قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ
طبیعیات کی دنیا اللہ کریم نے پیدا فرمائی ہے اور طبیعیات کے قوانین بھی اس کی پیدا کردہ اور وضع کردہ ہیں اور طبیعیات کی دنیا انہی قوانین کے تحت رواں دواں ہے۔طبیعیات کے ماہرین طبیعیات کی ساخت پرداخت ،اس کے قوانین وضوابط ،اس کے طریقہ کار جس کو فطری طریقہ کار کہا جاتا ہے اور اس پر مرتب نتیجہ کی تحلیل وتجزیہ کرکے اس سارے پراسیس کو جاننے پھر اس کے أساس پر ایک تھیوری وضع کرنے اور بعد ازاں اسی تھیوری کو تجربہ گاہ میں لے جاکر نت نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں اور چونکہ یہ ایجادات ایک جادو جیسے معلوم ہوتی ہیں اور انسان کو فائدہ بھی دیتی ہیں اور انسان تو ہمیشہ سے جادو سے مرعوب اور متاثر رہا ہے اور فوائد پر تو وہ وارے نیارے کرجاتا ہے ۔اور یہاں پر سائنس کا مسئلہ تو دو آتشہ ہوچکا ہے لہذا اس سے متاثر ہونا تو ایک لازمی بات ہے اور اس دوآتشہ ہونے کی وجہ سے اس کا متاثر ہونا تو اس حد تک ہے کہ بہت سارے تو خدا اور اس کی قوت وقدرت کو بھی اس کے سامنے سپر ڈالنے کا تصور رکھتے ہیں معاذاللہ۔اور تبھی تو معجزات سے انکاری ہوجاتے ہیں جس کا باعث ان کی کوتاہ نظری اور خدا کے متعلق جہالت ہے
وما قدروااللہ حق قدرہ والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ والسموات مطویات بیمینہ
اور نہیں پہچانا ہے انہوں نے اللہ کو اس کو صحیح پہچان کی طرح حالانکہ زمین سارے کا سارا اس کا قبضہ ہے قیامت کے دن اور آسمان (سارے)سمٹے ہونگے اس کے دائیں ہاتھ میں۔
اب یہاں تو ذکر روز قیامت کا ہے کہ وہاں پر نہ کوئی سائنس ہے، نہ تھیوری ہے اور نہ تجربہ وایجاد ہے اور ظاہر بات ہے کہ نہ اس سے متاثر ہونے والے ہیں کہ ساروں کو اس دن اپنے جان کے لالے پڑے ہونگے کہ وہ تو دیکھتے ہوئے بھی اپنے جگری دوست سے نہ پوچھ سکیں گے کہ کیا حال ہے
ولا یسئل حمیم حمیما
لکل امرئ منہم یومئذ شان یغنیہ
ہر بندے کی ان میں سے ایک حالت ہوگی جو اس کو لاتعلق کرچکی ہوگی(ہر چیز اور ہر ایک سے)
تو آسمان اور زمین تو دنیا میں بھی اسی کے قبضے میں ہیں ان کا چلنا اور فنگشن سب کچھ یعنی طبیعیات اور اس کے قوانین اسی کو جوابدہ ہیں وہ چاہے تو انہیں ساکت وجامد کردے اور وہ چاہے تو ان کو معکوس کردے Counter productiveکہ وہ تو مخلوق کو جوابدہ نہیں ہوسکتا نہ وہ اس کے سامنے مجبور ہے
وہو علی کل شئی قدیر
وہو القاہر فوق عبادہ
یہ آیت مفہوم کے حوالے سے
مالک یو م الدین
یا
لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار
کی طرح ہے کہ وہ یوم آخرت کا مالک ہے حالانکہ دنیا کے ایام کا مالک بھی تو وہ ہے لیکن اس دن کوئی دعویٰ اور دعویدار نہیں ہوگا۔
