معذوری کی کئی قسمیں ہیں۔ میڈیکل کی اصطلاح میں ہینڈی کیپ کی تعریف یوں ہے کہ کوئی بھی جسمانی یا ذہنی نقص جو پیدایشی ہو یا دورانِ زندگی پیدا ہوا ہو، جو ایک فرد کو ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنے سے روکتا ہو، وہ ’’معذوری‘‘ کہلاتا ہے۔ ’’ہیلپنگ ہینڈز‘‘ نامی تنظیم کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2103ء کے آخر تک ملک بھر میں جسمانی معذور افراد کی تعداد پچاس لاکھ ہے۔ تاہم اصل تعداد اس سے زیادہ ہے۔ کیوں کہ عموماً غیر سرکاری تنظیموں کی پہنچ دور دراز علاقوں تک مشکل ہوتی ہے جب کہ وزارت برائے سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کے اعداد کے مطابق ملک کی آبادی کا دو اعشاریہ پانچ فی صد معذور افراد پر مشتمل ہے۔ معذوری دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک ذہنی اور دوسری جسمانی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معذوری قدرت کی طرف سے ہوتی ہے، تاہم ہم نے معاشرہ میں اپنے مجموعی رویہ کی بناء پر معذور افراد کو ایک الگ ذات کی حیثیت دے رکھی ہے۔ ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جسمانی اور ذہنی معذور افراد کو ہم ایک ہی طرح سے معاشرہ میں ڈیل کرتے ہیں جس کی وجہ سے جسمانی معذور افراد معاشرہ میں بے فایدہ پرزے کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں۔ حالاں کہ اس میں سارا قصور معاشرہ کا ہوتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جسمانی معذور بھی ہماری ہی طرح نارمل انسان ہوتے ہیں، تاہم انھیں زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور معاشرہ میں ان کے لیے سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
مذکورہ بالا دو قسموں کے علاوہ ماہرین نفسیات کے مطابق ایک معذوری نفسیاتی یا سماجی معذوری بھی ہوتی ہے۔ جب بھی ایک انسان کو معاشرہ اور گرد و نواح میں سب کچھ برا ہی نظر آتا ہے اور وہ کچھ اچھا سوچنے کی کوشش نہیں کرتا، نا ہی معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو ایسے شخص کو انگریزی اصلاح میں pessimistic کہتے ہیں لیکن نفسیات کی اصطلاح میں یہ ’’سماجی مفلوج‘‘ یا معذور ہوتا ہے۔ تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر کوئی معذور انسان خود کو اندر سے مظبوط کردے، تو وہی معذوری اس کے لیے طاقت بن جاتی ہے اور اسے معاشرہ میں عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔
کچھ ہی دنوں پہلے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں پاکستان وہیل چیئر کرکٹ ایسوسی ایشن نے نیپال وہیل چیئر کرکٹ ٹیم کو تین میچوں کی ٹونٹی ٹونٹی سیزیز میں تین صفر سے شکست دے کر جہاں ایک طرف ملک کا نام روشن کیا ہے، تو دوسری طرف کرکٹ ورلڈ کپ میں مصروف قومی ٹیم کے لیے بھی بلاواسطہ ایک پیغام دیا ہے کہ جنگ اور کھیل جیتنے کے لیے جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مراعات اور زیادہ سہولیات انسان کو کاہل بنا دیتی ہیں۔ مذکورہ کرکٹ ٹورنامنٹ فروری کے آخری ہفتہ میں نیپال میں کھیلا گیا تھا جس میں پاکستان کے معذور کرکٹ کے کھلاڑیوں کی ایک ٹیم نے نیپال کی ٹیم کو شکست دی۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ ٹیم معذور افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت بنائی ہے اور سرکاری سطح پر اسے کوئی سر پرستی حاصل نہیں ہے۔ مذکورہ کرکٹ ٹیم میں کل گیارہ کھلاڑی ہیں جو کہ جسمانی طور پر معذور ہیں اور وہیل چیئر کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس ٹیم میں صوبہ خیبر پختون خوا سے صرف ایک کھلاڑی شامل ہے جس کا نام اسد اللہ اور تعلق مردان کے شہری علاقہ سے ہے۔ پچیس سالہ اسداللہ بچپن سے پولیو کا شکار ہے اور اپنی زندگی اس نے وہیل چیئر میں گزاری ہے۔ گذشتہ دنوں راقم نے اس سے خصوصی طور پر باتیں کیں جب وہ نیپال میں ٹورنامنٹ جیتنے کے بعد گھر لوٹے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضرور ہو جائے کہ حالیہ ٹورنا منٹ میں انھوں نے دو مرتبہ مین آف دی میچ، ایک مرتبہ بیسٹ بیٹس مین آف دی میچ اور ایک دفعہ مین آف دی سیرز کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔ یہ ٹورنا منٹ نیپال کی خود مختار تنظیم برائے معذور افراد نے منعقد کیا تھا جس میں پاکستان کی ٹیم کو خصوصی دعوت دی گئی تھی۔ کھلاڑی اسداللہ گیارہ مرتبہ پاکستان وہیل چیئر ریسنگ کا چمپئن بھی رہ چکا ہے جب کہ 2014ء میں جنوبی کوریا میں ایشین گیمز میں بھی پاکستان کی نمایندگی کر چکا ہے، جہاں دو سو میٹر اور چار سو میٹر کی دوڑ میں اس نے چھٹی پوزیشن لی تھی اور طلائی تمغے حاصل کیے تھے جب کہ تاجکستان میں منعقد پاکستان زور خانہ ایونٹ میں ویٹ لفٹنگ کے مقابلہ میں بھی دوسری پوزیشن لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کے ذہن میں خیال آیا کہ آیا انھیں دوسرے معذور افراد کی طرح گھر پر بوجھ بننا ہے یا پھر اپنی کم زوری کو اپنی طاقت بنانا ہے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انھوں نے علاقائی سطح پر معذور افراد جو وہیل چیئر پر زندگی گزارتے ہیں، پر مشتمل ایک ٹیم بنائی اور اپنی مدد آپ کے تحت کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ لگن اور محنت کا نتیجہ تھا کہ آج وہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمایندگی کر رہے ہیں۔ مشکلات کے حوالہ سے ان کا کہنا تھا کہ شروع میں ان جیسے افراد کو سب سے بڑی مشکل ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں ہوتی ہے۔ اس ملک میں معذور افراد کے لیے کوئی خصوصی ٹرانسپورٹ نہیں ہے۔ گھر سے بازار تک تو وہیل چیئر میں چلا جا سکتا ہے لیکن ایک شہر سے دوسرے شہر جانے میں بڑی مشکلات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ کسی بھی سرکاری دفتر میں یا بڑے بڑے پلازوں میں وہیل چیئر کے لیے کوئی خصوصی راستہ نہیں بنایا جاتا، حالاں کہ باہر کے ممالک میں اس چیز کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ ابھی تک صوبائی حکومت یا ضلعی انتظامیہ کو اس بات کا پتہ نہیں ہے کہ ان کے صوبہ کا کوئی معذور کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر کرکٹ ٹورنا منٹ جیت کر آیا ہے۔
اسد اللہ اور اس جیسے دوسرے بہت سے افراد ہیں جو بہ ظاہر معذور ہوتے ہوئے بھی معاشرہ میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان معذور افراد کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہیں جو کہ معذوری کی وجہ سے گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ تاہم ہمارا المیہ یہ ہے کہ معاشرہ مجموعی طور پر اس طرح کے لوگوں کو بوجھ سمجھتا ہے اور اس بوجھ کو کبھی کار آمد بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان کے سرکاری اداروں میں معذور افراد کے لیے دو فی صد کوٹہ تو مخصوص ہے، تاہم اس پر عمل نہیں کیا جاتا اور اس کوٹہ پر اکثر سیاسی لوگ بھرتی ہوجاتے ہیں جو گھر بیٹھے تن خواہیں وصول کرتے ہیں۔
انسان کو جینے کے لیے پیسہ اور روزگار چاہیے ہوتا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی صحت مند انسان بھی زیادہ دن گھر پر بے کار پڑا رہے، تو گھر والے اسے بوجھ سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں معذور افراد گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں یا اکثر اوقات بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر تین دسمبر کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام معذور افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں بھی اس دن اسلام آباد، لاہور یا کراچی کے پنچ ستاری ہوٹلوں میں تقاریب منعقد ہوتی رہتی ہیں جس میں انٹرنیشنل این جی اوز کے نمایندے، وزارت سماجی بہبود و خصوصی افراد کے کھرتا دھرتا اور کچھ گنے چنے معذور افراد شرکت کرتے ہیں جس میں تقریریں ہوتی ہیں اور پھر بوفٹ اڑانے کے بعد فوٹو سیشن ہوتے ہیں لیکن زمینی حقایق میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آرہی۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ذہنی اور جسمانی معذور افراد کو معاشرہ ایک ہی عینک سے دیکھتا ہے جس کی وجہ سے جسمانی معذور افراد بھی زندگی کے ایک خاص مقام پر ذہنی مفلوج ہو جاتے ہیں ۔
حرف آخر یہ کہ معذور افراد کے لیے جہاں ایک طرف سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، تو دوسری طرف معاشرہ کو بھی ان افراد کے لیے اپنا رویہ تبدیل کرنا پڑے گا۔ خیرات اور زکوات کی بجائے ان لوگوں کی کم زوری کو ان کی طاقت بنانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ادارروں میں معذور افراد کے کوٹہ پر من و عن عمل در آمد کی ضرورت ہے۔ اس تحریر کے ذریعے ان والدین کی توجہ بھی اس طرف مبذول کرانا ضروری ہے جو پولیو کی ویکسین کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کی وجہ سے اپنے آنے والی نسلوں کو معذوری کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
1,062 total views, no views today


