سوات:ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ نے ریجنل بلڈ سنٹر سوات کے 45 ملازمین کو فارغ کرنے کا عندیہ دے دیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ دفتر کے اعلامئے کے مطابق 31 دسمبر 2021 کو ریجنل بلڈ سنٹر سوات کے تمام ملازمین کی مدت ملازمت ختم ہو جائے گی جس کے بعد ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ہسپتالوں خاص کر سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال اور تھلیسیما سنٹرز کو بیماریوں سے پاک اور صاف مفت خون کی فراہمی بند ہو جائے گی۔
ادارے کے ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہفتہ کے اندر اندر ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے انکے حق میں کوئی مثبت فیصلہ نہ کیا تو وہ سراپا احتجاج ہونگے اور مذکورہ سنٹر میں کام چھوڑ کر سنٹر بند کر دینگے جسکے بعد کسی بھی نقصان کی زمہ داری حکومت وقت اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ پر ہوگی۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اب انکے پاس احتجاج کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کا یہ فیصلہ انکے مستقبل کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ مذ کورہ سنٹر کو چلانے کیلئے صوبائی حکو مت نے ملازمین کے بھرتی کے طریقہ کار (Selection Process) یعنی ایٹا ٹیسٹ (ETEA Test) اورانٹرویو (Interview) کے ذریعے باقاعدہ شفاف طریقے سے میرٹ پر نہایت کوالیفائڈ سٹاف کی تقرری کے بعد اسی سٹاف کو بین الا قومی معیا ر کے مطابق ٹر نینگ دی اور تر بیت مکمل کر نے کے بعد یہ ملا زمین ریجنل بلڈ سنٹر سوات (RBC Swat) میں بین الا قومی معیار اور اصولوں کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں ہزاروں مریضوں کوخون اورخون کے مختلف اجزاءمفت اور بلامعاوضہ فراہم کر رہے ہیں۔
مزيد یہ کہ مذکورہ سنٹر میں تعینات تربیت یافتہ کوالیفائڈ ملازمین نے حال ہی میں بنے دو بلڈ ٹرانسفيوژن سنٹرآيبٹ آباد (RBC Abbottabad) اور بلڈ ٹرانسفيوژن سنٹرڈی آئی خان (RBC D.I Khan) کے ملازمين کو بلڈ ٹرانسفيوژن سنٹرکی state of the art مشينوں کی تربيت بھی دی۔
ملازمین نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے انصاف کے لئيے ہر ادارے، ایم پی اے، ایم این اے اور وزیر اعلئ کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن اب تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا ۔
ملازمین کا مزيد کہنا ہے کہ ایک پالیسی کے تحت پرانے ملازمین کو فارغ کرکے نئے ملازمین کو بھرتی کرنے کے لئے راہیں ہموار کی جا رہی ہے جوکہ موجودہ ملازمین کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
یاد رہے کہ جرمنی حکومت کے تعاون سے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ نے ریجنل بلڈ سنٹر سوات قائم کیا تھا جس کا مقصد ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ہسپتالوں کو بیماریوں سے پاک صاف مفت خون کی فراہمی تھی۔ کورونا وائرس کی مہلک وبا کے باوجود مذکورہ ادارے کے ملازمین نے دن رات ایک کرکے اس ادارے کو سوات بلکہ پورے ملاکند ڈويژن کا سب سے کامیاب ترین ادارہ بنایا اور اس بات کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ اس ادارے کے وجود میں آنے کے بعد اب تک ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ہسپتالوں اور تھيليسميا فاونڈيشن میں خون کی فراہمی کی وجہ سے ایک مریض کی بھی جان ضائع نہیں ہوئی ہے۔
سنٹر کی کامیابی کا ایک منہ بولتا ثبوت یہ بھی ہے کہ 1 سال کے دورانئے میں سنٹر نے 50 ہزار سے زائد مریضوں کو مفت خون فراہم کیا۔
جن ملازمین نے دن رات ایک کرکے ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ہسپتالوں میں بیماریوں سے پاک صاف خون اور خون کے اجزاء مہیا کئے آج انہی ملازمین کو برطرف کرنے کا عندیہ دے کر اس بات کا ثبوت دیا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔
حکومت وقت سے ہمدردانہ گزارش ہے کہ اپنے پالیسیوں پر نظر ثانی کر کے جملہ ملازمين (RBC Swat) کو اپنی ملازمت پرمستقل کرےاور Notification جاری کرے تاکہ مذکورہ ملازمين ذہنی دباؤ کے بغيرآپنےکام کوآحسن طريقےسے جاری رک سکے۔
842 total views, no views today