بہر تقدیر طبیعیات اور اس کے قوانین سے اس حد تک متاثر ہونے نے انسانوں کی فکر ونظر کو محدود کردیا۔ وہ اس طبیعی ترقی کو ترقی کہتے ہیں لیکن جس انداز سے وہ ا س سے متاثر ہوئے ہیں تو ہم اس کو تنزل کہتے ہیں ،ہم اس کو محدود ہونا سمجھتے ہیں کہ وہ اصل حقائق بلکہ حقیقت محض یعنی اللہ تعالیٰ سے لا تعلق ہوچکے ہیں تو یہ محدودیت نہیں تو کیا ہے؟
یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ خود کو ترقی یافتہ اور روشن خیال وروشن دماغ سمجھتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ جو اصل سائنس دان ہیں جو کچھ کرکے دکھائے یا دکھاتے ہیں وہ کبھی اس قسم کی احمقانہ باتیں نہیں کرتے۔ یہ جو دم چھلے ہوتے ہیں یہ مسئلہ ان کا ہوتا ہے کہ ان کے پاس دکھانے کے لئے تو اور کچھ ہوتا نہیں تو اپنی اہمیت ثابت کرنے اور نوٹس میں آنے کے لئے مسجد کے استنجا خانے میں پاخانہ کرنے کو شہرت کا آسان طریقہ سمجھتے ہیں کہ افاقہ بھی ہوجاتا ہے اور شہرت بھی مل جاتی ہے
؎ بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا
بہر تقدیر طبیعیات کے حوالے سے اسی محدود تصور ہی کا شاخسانہ ہے بقاء الاقویٰ یعنی Survival of fittestکہ دنیا میں طریقہ یہ رہا ہے کہ چیزوں کا آپس میں تنازع جاری رہتا ہے یعنی Struggle for ……اور اس میں جو زیادہ قوی ہوتا ہے وہ باقی رہ جاتا ہے اور کمزور فنا ہوجاتا ہے ۔اور اس کی آسان مثال بڑے درخت کے نیچے چھوٹے درخت یا پودا ہونے کا ہے کہ ہر دو کا ربن ڈائی آکسائیڈ اور فوتو سینتھس کے لئے سورج کی روشنی کے محتاج رہتے ہیں جو چھوٹے پودے یا درخت کو ملتا نہیں یا ضرورت سے کم ملتا ہے کہ بڑا درخت سب کچھ ہڑپ کرجاتا ہے ۔مغرب نے عملاً بھی اس کو زندگی کے ہر میدان میں اپلائی کردیاکہ ہڑپ کرنے اور فنا کرنے کے لئے قوت کا حصول تاکہ دوسرے پنپ ہی نہ سکیں۔اور یہی کام سارے انسان سوچتے بھی ہیں اور اسے کرتے بھی ہیں اور اقوام بھی یہی کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ انسان واحد جانور ہے جوزندہ رہنے کے لئے کماتا رہتا ہے باقی جانور کماتے نہیں وہ تو ضرورت پڑنے پر یا چر لیتے ہیں یا اگر درندے ہیں تو دوسرے جانوروں پر حملہ کرکے ان کا شکار کرلیتے ہیں اور اسے کھاجاتے ہیں حتی کہ وہ ضرورت سے زیادہ شکار بھی نہیں کرتے بلکہ ایک ہی شکار میں سے بھی جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو باقی کو وہ چھوڑ دیتا ہے شاید اس غرض سے کہ اسے دوسرے کھائیں بلکہ دوسرے وہ کھالیتے ہیں اور پھر یہ کہ جانور اپنے نوع کا شکارنہیں کرتے بلکہ دوسرے نوع کا شکار کرتے ہیں اور وہ بھی جو کمتر حیثیت کے ہوتے ہیں یعنی کمزور پر حملہ کرتے ہیں لیکن دوسرے نوع کے کمزور اور اس کو اپنا خوراک بنالیتے ہیں جبکہ انسان اپنی نوع یعنی انسانوں کا شکار کرتے ہیں ۔