سوات: ضلعی پولیس سربراہ زاہد نواز مروت کا بحیثیت ڈی پی اُو سوات چارج سنبھالتے ہی منشیات فروشوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا، جس میں سوات پولیس نے پورے ضلع میں منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے بھاری مقدار میں چرس، ہیروین، آئس اور شراب برآمد کرلی۔ڈیر سارے بدنامہ زمانہ منشیات فروشوں کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے بھجوائے گئے۔
ڈی پی اُو سوات زاہد نواز مروت نے واضح طور پر منشیات فروشوں کو پیغام دیا تھا کہ ہمارا عزم ہے منشیات سے پاک معاشرہ اور منشیات فروشوں کے لئے ضلع سوات میں کوئی جگہ نہیں یا تو منشیات فروشی کے اس مکروہ دھندے کو چھوڑیں اور یا ضلع سوات کو، منشیات فروشوں تک پیغام پہنچے کے بعد زیادہ تر منشیات فروشوں نے قرآن پاک علاقہ مشران کے سامنے منشیات فروشی کے مکروہ دھندہ سے توبہ تائب ہوئے۔اور متعدد بدنامہ زمانہ منشیات فروشوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ضلع بدر کیا گیا۔
آج تھانہ بنڑ کے حدود میں عرصہ درازسے منشیات فروشی کے مکروہ دھندے میں ملوث بدنام زمانہ منشیات فروشان، محمد روشن ولد عبد المالک، اختر علی ولد محمد روشن، عمر ولد محمد روشن اور مسماۃ (س) زوجہ محمد روشن ساکنان بھٹئی چوک طاہر آباد نے اپنے گھریلوں سازوسامان کو گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے۔منشیات فروشوں کے خلاف جاری جنگ میں ڈسٹرکٹ سیکورٹی برانچ کے اہلکاروں نے بھر پور کردار ادا کیا۔
ضلعی پولیس سربراہ زاہد نواز مروت نے ایک بار پھر اپنے پیغام میں کہا کہ سوات پولیس منشیات فروشوں کے خلاف جاری جنگ میں اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، ہمارا عزم ہے کہ ہم اپنے آنے والے بچوں کے لئے منشیات فروشی سے پاک معاشرہ فراہم کرے، انہوں نے عوام کے نام پیغام میں کہا کہ عوام اپنے ارد گرد معاشرے پر بھی نظرثانی کریں، منشیات فروشی کے مکروہ دھندے میں ملوث سماج دشمن عناصر کے خلاف آواز اُٹھا کر سوات پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف جاری جنگ میں ساتھ دیں۔
472 total views, no views today



