فاروق جان. کراچی
ہمارے ہاں، خاص کر نوجوان لڑکوں میں ایک عادت سی ہوگء ہے.
آپ نے اکثر دیکھا ہوگاکہ بعض لوگ چاہے بڑے ہو یا چھوٹے،
اپنے دوستوں یاکسی اور کو بلاوجہ برے ناموں سے پکارتے ہیں، بعض لوگ تو اپنے دوستوں کو ادھورے ناموں سے بھی پکارتے ہیں.
یہ ہم میں بھت بری عادت ہے اور نہ صرف بری عادت ہے بلکہ ایسے لوگوں سے اللہ تعالی بھی ناراض ہوجاتاہے.
کہنے کو تو ہم صرف نام ہی بگاڑتے ہیں یاادھورے نام سے پکارتے ہیں، مگر اس طریقے سے نام کے معنوں میں بہت بڑی تبدیلی ہوجاتی ہے،
مثلا فرض کریں کہ ایک لڑکے کانام “عبدالشکور” ہے.
عبد کا مطلب ہے بندہ.
“الشکور” اللہ تعالی کانام ہے.
اور اب اگر ہم اسے “عبدالشکور” کہنے کے بجائے “شکور” کہہ کر بلائے تو اس کا مطلب “اللہ” بن جاتاہے.
یعنی کہ ہم اس لڑکے کو “اللہ” کہتے ہیں (نعوذباللہ).
یہ کتنا بڑا گناہ ہے، بلکہ ایک طرح سے تو یہ شرک بھی ہے.
جہاں تک برے نام سے پکارنے کا تعلق ہے تو اس سے اللہ تعالی منع فرماتاہے، کیوں کہ اس طرح لوگوں کی بیعزتی اور توہین ہوتی ہے.
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:
“مومنو! کوئی مرد کسی مرد سے تمسخر نہ کرے. ممکن ہے کہ وہ ان سے بھتر ہو اور نہ عورتیں’ عورتوں سے.
ممکن ہے وہ ان سے اچھی ہوں اور آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو. اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو. اور جو اس روش سے توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں.”
دیکھا دوستوں،
اللہ نے برے نام سے یاد کرنے والوں کو ظالم قرار دیاہے. کیا آپ ظالم بننا پسند کریں گے؟
یقیناًنہیں!
آئیے آج ہی عہد کریں کہ ہم آئندہ کسی کو برے نام سے نہیں پکاریں گے.
686 total views, no views today