یہ صحیح ہے کہ اپنے سے کمزور کا شکار کرتے ہیں کہ اپنے سے برتر کو تو وہ مساوات ،آزادی اور حقوق کا تذکرہ کر کرکے اپنے بچاؤ کا سامان کرنے کی سعی کرتے ہیں جبکہ وہ برتر بھی تو اس قسم کا انسان ہے اس نے اس کے اس ترانے کو تھوڑا سننا یا اس کے دُھن پر تھوڑا سر دھننا ہے کہ وہ بھی تو یہی مزاج رکھتا ہے یعنی اپنے سے کمتر اور اپنے ہی نوع کا شکار کرنا ۔یہ تو صرف خدا کا قانون اور خدا کے نیک بندوں میں ہیں کہ وہ تو جنگ کے میدان میں گرے ہوئے کو نہیں مارتا کہ اب وہ اس کے مقابلے میں کمزور ہوگیا ہے اور آنکھیں نہیں دکھاتا۔ رسول پاکﷺ نے فرمایا
لاتقتلوا جریحاً ولا تتبعوا مدبرا
(گرے ہوئے)زخمی کو قتل نہ کرو اور پیٹھ کرنے(بھاگنے)والے کا پیچھا نہ کرو۔ فسبحن اللہ۔
کیسے تہذیب یافتہ یہ بات مانیں کہ یہی انسان جب تک غاروں میں بے لباس یا درخت کے چھال اور پتوں کو لپیٹ کے رہتا تھا تو پیٹ بھرنے کے لئے جانوروں کا شکار کرتا اور جب سے وہ سنگ مرمر اور شیشوں کے محلات میں اور اعلیٰ قسم کے لباس زیب تن کیا ہوا ہے تو اپنے جنس کا شکار کررہا ہے ۔یعنی اس خود ساختہ اور نام نہاد تہذیب میں اس کی جبلت تو وہی شکار اور حملے والی ہی رہی ۔البتہ اس تہذیب نے اس ہدف کو تبدیل کردیا ہے کہ پہلے ان کا ہدف جانور تھے اور اب اپنی نوع یعنی انسان ہیں۔پہلے وہ ضرورت کے مطابق جانوروں کا شکار کرجاتے تھے اور اب اپنی نوع کا بے دریغ شکار کرتے رہتے ہیں تو کیا یہ مہذب ہوئے یا غیر مہذب ہوئے؟
اس بے تہذیبی اور بد تہذیبی کو مہذب کرنے کے لئے انہوں نے ریاست حکومت، آئین اور قانون کے منظمے اور ضابطے بھی بنوائے اور بین الاقوامی ادارے اور ضابطے بھی لیکن
؎ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
ان ضابطوں میں آزادی ،مساوات ،انصاف اور حقوق کے تصورات پر زور تو دیا گیا ہے اور یہی تصورات بین الاقوامی ضوابط اور قوانین میں بھی ہیں لیکن عملاً اس کا زیادہ تر حصہ ہمیشہ سے معطل بلکہ ایک مخول سار ہتا ہے کیونکہ عملاً تو وہی قانون ہے کہ
جس کی لاٹھی اس کی بھینس
Might is right
ہی چلتا رہتا ہے ممالک کے اندر بھی اور بین الممالک معاملات میں بھی۔حتی کہ طاقت اور اپنی مقصد براری کے لئے ایسا چمڑوں کا آسمان کھڑا کردیتا ہے اور پروپیگنڈے کا ایسا بازار گرم کردیتا ہے جس کے ذریعے وہ حملہ آور ہونے ،زور آزمائی کرنے کے لئے میدان اور اذہان بنادیتا ہے اور گلہ کاٹنے کے اصول پر عمل پیرا ہوجاتا ہے اور وہی بقاء الاقویٰ کا مظاہرہ کرجاتا ہے ۔