتی جو اس کے مسایل کا حل بروقت نکالتی اور اسے خوب صورت سوات کے بد صورت شہر میں بدلنے سے روک لیتی۔ میں نے مینگورہ شہر کے مسایل کے حوالہ سے لکھنے والے اپنے ایک گزشتہ کالم میں سوات کی چند ممتاز شخصیتوں کا تذکرہ کیا تھا کہ مینگورہ کے مسایل حل کرنے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے سول سوسایٹی سے ان لوگوں کی ایک ایڈوایزری کمیٹی بنائی جائے جو مینگورہ کے سلگتے مسایل کی نشان دہی کریں گے اور بلدیہ مینگورہ کے متعلقہ اہل کاروں کی مشاورت سے ان کا حل نکالیں گے اور پھر اس حل کو عملی بنانے کے لیے بلدیہ مینگورہ کی مدد بھی کریں گے۔ اس مشاورتی کمیٹی میں حاجی رسول خان، بلدیہ مینگورہ کے سابق چیئرمین ملک بیرم خان، سابق ایم پی اے محمد امین، آرکیٹکٹ انجینئرشوکت شرار اور آل سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر حاجی زاہد خان کو شامل کیا جائے، کیوں کہ یہ سول سوسایٹی کی ایسی نمایندہ شخصیات ہیں جو مینگورہ اور پورے سوات کے مسایل نہ صرف سمجھتی ہیں بلکہ ان کی بصیرت اور بصارت ایسی ہے کہ وہ ان مسایل کا ممکنہ حل بھی نکال سکتی ہیں۔
کہنے کو تو ہر ریاست اپنے شہریوں کے لیے ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے لیکن افسوس ہماری ریاست ایسی کوئی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں۔ اس وقت پورے ملک کی مجموعی صورتِ حال کا اگر جایزہ لیا جائے، تو معلوم ہوگا کہ ریاستِ پاکستان کے عوام یتیم و یسیر بن چکے ہیں اور ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کا کوئی ریاستی بندوبست موجود نہیں۔ اس کے بعد اگر بات سوات کی، کی جائے تو یہ حقیقت مزید کھل کر سامنے آتی ہے کہ سوات اور اہلِ سوات تو واقعتا یتیم و یسیر ہیں۔ ریاست سوات کے پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے ادغام کے بعد یہاں زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی کی رفتار نہ صرف سست پڑگئی بلکہ ریاستی دور میں کی جانے والی ترقی کو بھی پس ماندگی میں بدلنے کے لیے حالات سازگار بنائے گئے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ریاست کے ادغام کے بعد سوات اور پورے ملاکنڈ ڈویژن میں پاٹا ریگولیشن کے نام سے یہاں کے عوام کا اس کالے قانون کی آڑ میں استحصال کیا گیا۔ پھر جب یہ قانون ختم کیا گیا، تو ملاکنڈ ڈویژن میں ایک قانونی خلا پیدا کیا گیا۔ اس کے بطن سے مولانا صوفی محمد کی پہلے سے جاری ’’تحریک نفاذِ شریعت محمدیؐ‘‘ نے ایک نیا جنم لیا جس کے نتیجے میں تحریک کے سرگرم کارکنوں نے دو نومبر 1994ء میں ضلعی عدالتیں اور سیدو شریف ایئرپورٹ اپنے قبضہ میں لے کر پورے سوات میں حکومت کی عمل داری عملاً ختم کر دی۔ اس بغاوت کو تو اُس وقت کچھ سختی اور کچھ نرمی سے فرو کردیا گیا لیکن اس کے زہریلے اثرات بعد میں مولوی فضل اللہ کی سرگرمیوں کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ 2006ء سے 2009ء تک سوات اور اہل سوات بداَمنی اور شورش کی آگ میں جلتے رہے۔ اس کے بعد فوجی آپریشنوں کے ذریعے امن قایم کیا گیا لیکن قیام امن کے بعد بھی سوات اور اہل سوات کو سکون اور قرار نصیب نہ ہوسکا۔ بد اَمنی اور بے چینی کا یہ سلسلہ اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری و ساری ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی نے بھی یہ سوال اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ سوات کے ساتھ طالبان کے نام پر ڈرامہ کیوں رچایا گیا، اس کی آڑ میں یہاں کے عوام کوغیرمعمولی طور پر جانی و مالی نقصانات سے کیوں دوچار کیا گیا، اہل سوات کو اپنے ہی جنم بھومی میں اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق سے کیوں محروم کیا گیا، سوات کی معیشت اور سیاحت کو کیوں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پر امن سوات اور اس کے امن پسند معصوم لوگوں کو کیوں پوری دنیا میں انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے طور پر بدنام کیا گیا؟ اگر اہل سوات یتیم و یسیر نہ ہوتے اور ان کا کوئی پُرسانِ حال ہوتا، تو ان کے ساتھ یہ ظلم و ستم کیوں کیا جاتا؟ (جاری ہے)
656 total views, no views today


