مجھے مراد سعید کی ڈگری یا پرچوں کی کوئی پروا نہیں۔ کیوں کہ یونی ورسٹی انتظامیہ یا پھر عدالت جلدی یا بہ دیر اس کا کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈ نکال لے گی لیکن مجھے جس چیز کی پروا ہے، وہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج بھی تعلیمی نظام جی پی اے، گریڈز، رٹوں اور فرسودہ روایات سے باہر نہیں نکلا۔ میں خود یونی ورسٹی میں پڑھاتا ہوں اور پاکستان میں تعلیمی ادارے جس طرح دھڑا دھڑ فیسوں کے بدلے ڈگریاں فروخت کر رہی ہیں، آپ سفارش، نقل ، پرائیویٹ ماسٹرز، علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اور نئی تعمیرشدہ یونی ورسٹیوں کی ڈگریوں میں ناقص امتحانی نظام کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ جس بات کا مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، وہ یہ ہے کہ ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کے جذبہ سے سرشار نوجوان کو جس طرح وجۂ تمسخر بنایا گیا، اگر خدانخواستہ حالات کا دھارا یوں ہی چلتا رہا، تو وہ دن دور نہیں کہ جب کوئی بھی طالب علم اپنا تعلیمی کیریر داؤ پر لگا کر سیاست کے اس ظالم دریا میں قدم نہیں رکھے گا جس پر پہلے ہی بڑے بڑے مگر مچھوں کا قبضہ ہے۔
قارئین، آپ مجھ پر مراد سعید کے بارے میں جانب دار ی کا ٹھپہ لگا سکتے ہیں لیکن چوں کہ میں اسے بہت قریب سے جانتا ہوں اور اس کی محنت، لگن اور جدوجہد کا چشم دید گواہ ہوں، لہٰذا میں اسے اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی ایک سعی سمجھتا ہوں ۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ جس وقت مراد سعید یونی ورسٹی میں سیاست کی نئی روش اور نئے انداز متعارف کر رہا تھا، اس وقت پشاور یونی ورسٹی میں سیاست کا یہ عالم تھا کہ کچھ پارٹیوں کے عہدہ دار اپنے کمروں میں کھلے عام شراب نوشی اور چرس کی سوندھی خوش بو سے دل بہلاتے تھے۔ ہوٹلوں میں کھانا فری میں کھاتے تھے اور اگر کوئی ویٹر یا ہوٹل مالک پیسے مانگنے کی جسارت کرتا، تو اس کی وہ درگت بنائی جاتی کہ بے چارے کو بوریا بستر گول کرنا پڑتا اور یونی ورسٹی انتظامیہ بھی پریشر میں آکر طلبہ تنظیموں کے حق میں فیصلہ کرکے معاملہ رفع دفع کردیتی۔ پشاور یونی ورسٹی کے مدینہ مارکیٹ کا ایک گونگا جس کی جوس کی دکان تھی، کو ایک سیاسی تنظیم کے عہدہ داروں نے اتنا مارا تھاکہ اس بے زبان کو خیبر ٹیچنگ اسپتال میں اپنا کاروبار منتقل کرنا پڑا اور آج بھی اشاروں سے ان بدمعاشیوں کے قصے سنا تا ہے۔ کچھ طلبہ تنظیموں نے یونی ورسٹی کے کمروں پر زبردستی قبضہ جماکر اپنے دوستوں میں تقسیم کردیے تھے اور بعض کے کمروں میں اتنا اسلحہ پڑا ہوا تھا کہ یونی ورسٹی انتظامیہ میں کسی کو جرأت نہیں تھی کہ ان پر ہاتھ ڈال سکے۔ بعض تنظیموں کے عہدہ دار نقل کو اپنا بنیادی اور سیاسی حق سمجھتے تھے اور اگر کوئی ٹیچر انھیں روکنے کی کوشش کرتا، تو سب مل کر اس کی ایسی دھلائی کرتے کہ دیگر اساتذہ ان کے قریب جانے کتراتے ۔ ایسے حالات میں مراد سعید نے جس قسم کی سیاست کو پروان چڑھایا وہ سیاست، امن، محبت، تعلیم اور اتفاق واتحاد کی سیاست تھی۔ اس نے آئی ایس ایف کو ’’محبت فاتح عالم‘‘ کا نعرہ دیا جسے میں خود اپنے ان ہاتھوں سے سیکڑوں چارٹس، بینرز اور اشتہارات پر لکھتا رہا اور جو بعد میں آئی ایس ایف کا مستقل نعرہ بنا۔ اس نے طلبہ کو تعلیم کی طرف راغب کیا۔ اس کے فیڈریشن میں ڈاکٹرز اور انجینئرز شامل تھے۔ زرعی یونی ورسٹی کا ایک عہدہ دار جسے مراد سعید نے ذمہ داری دی تھی، ابھی ابھی پی ایچ ڈی کرکے بیرون ملک سے آیا ہے اور میرے ساتھ ہی یونی ورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تعینات ہے۔ اس نے ساؤتھ کوریا اور چین میں پاکستان کی نمایندگی کی۔ پشاور یونی ورسٹی میں بلڈ ڈونرسوسایٹی اور خیبر لٹریری کلب کا صدر رہا۔