ایسے میں کیا ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہواؤں میں اڑنے ،مریخ پر پہنچنے ،سمندروں کا راستہ چھیر کر زیر زمین دفینوں تک پہنچنے کے باوجود کیا وہ سماجی ،معاشرتی اور اخلاقی طور پر بھی کچھ ترقی کرچکا ہے یا کہ یہ ظاہری ،مادی ،طبیعیاتی اور سائنسی ترقی جو مادے اور مادیات کے کعبے کے گرد طواف لگاتی رہتی ہے سماجی ،اخلاقی اور معاشرتی تنزل اور بدحالی پر منتج ہوا ہے اور انسان سے سماجیت ،معاشرت اور اخلاق واقدار ختم ہوں تو وہ تو نرا حیوان بلکہ بد ترین حیوان رہ جاتا ہے
اولئک کالانعام بل ہم اضل
یہ مادیت اور روحانیت ترازو کے دو پلڑے ہیں ان کو سیدھا اور متوازن ومعتدل رکھنا ضروری ہے جبکہ صرف مادی ترقی کا نتیجہ روحانی تنزل ہی تو ہے۔
سو آئین ،قانون اور نظام کی باتیں زیادہ تر مثالیت کے حامل تصورات ہوتے ہیں اور مثالیت ،خیالیت اور خیالی تصورات ہی ہوتے ہیں جبکہ حقائق کچھ اور ہوتے ہیں جو واقعاتی ہوتے ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ عملاً واقعیت مثالیت پر غالب رہتی ہے مثلاً آئین پاکستان میں تو صدر پاکستان کا منصب سب سے عالی اور برتر ہے لیکن عملاً تو اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں یا دستوری لحاظ سے تو وزیرا عظم کا عہدہ طاقت ور ہےلیکن واقعاتی طور پر تو طاقت والے ہی طاقت ور ہیں اور پہلے تثلیث تھا یعنی صدر ،وزیراعظم اور آرمی چیف اور تصوراتی طور پر اب بھی ہے جبکہ عملاً اب ہیں وزیراعظم ،آرمی چیف اور ایجنسی کا سربراہ۔1974ءمیں جب ذوالفقار علی بھٹو نے جب اس ایجنسی کا سیاسی سیل بنایا تو اس سے یہی Trinityبن گئی ہے اور اس ایجنسی کو پتہ ہےکہ کب ،کس وقت اور کسی کے کون سے رگ کو دبانا ہے ۔کہتے ہیں کہ انسانی بدن میں ایک لاکھ انتالیس ہزار رگ ہوتے ہیں اور بیوی کو پتہ ہوتا ہے کہ کب شوہر کے کون سے رگ کو دبانا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی یہی فلسفے روبہ کار ہوتے ہیں کیونکہ ریاست فرد کا وسیع تصور اور بین الاقوامی سطح ریاست کا وسیع تصور ہے تو ہر ایک میں یہی فلسفے کارفرما ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی دنیا میں پہلی جنگ عظیم کے بعد لیگ آف نیشنز کا ادارہ بنا تھا تاکہ دنیا میں امن ،انصاف اور حقوق ومساوات کو قائم رکھا جاسکے اور ظلم کا تدارک ہو لیکن نتیجہ کیا؟دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی جو پہلی سے زیادہ مہلک اور تباہ کن ثابت ہوئی تو یو۔این۔ او کا ادارہ وجود میں آیا۔دوسری جنگ عظیم کا فیصلہ قوت کے بھرپور استعمال کے أساس پر ہوا اور اس میں اتحادی غالب رہے لیکن ان کا غلبہ امریکہ کی قوت کےاستعمال کے مرہون منت رہا ہے ۔امریکہ دفاعی اور جنگی قوت تو ثابت ہوہی گئی ساتھ ساتھ وہ معاشی قوت بھی رہی ،سیاسی بھی اور اس کی کرنسی بھی عالمی رہی۔آئی ۔ایم۔ ایف جو عالمی مالیاتی ادارہ ہے اور دنیا کے ممالک بالخصوص پسماندہ ممالک کو قرضے دیتی ہے اس میں بھی امریکہ کے شئیرز 27.2فیصد ہیں یعنی وہ بڑا شئیر ہولڈر ہے تو عملاً اسی کا تسلط ہے اور آئی ایم ایف کا دنیا پر معاشی تسلط یوں ہے کہ وہ قرضہ دیتا ہے تو وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس ملک کو کب اور کتنا قرضہ دیا جائے ۔پہلے ایک معاہدہ تھا کہ امریکہ ڈالر کے بدلے سونا دینے کا پابند ہوگا اس معاہد سے 15 اگست 1974ء کو امریکہ نے انکار کیا سو یوں ڈالر کا تسلط ہوگیا ۔دیگر ممالک جن کی معیشت مضبوط ہے لیکن اسی تسلط کے مقابلے میں وہ اپنی کرنسی کو عالمی نہ بناسکے۔سو ساری دنیا کی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے اور یوں عالمی تجارت میں شامل رہنے کے لئے دیگر ممالک کو اپنی کرنسی نیچے لانی پڑتی ہے تاکہ ڈالر اونچا رہے ۔آئی۔ ایم۔ ایف اپنے بندوں کو دیگر ممالک میں مالیاتی اداروں میں لگوادیتی ہے تاکہ اس کے پروگرام کو آگے لے جائیں جس میں وہاں ان ممالک میں آئی۔ ایم ۔ایف کے شرائط پر قرضہ لینے کا تصور ابھاریں ۔ اور پھر ان کے محاصل ان کی مرضی پر ہوں اور یوں وہ ان قرضہ لینے والے ممالک کو دیوالیہ پن کی طرف لے جائیں۔آئی۔ ایم۔ ایف ،ورلڈ بنک اور ایشین ڈیوپلمنٹ بینک کی تثلیث جو قرضے دیتے ہیں ان کو SDRکہتے ہیں۔ یہ کیش نہیں ٹرانسفر کرتے بلکہ ان ممالک کو اعتماد دیتے ہیں اس کی کہ وہ کسی کام کے لئے چیک دیں گے تو وہ ہم Payکریں گے تبھی تو وہ کسی ملک کے اثاثے منجمد کرتے ہیں ۔یہ وہ قرضے ہوتے ہیں جو منظور شدہ ہوتے ہیں ۔
پھر یو۔این۔ او ہے جس کا کوئی پبلک سیکٹر تو نہیں البتہ اس کی ذیلی ایجنسیاں ہیں جن میں آئی۔ ایم۔ ایف ،ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ اینٹیلکچول پراپرٹی آرگنائزیشن۔ان کی ذمہ داری ہے سرمایہ دارانہ بڑھوتری اور تحکم کے لئے کام کرنا۔یہ اصول وضع کرتے ہیں کہ ترسیل زر کیسے ہو ،اطلاعات کی ترسیل کیسے ہو ،بین الاقوامی تجارت کیسی ہو۔چونکہ آئی ایم ایف جو قرضے دیتا ہے تو مقروض ممالک جن کی آمدنی ان کے قرضوں کے حجم سے کم ہے ان کو یہ شرائط بھی ماننے پڑتے ہیں کیونکہ ادائیگیوں کے لئے ان کو مزید قرضوں کی ضرورت ہوتی ہے لہذا یہ ممالک اپنے مالیاتی اداروں میں ان کے کارندے لگادیتے ہیں جن کا کام آئی۔ ایم۔ ایف کے مقاصد پورا کرنا ہوتا ہے نہ کہ متعلقہ ممالک کے مفادات ۔
