صوبہ خیبر پختون خوا میں جب تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آگئی، تو اہل سوات کو اُمید پیدا ہوچلی کہ اب عمران خان اس صوبے کو امن و امان اور ترقی و خوش حالی کے حوالے سے ایک مثالی صوبہ بنائیں گے اور پورے پاکستان کو دکھائیں گے کہ وہ اگر ایک تباہ حال صوبے کو ترقی و خو ش حالی اور امن و آشتی سے ہم کنار کرسکتے ہیں، تو اگرا نھیں قومی سطح پر حکومت بنانے کا موقع دیا جائے، تو وہ پورے ملک کو ترقی و خوش حالی اور امن و آشتی کا گہوارہ بناسکتے ہیں لیکن افسوس عمران خان نے نیا پاکستان بنانے کے دھن میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے سوا عوام کو کچھ بھی نہیں دیا۔ وہ اگر کچھ کر دکھانا چاہتے، تو صوبہ خیبر پختون خوا میں بہت کچھ کرسکتے تھے۔ صوبائی اسمبلی میں سوات کی چھ سیٹوں جب کہ قومی اسمبلی میں دو سیٹوں کی نمایندگی کے باوجود سوات کے مسایل حل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ سوات بھر کی سڑکوں کی ابتر حالت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سیاحت کی صنعت کو ترقی دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آسکی۔ ہسپتالوں میں صفائی اور علاج معالجہ کی سہولتیں بہتر نہیں بنائی جاسکیں۔ سیدو ہسپتال میں جاری توسیعی منصوبہ کو بروقت مکمل کرنے میں صوبائی حکومت نے کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں بے ہنگم ٹریفک، ناقص صفائی اور غیرقانونی گاڑیوں کی روک تھام کے سلسلہ میں کوئی غیرمعمولی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ صوبے کے وزیراعلیٰ کو حکومت سنبھالنے کے بعد فوری طور پر سوات کا دورہ کرنا چاہیے تھا اور علاقے کے لیے کسی بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے تھا کہ سوات طالبانایزیشن اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے خصوصی توجہ کا متقاضی تھا۔
بلدیہ مینگورہ اور مقامی انتظامیہ نے اگرچہ مینگورہ کی حد تک صفائی، ناجایز تجاوزات، غیرقانونی رکشوں کی پکڑ دھکڑ اور ہتھ ریڑھیوں کے خلاف مہم شروع کردی ہے اور اس کے خوش گوار اثرات مینگورہ شہر میں محسوس بھی کیے جا رہے ہیں لیکن صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ وہ مینگورہ شہر کی گنجان آبادی کے پیش نظر اس کے مسایل کو اپنی خصوصی ترجیحات میں رکھے۔ مینگورہ شہر کے بیچ میں دو ندیاں مختلف مقامات سے آکر ملتی ہیں لیکن یہ ندیاں شہر کی خوب صورتی کی بہ جائے اس کی بدصورتی میں اضافے کا باعث ہیں۔ کسی وقت یہ ندیاں نہایت صاف و شفاف تھیں اور اس میں اہل شہر بڑے اہتمام سے نہانے کے لیے جاتے تھے لیکن اب یہ ندیاں گندی نالیوں میں بدل چکی ہیں۔ پوری دنیا میں جہاں کہیں کسی شہر کے بیچ دریا یا ندی گزرتی ہے، تو ان کی وجہ سے شہر کی رونق اور خوب صورتی دوچند ہوجاتی ہے اور اسے شہر اور اہل شہر کے لیے خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مینگورہ شہر ایک طرف اگر دریائے سوات کے کنارے واقع ہے، تو دوسری جانب شہر کے بیچوں بیچ ایک نہیں دو ندیاں بہ رہی ہیں لیکن شہر میں ان کی وجہ سے کوئی خوب صورتی دکھائی نہیں دیتی۔ کہیں کوئی سبزہ یا درخت نظر نہیں آتا۔ شہر کی ہوائیں معطر نہیں بلکہ گرد آلود اور بوجھل ہیں۔ صوبائی حکومت کو مینگورہ خوڑ کے لیے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے۔ مرغزار سے لے کرمینگورہ تک ندی کے دونوں کناروں پر مضبوط پشتے تعمیر کرنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ اس کے دونوں جانب سڑک ہونی چاہیے۔ اس طرح مینگورہ سے جامبیل کوکارئ تک خوڑ کے دونوں طرف مضبوط پشتے ہونے چاہئیں اور اس کے دونوں اطراف پختہ سڑکوں کی تعمیر ممکن بنانی چاہیے۔ ان ندیوں میں جہاں کہیں سے کوئی گندی نالی آئی ہے یا کہیں سے سیوریج کی گندگی اس میں ڈالی جا رہی ہے، اس کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ حکومت کو ڈرینج اور سیوریج سسٹم کے لیے ایک طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور شہر کی ساری گندگی کے لیے متبادل روٹ بنانا چاہیے۔ ڈرینج اور سیوریج کی کوئی گندگی دریا اور ندی میں نہیں ڈالنی چاہیے۔