مراد سعید بیک وقت سیاست، شاعری اور فن تقریر میں اپنی شناخت اور پہچان بنا رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کے دوستوں نے آل پاکستان مقابلوں میں پشاور یونی ورسٹی کا لوہا منوایا۔ اگر مراد سعید تقریر میں پہلی پوزیشن لیتا، تو خالد لطیف کیف شاعری میں، نوید خان پینٹنگ میں، تصور زمان بابر نعت خوانی میں، منصور احمد فوٹوگرافی میں اور عایشہ الیاس مضمون نگاری میں پہلی پوزیشن پر قبضہ جمالیتی۔ یہ گروپ کسی ملک کی کسی بھی یونی ورسٹی میں آل پاکستان مقابلوں کے لیے جاتا، تو گورنمنٹ کالج لاہور اور این سی اے جیسے اداروں پر سکتہ طاری ہوجاتا۔ کیوں کہ اکثر ٹاپ پوزیشن پر یہ گروپ قبضہ جما لیتا۔ یہاں تک کہ مراد سعید اور ثاقب جہان نے صوبہ پختون خوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آل پاکستان تقریری مقابلہ جیت کر پشاور یونی ورسٹی کو علامہ اقبال شیلڈ سے نوازا۔ اس وقت کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے صوبہ پختون خوا کے ڈایریکٹر جناب فرمان اللہ انجم بھی اس طالب علم کا گرویدہ بنا۔ ان سب نے پشاور یونی ورسٹی کو جتنی عزت افزائی دی اورپشاور یونی ور سٹی کی انتظامیہ کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن خود یہ عظیم مادر علمی ان ہونہار طالب علموں کی عظمت کی گواہ ہے اور تا حیات ان کی مشکور رہے گی۔ وہ الگ بات ہے کہ اساتذہ کی سیاست طالب علموں جب کہ سیاست دانوں کی باہمی رقابتیں پوری قوم کو ڈبو دیتی ہیں اور یہی سب کچھ آج مراد سعید کے ساتھ ہو رہا ہے۔
جس طریقہ سے اسے اذیت دی گئی، میڈیا پر جس انداز سے اس کی نیک نامی پر کیچڑ اچالا گیا، اس کے گھر والوں کو جس اذیت سے دوچار ہونا پڑا، اس کے حلقۂ انتخاب میں جس طریقہ سے باقاعدہ پمفلٹ چھاپ کر اس کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا اور جس طریقہ سے سیاسی چالوں سے ناآشنا جذباتی نوجوان کی حوصلہ شکنی کی گئی، اگر اتنی پھرتی پارلیمنٹ میں موجود سرمایہ داروں کے ساتھ ہوتی، جو پیسوں سے جعلی ڈگری خرید کر لیڈر بنے ہوئے ہیں، تو شاید اس ملک کا سارا نظام ٹھیک ہوجاتا اور پارلیمنٹ کے جعلی ڈگری ہولڈرز ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو اپنی ڈگریوں کی ویری فیکیشن روکنے کے لیے اس ادارہ کو ختم کرنے کی دھمکیاں نہ دیتے اور شاید ملک کے ایک شورش زدہ صوبہ کی باگ ڈور ایسے نان سیریس سیاست دان کے ہاتھ میں دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی جو آج بھی ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘‘ کے ڈائیلاگ پر قایم ہے۔ غیر ڈگری یافتہ سابق صدرزرداری، قاید اعظم کے پاس ڈگری نہ ہونے کا بیان نہ دیتا۔ اس کا ہی ایک وفاقی وزیر کرپشن کو اپنا حق نہ سمجھتا۔ اے این پی دور کے پشاور یونی ورسٹی کے وایس چانسلرپلیجرزم میں نہ پکڑے جاتے اور پاکستان کے سیاست دانوں کو سینٹ کے ٹیکنوکریٹس، دانش وروں اور علماء مشایخ کی سیٹوں کے لیے بولیاں لگانے کی ضرورت درپیش نہ ہوتی۔
مجھے مراد سعید سے اگر آخر تک ایک شکوہ رہا، تو وہ یہی تھا کہ اس کرپٹ سسٹم کا حصہ بن جانے سے بہتر ہے کہ کسی ایسی سیاسی پارٹی یا تنظیم کا حصہ بنا جائے جو اسے جڑسے اکھاڑ پھینکنے میں مدد کرے۔ میں نے اسے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کا نظام اس قدر کرپٹ ہوچکا ہے کہ اگر عمران خان اقتدار سنبھال بھی لے، تو اسے سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ اسے ٹھیک کریں، تو کیسے ؟ بدلے میں اسے گالیاں پڑیں گی اور شاید وہ سب کچھ آج سچ ثابت ہورہا ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
846 total views, no views today