تو یہ تو ہے تصویر کا ایک رخ۔ جبکہ اس کا دوسرا رخ ذرا نرم اور سافٹ دکھائی دیتا ہے اور وہ ہے مختلف طریقوں سے امداد یعنی بھیک دینا اور بھیک تقسیم کرنا۔ اس کے لئے عالمی بنک، یواین پی ،یواین ڈی پی اور ڈبلیو ایچ او وغیرہ ادارے ہیں ۔اس بھیک دینے کے بھی اپنے شرائط ہیں جس کا مقصد مغربی تہذیب ،لامذہبیت اور دہریت کا تسلط ہونا ہے ۔کبھی تو وہ نصاب میں تبدیلیوں کی بات منوانا چاہتے ہیں، کبھی تعلیمی اصلاحات کے نام پر اپنا نصاب داخل کردیتے ہیں کہ یہ یہ چیزیں نکال لو اور یہ یہ چیزیں داخل کرو یایہ کہ مدرسوں میں یہ یہ چیز داخل کرو یا اس کو حکومت کے کنٹرول میں لے آؤ ۔بظاہر یہ ان اداروں اور ایجنسیوں کا اچھا چہرہ معلوم ہوتا ہے لیکن مقاصد تو وہی برے بلکہ زیادہ برے ہیں کہ اقتصاد کو تباہ کرنا بھی برا ہے ،جنگ مسلط کرنا بھی براہے اور یہ ان اداروں کا درشت اور تلخ چہرہ ہے لیکن فکر خراب کرنے والا چہرہ بہت ہی برا ہے ۔اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان مقروض ممالک کو جب قرضہ مل جاتا ہے تو یہ ایسی خوشی کا اظہار کرتے ہیں جیسا کہ ان کو مفت کا کوئی خزانہ مل گیا ہو کیونکہ اس کا زیادہ تر حصہ حکمرانوں کے اللوں تللوں میں یا کرپشن میں صرف ہوتا ہے توخوشی تو ان کی بنتی ہے اور جب قرضے کی واپسی کا مطالبہ کیا جاتا ہے یا ان کے ناقابل تسلیم شرائط پوراکرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو پھر ماتم شروع کرتے ہیں
؎ جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتا ہے
اب یہ بات کہ سابقہ حکمرانوں نے لوٹا، پیسے لوٹانے کے لئے قرضے لیے جارہے ہیں تو قوم کے حوالے سے یہ کوئی بات نہیں ہوئی اس لئے کہ اس ملک میں حکمران ایک طبقہ ہے اور ہم جب حکمران کہتے ہیں تو اس سے حزب اقتدار وحزب اختلاف دونوں مراد ہیں اور عوام دوسرا طبقہ ہے اور اسی ایک طبقے نے ہمیشہ اس دوسرے طبقے کو لوٹا ہے اور لوٹ رہا ہے کہ وہی لوگ ہی شاخ بدلتے رہتے ہیں۔
غریب ممالک میں یہ ادارے سیاسی بحران پیدا کرنے کے لئے ایک جانب تو یہ بھیک لینے کا عادی بنانا ہے اور دوسرا یہ پروپیگنڈا جب حالات کہیں کچھ بگڑے ہوئے ہیں کہ فاقہ کشیوں تک نوبت جاسکتی ہے،غربت کا بحران آنے والا ہے ،افراتفری پھیلنے والی ہے مہاجرین کا ایک سیلاب آنے والا ہے یا یہ کہ حکومت کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے ،حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے وغیرہ وغیرہ ۔یہ پروپیگندے دراصل اپنی مقصد براری کے لئے زمین ہموار کرنا ہوتا ہے ۔اور ان کی دیکھا دیکھی ان کے کارندے یعنی این جی اوز وغیرہ نے تو یہی کرنا ہی ہے کہ ان کی تو یہی ڈیوٹی ہے اسی پر تو وہ لاکھوں روپے لیتے اور کماتے ہیں لیکن کچھ ناسمجھ لوگ اس قسم کے پروپیگنڈوں سے متاثر ہوکر ان کی بولی بولنا شروع کردیتے ہیں۔اس مقصد کے لئے یہی عالمی ادارے مظاہرے بھی کرواتے ہیں ،ان کو فنڈنگ بھی کرواتے ہیں۔