مینگورہ کی دونوں ندیوں کو صاف و شفاف رکھ کر اس سے بہت سے فایدے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ یہ شہر کی خوب صورتی کا باعث بن سکتے ہیں۔ہر روز ان کے صاف و شفاف بہتے پانیوں کی وجہ سے اہل شہر کے مجموعی مزاج پر خوش گوار اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں اس طرح کی ندیوں میں سیاحوں کے لیے سیرو سیاحت کا خصوصی بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس میں خوب صورت کشتیاں، موٹر بوٹ اور فیری چلائی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں چوں کہ غربت کے علاوہ ذہنی پس ماندگی بھی عام ہے، اس لیے متعلقہ مقامی محکمے اور انتظامیہ اس حوالے سے سوچتے ہیں اور نہ ہی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی ترجیحات میں ایسے فلاحی منصوبے شامل ہوتے ہیں۔ حالاں کہ کم وسایل لیکن ایمان دار سرکاری اہل کاروں کے ذریعے مینگورہ اور اس کے قرب و جوار کو سیاحوں کے لیے نہایت پرکشش بنایا جاسکتا ہے۔ قدرت نے خوب صورت لینڈ اسکیپ ہمیں ویسے بھی عطا کر رکھا ہے لیکن ہمارے اربابِ اختیار کے پس ماندہ اور زنگ آلود لیکن ذاتی حرص و لالچ سے لبریز ذہنوں میں ایسے تعمیری اور فلاحی منصوبے کہاں آسکتے ہیں؟
مینگورہ کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بے ہنگم ٹریفک کے پیش نظر ضرورت اس اَمر کی ہے کہ جنرل بس اسٹینڈ، اس کے قرب و جوار میں دیگر ٹرانسپورٹ اڈے اور سبزی منڈی کو فوری طور پر بیرونِ شہر منتقل کردیا جائے۔ مقامی انتظامیہ نے اگرچہ مینگورہ شہر سے کئی چھوٹے غیرقانونی اڈے ختم کرکے ایک مستحسن قدم اٹھایا ہے لیکن ان بڑے اڈوں کوشہر سے باہر منتقل کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔ ہم گذشتہ آٹھ دس سالوں سے سن رہے ہیں کہ مقامی انتظامیہ ان اڈوں کو باہر منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں فیصلہ بھی ہوچکا ہے لیکن معلوم نہیں ان فیصلوں پر عمل در آمد کرنے کا موقع کب آئے گا؟ ہمارا پورا نظام شکستہ ہوچکا ہے۔ ایک معمولی کام سرانجام دینے کے لیے یا تو دانستہ طو رپر رکاوٹیں پیدا کی جاتی ہیں اور یا ہمارے متعلقہ سرکاری اہل کار مسایل حل کرنے کے سلسلے میں مجرمانہ غفلت اور سرد مہری کا دانستہ مظاہرہ کرتے ہیں۔ قوانین عوام کو فوری انصاف دلانے کے لیے بنائے جاتے ہیں اورعوامی مسایل حل کرنے کے لیے انھیں حرکت میں لایا جاتا ہے لیکن وطن عزیز میں قوانین کے ذریعے عوام کے مسایل میں اضافہ کیا جاتا ہے اور ان کی موجودگی بعض اوقات عوام کو انصاف فراہم کرنے میں مانع بھی ہوجاتی ہے۔ یہ ایک سیدھا سادہ معاملہ ہے۔ مقامی انتظامیہ کو اس سلسلہ میں فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس مقصد کے لیے شہر سے باہر ایسی جگہ پر زمین لینی چاہیے جو مستقبل میں بھی عوامی زندگی کے لیے مسایل اور مشکلات کا باعث نہ بن سکے۔ اگر حکومت یا مقامی انتظامیہ کو لگتا ہو کہ یہ کام سرکار نہیں کرسکتی، تو اس سلسلہ میں کسی نجی کمپنی کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں جویقیناًیہ کام جلد اور حکومت سے بہتر طور پر انجام دے سکے گی۔
بلدیہ مینگورہ اور مقامی انتظامیہ کے افسران کا فرض بنتا ہے کہ وہ مینگورہ شہر کو ہر صورت میں پاک و صاف رکھیں۔ شہر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت و تعمیر کو ممکن بنائیں۔ اس کے ٹریفک کے مسایل حل کرنے کی طرف خصوصی توجہ دیں۔ ندیوں کے دونوں طرف پختہ پشتے تعمیر کرکے اسے پاک و صاف بنائیں۔ شہر میں سبزہ اور درخت لگائیں، تاکہ پتا چل سکے کہ مینگورہ حسین و جمیل سوات کا ایک خوب صورت مرکزی شہر ہے اور یہ نہ صرف اپنے مکینوں کے ذوقِ جمال کا آئینہ دار ہے بلکہ سوات آنے والے سیاحوں کے لیے بھی یہ ایک مسحور کن بیس کیمپ ہے، جہاں سے وہ سوات کی خوب صورت وادیوں کی سیر و سیاحت کے لیے رختِ سفر باندھتے ہیں۔
762 total views, no views today


