سوات،سوات میں پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم اور عوام کو پولیسسے درپیش مشکلات کے حوالے سے ایک روزہ سیمنار کا انعقاد ، سیمنار میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جس میں اقلیتی برادری، وکلاء، صحافی، پولیس افیسرز،اساتذہ،خواتین، ڈاکٹر ، غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھر پور شرکت کی، پی ٹی ڈی سی ہوٹل سیدو شریف میں روزان اور حجرہ ارگنائزیشن کے مشترکہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے روزان ارگنائزیشن کے پروگرام افیسر صفی پیرزادہ،ایگزیکٹیو ڈائریکٹر حجرہ ارگنائزیشن سے سلیم احمد،لائزان افیسر عنایت الرحمان نے کہا کہ پولیس اور عوام کا ایک دوسرے کیساتھ تعاون بہت ضروری ہے،
ہمارے سروے کے مطابق پولیس کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہیں ، اور یہ شرح سوات کے دیہاتی علاقوں میں سب سے زیادہ ہے،پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے سوات کے 87 فیصد شہریوں کی رائے نفی میں ہے سب سے زیادہ شکایات پولیس کے رویئے اور عدم تعاون کے ارہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ عدم تعاون اور جانبدارانہ پالیسی کی وجہ سے سوات کے پچھتر فیصدعوام جرگوں کے ذریعے اپنے مسائل حل کردیتے ہیں، جبکہ پچیس فیصد عوام اپنے مسائل کی رپورٹ پولیس کیساتھ درج کرتے ہیں، پولیس کے ساتھ سوات کے کشیدہ حالات کے دوران ہمدردی 60 فیصد تھی ، انہوں نے کہا کہ اس سیمنار کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان فاصلوں کو کم کرنا ہے تاکہ عوام پولیس پر اعتماد کرے اور پولیس عوام کے اعتماد پر پورا اتر سکیں،انہوں نے کہا کہ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے جتنے کم ہونگے اتنا معاشرہ بہتر ہوگا، اور مسائل میں بھی اتنی ہی کمی ہوگی انہوں نے کہا کہ سوات میں سب سے زیادہ مسائل کا شکار خواتین ہیں کیونکہ ایک تو وہ پولیس سٹیشن اپنے مسائل کیلئے جا نہیں سکتی اور اگر جاتی ہیں تو معاشرے میں ان کو اچھی نظر سے دیکھا نہیں جاتا۔خواتین میں پولیس کیخلاف عدم تعاون کی شرح سب سے زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ خواتین بھی معاشرے کا اہم حصہ ہے ، اور ان کیساتھ بھر پور تعاون کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔انہوں سیمنار میں شرکت کرنیوالوں سے تجاویز بھی لیں تاکہ ان تجاویز پر کام کرکے حکومتی ایوانوں تک پہنچایا جائے ۔
432 total views, no views today