ان مظاہروں کو پیٹنٹ دیے جاتے ہیں آزادی ،مساوات ،حقوق بالخصوص حقوق نسواں اور ان سب کا مقصد ہوتا ہے مقامی کلچر ،ساخت اور بُنت کو توڑنا تاکہ وحدت نہ رہے ،انفرادیت آجائے اور پھر ان کو اپنے ڈگر پر لانا کوئی مشکل نہ ہو ،حقوق نسواں سے ان کا مقصد خاندانی نظام کو ختم کرنا ہوتا ہے ،عفت اور عصمت کو داؤ پر لگانا۔ اس کے لئے یہ زور لگاتے ہیں کہ عورتوں کا تعلیم اور صحت کے میدان میں زیادہ دخل ہو ۔اب بظاہر تو اس میں کوئی خرابی نہیں بلکہ قابل تحسین ہے لیکن پھر ان کو اپنی پٹی پڑھاکر اپنی ڈگر پر لگادیتے ہیں کہ تعلیم کے میدان میں توبچے استاد سے متاثر ہوتے ہیں، اس کی باتوں کو لے لیتے ہیں اور صحت کے میدان میں تو مریض تو رحم کے طالب ہوتے ہیں ،احسان کے متمنی ہوتے ہیں کہ کوئی ان کا مداوا کرے اور ظاہر بات ہے کہ وہاں تو میڈیکل کو ر والے یہی کام کرتے ہیں تو ساتھ ساتھ ان سے ان کے ذہن میں اس قسم کی باتیں ڈلوائی جاتی ہیں۔یہی تو وجہ ہے کہ مشنریز والے زیادہ تر سکولوں میں دلچسپی لیتے ہیں یا پھر میڈیکل فیلڈ میں اور یا دگرگوں حالات میں بھوکوں کو کھانا کھلانے میں ۔اب تعلیم کے نام پر کسی کو اپنے ایجنڈے پر لگانا یامریض اور بھوکے کی ناگفتہ بہ حالت سے استفادہ کرکے اس کے ذہن میں اپنی بات ڈالنا جو اس کو معلوم ہے کہ ایک ایجنڈا ہے ہماری نظر میں بدترین استحصال اور استغلال ہے ۔ہم تو مسلمانوں سے بھی کہتے ہیں کہ کہیں غیر مسلم بھوکوں کو کھانا کھلاؤ گے تو ان پر کبھی اپنی بات ٹھونسنے کی کوشش نہ کریں یہ زیادتی ہے۔ ہاں اگر وہ آپ کے کردار سے متاثر ہو کر آپ سے پوچھے تو پھر علیحدہ بات ہے ۔ہم تو اس کے بھی قائل نہیں کہ مدرسوں کے لئے بھی ترغیبی اور تحریصی طور پر صدقات والی آیات اور احادیث کے ذریعےیلغار کیا جائے کہ مسلمان ہیں اللہ اور رسولﷺ کے نام اور کلام سے متاثر ہوتے ہیں لیکن ایسے میں ان سے پھر مطالبہ کرنا یہ بھی استحصال اور استغلال ہی کا ایک طریقہ ہے جو حرام اگر نہ بھی ہو تو مکروہ تو ہے ہی اور دین کی بلڈنگ مکروہات پر استوار نہ ہو تو اچھا ہے تاکہ دین کی وہ اصلی صفائی برقرار رہے۔ بلکہ اب تو سننے میں آیا ہے کہ مدرسے میں حدیث اور تفسیر پڑھانے والے کسی جگہ بیان کے لئے اگر مدعو کیے جائیں تو وہ باقاعدہ سودا کرتے ہیں یا ان کے بچے یا کارندے سودا کرتے ہیں ۔یار خدا کا خوف کرو ۔بات تو ذرا ایکس ریٹڈ ہے لیکن شاید ذہن میں اترجائے۔میرے دادا نے مجھے کہا مولوی تو بن گئے لیکن خبردار اگر کسی سے کبھی کچھ طلب کیا حتی کہ اگر بھوکے ہو تو کھانا بھی نہیں مانگنا اور پھر کہا کہ جب مانگو کے اس منہ سے تو کیا پھر اسے کھاؤ گے اس دوسرے منہ سے کہ ایک منہ سے تو دونوں کام اچھے نہیں لگتے۔
تو یہ سارا کیا دھرا سرمایہ دارانہ تحکم اور سرمایہ کے بڑھوتری کا شاخسانہ ہے جس نے اس خوبصورت دنیا کو جو اللہ نے انسان کے لئے پیدا فرمایا ہے ایک جہنم بنادیا ہے ۔ہر بندہ Stressاور ڈپریشن کا شکار ہے ۔لیکن یہ چنگل اتنی مضبوط ہے کہ کوئی اس سے نکل نہیں پاتا بلکہ چا ر وناچار اس نظام کو دوام اور استحکام دینے میں لگا ہوا ہے کہ اس نظام کے دام اور جال نے اس کو اس انداز سے پھنسایا ہے وہ نہ بھی چاہے تو کرے گا وہ جو اس نظام کا تقاضا ہے الا آنکہ خدا فیصلہ کردے کہ بس بہت ہوا اب اس نظام کو لپیٹنا ہے ۔ہاں ہم مکلف ہیں بساط بھر جدوجہد کے کہ اس سے کیسے نجات حاصل ہو ۔
اب بین الاقوامی تعلقات تو اپنی جگہ لیکن اپنے ملک کو دیکھیں تو اس کا سب سے بڑا مسئلہ بددیانتی ہے اور اس بددیانتی میں اکثریت پھنسی ہوئی ہے کہ سرمایہ دارانہ تحکم کی پیدا کردہ ہے تو اس کو اس تحکم کی بچی کہہ لے تو ماں مسلط ہے تو اسی طرح بچی بھی مسلط ہے اس بددیانتی نے ملک وقوم کو عالمی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف کے ہاں گروی رکھ دیا ہے۔اب انہوں نے کسی پر رحم تو نہیں کرنا کہ رحم سرمایہ داری کے مزاج میں نہیں بلکہ یہ ادارے تو بنے ہی ہیں بے رحمی کے لئے جو وہ کررہے ہیں ۔
اب ایک ہی صورت ہے کہ جنہوں نے بددیانتیاں کی ہیں وہ لوٹ مار کے اس مال کو اگر سارا نہیں تو ایک معتد بہ حصہ اس ملک وقوم کے خزانے کو لوٹائیں تاکہ اس کے قرضے ادا ہوں ۔اور جو اب اختیار رکھتے ہیں وہ خدا کو حاضر ناظر جان کر عزم کریں کہ ہم نے اس ملک کو لوٹنا نہیں بلکہ اس کو لوٹانا ہے تو پھر کوئی مشکل نہیں کہ اس قوم کو حریت وآزادی ملے۔یہ اپنے لئے سوچیں، اپنی فکر کے لئے سوچیں، اپنے نظریئے کے لئے سوچیں اور خود داری کی زندگی گزارے پھر نہ تو کوئی آپ کو ڈکٹیشن دے گا نہ کوئی آپ کو وارننگ دے گا اور نہ ہی آپ کے فکر ونظر کے برخلاف آپ سے کوئی ڈیمانڈ کرے گا۔ ورنہ جو زیر دست ہوں ان کی تو کوئی بات ہی نہیں ہوتی یعنی ان کی بات کو کوئی وزن نہیں دیتا۔یعنی پھر آپ غیرتی تصور کیے جائیں گے اور غیرتی کو کوئی ڈکٹیشن نہیں دیتا ۔اور کسی قوم کے اسبابِ غیرت چار ہوتے ہیں
۱۔علوم میں تقدم کہ اس سے اس قوم کی معنویت ہوتی ہے یعنی اس کی روحانی قوت مضبوط ہوتی ہے ۔
۲۔اقتصادی ترقی کہ اس سے ان کی مادیت قوی ہوتی ہے ۔
۳۔عرفی حیثیت کہ اس سے اس قوم کی عزت ووقار میں اضافہ ہوتا ہے ۔
۴۔اور اندرونی وبیرونی تعلقات ۔اندرونی یوں کہ وہ بمعہ اختلاف زبان ولسان یا قومیت وقبیلہ وخطہ کے ایک وحدت ہوں اور یوں ان میں مضبوطی ہو اور بیرونی تعلقات کہ یوں اس کے حلقہ میں وسعت آجاتی ہے تو اس کے لئے بددیانتی سے ہر ہر فرد اور ہر ہر طبقہ نے توبہ کرنا ہے تو پھر
؎ مشکلے نیست کہ آسان نہ شود
مرد باید کہ ہراسان نہ شود
764 total views, no views today



