روزِ اول سے پاکستان میں مربوط انتظامی ، سیاسی اور معاشی ڈھانچہ توکسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے لیکن اس نظام کی بنیادی جز کی عدم دست یابی یعنی نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہ ہونے کی وجہ سے علاقائی مسایل میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور طاقت کا مرکز اسلام آباد یا پھر صوبائی دارلحکومتیں ہے۔ علاقائی حکومتوں کے قیام میں جہاں سیاسی حکومتوں نے تنگ دلی کا مظاہرہ کیا، وہاں انھی سیاسی حکومتوں کی بساط لپیٹنے والوں نے مقامی حکومتوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور بہ جائے ترقیاتی و انتظامی امور کے، ان مقامی حکومتوں کو برائے نام سماجی اور اصلاحی سرگرمیوں میں مشغول رکھا گیایا پھریہ لوگ ریفرینڈمز میں آمروں کے لیے جعلی ووٹ ڈھونڈتے رہے۔
آئینی طور پر مقامی حکومتوں کی ضرورت کے پیچھے قومی اور صوبائی سطح سے اختیارات ضلع، تحصیل اور گاؤں کی سطح پر منتقل کرنے کا ایک جواز موجود ہے۔ کیوں کہ اس سے نہ صرف جمہوریت کو استحکام ملتا ہے بلکہ علاقائی حکومتیں سرکاری اداروں تک عام لوگوں کی رسائی ممکن بنا دیتی ہیں۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ علاقائی حکومتوں میں شامل ہونے کے بعد سیاسی ورکرز اور لیڈران کی تعداد میں اضافہ ہوا جو علاقہ کے لوگوں کی آواز لے کر اعلیٰ ایوانوں میں پہنچ تو گئے لیکن تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے کوئی خاص تبدیلی نہ لاسکے۔ ریاستی وسایل تک رسائی اور ان وسایل کی منصفانہ یا مساویانہ تقسیم کا تصور منتخب اور مؤثر مقامی حکومتوں کے بغیر سراب ہی ہے۔ اسی طرح شہریوں کو فیصلہ سازی میں ریاست کے ساتھ شامل کرنا اور شہری سہولتوں کی فراہمی فعال مقامی حکومتوں کے عدم موجودگی میں ممکن نہیں۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے اپنے زیادہ تر معاملات میں با اختیار ہوئے اور علاقائی حکومتوں کے قیام کی ذمہ داری ان کوتفویض کی گئی۔ تاہم ایسا آئین کے ارٹیکل 140-A میں شق 1 اور 2 شامل کرنے کے بعد کیا گیا۔ 2010ء میں بلوچستان اسمبلی نے قانون سازی کرکے مقامی حکومتوں کی راہ ہم وار کی اور بالآخر 2013ء کے آخر تک الیکشن کا عمل شروع کرنے میں بازی لے گئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے دیگر تین صوبوں نے قانون سازی کی اور اب امید کی جارہی ہے کہ مئی میں کافی عرصہ بعدخیبر پختون خوا میں لوکل باڈیز انتخابات منعقد ہوں گے۔
موجودہ قوانین کے مطابق یونین کونسل کی جگہ وارڈ اور ہر وارڈ کے اندر ولیج کونسل متعارف کرایا جا رہاہے۔ ایک ولیج کونسل کی آبادی دو ہزار سے لے کر دس ہزار تک ہوگی جس میں میں آبادی کے لحاظ سے پانچ سے لے کر دس تک جنرل کونسلرز منتخب ہوں گے۔ کسی بھی ولیج کونسل کی کونسلرز کی تعداد معلوم کرنے کے لیے کونسل کی کل آبادی سے دو ہزار منفی کرکے پانچ میں ضرب دینے کے بعد آٹھ پر تقسیم کریں۔ جنرل کونسلرز کے علاوہ نوجوانوں، کسانوں اور اقلیتوں کے لیے ایک ایک اور خوتین کے لیے دو نشستیں متعین کی گئی ہیں۔ غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے ولیج کونسل کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا فرد کونسل کا چیئرمین اور دوسرے نمبر پر زیادہ ووٹ لینے والا وایس چیئرمین ہوگا۔ جنرل کونسلر کے سیٹ کے امیدوار کے لیے لازمی ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہو، شناختی کارڈ کا حامل اور رجسٹرڈ رائے دہندہ ہو، علاقہ کا باشندہ ہو اور کسی عدالت سے سزایافتہ نہ ہو۔ نوجوانوں کی نشست کے لیے عمر کی آخری حد تیس سال ہے جب کہ کسان سیٹ پر انتخاب لڑنے کے لیے کسان کے پاس پانچ ایکڑ ملکیتی زمین کا ہونا لازمی ہوگا۔
شہری علاقوں میں ولیج کونسل کی بہ جائے مضافاتی کونسل بنائے جائیں گے جن کی ساخت ولیج کونسل جیسی ہوگی۔ ولیج یا مضافاتی کونسلز علاقہ میں موجود تمام سرکاری اداروں کی خدمات میں بہتری لانے کے لیے ان کی نگرانی اور سہل کاری کی ذمہ دار ہوں گے اور مقامی شہری مسایل کی نشان دہی اور معمولی نوعیت کے جھگڑے نمٹانے کا کام بھی ان کے ذمے ہے۔ علاقائی حکومتوں کی ساخت میں تبدیلی کرکے یونین کونسل کی جگہ وارڈز قایم کیے گئے ہیں۔ ہر ایک وارڈ سے ایک نمایندہ تحصیل کونسل کے لیے اور ایک ضلع کونسل کے لیے بلاواسطہ مگر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہوں گے۔ آزاد حیثیت میں تحصیل اور ضلع کونسلرز منتخب ہونے کی صورت میں تین دن کے اندر اندر کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ الحاق کا اعلان کرنا لازمی ہوگا۔
ولیج یا مضافاتی کونسل کے بعد علاقائی حکومتوں کا دوسرا اہم ستون تحصیل کونسل یا ٹاؤن کونسل ہے۔ وارڈ سے منتخب ہونے والے تحصیل کونسلرز اپنے لیے تحصیل یا ٹاؤن ناظم اور نایب ناظم کا انتخاب کریں گے۔ یاد رہے کہ تحصیل یا ٹاؤن کونسل ٹیکسوں، جرمانوں اور دیگر آمدنی کا تعین کرے گا۔ میونسپل سروسز کی فراہمی کے لیے قوانین کی منظوری دے گا۔ ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور اطلاق، مختلف کمیٹیوں کی تشکیل اور تحصیل یا ٹاؤن کے مالی اور انتظامی معاملات کی منظوری جیسے ذمہ داریاں اس کونسل کو دی گئی ہیں۔
ضلعی کونسل مقامی حکومتوں کا تیسرا اور آخری ستون ہے جس کے لیے ہر وارڈ سے ایک نمایندہ بلاواسطہ اور جماعتی بنیادوں پرمنتخب ہوگا۔ ضلعی کونسل میں نوجوانوں، کسانوں اور اقلیتوں کے لیے نشستیں مختص ہیں۔ تاہم ان کی تعداد کا تعین سیاسی جماعتوں کی جیتی ہوئی نشستوں کی بنیاد پر ہوگا۔ تمام ضلعی کونسلرز اپنے لیے ضلعی ناظم اور نایب ضلعی ناظم کا انتخاب کریں گے۔ ضلعی کونسل سالانہ ضلعی بجٹ اور ماسٹر پلان کی منظوری کا ذمہ دار ہوگا اور ضلع بھر میں کام کرنے والے اداروں کا نگران اور سہولت کار ہوگا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سوات میں چوالیس مضافاتی کونسل، سڑسٹھ وارڈز اور ایک سو اکہتر ولیج کونسلز بنائے گئے ہیں۔ مقامی حکومتوں کی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو مقامی حکومتوں کے بارے میں شعور و آگاہی پھیلانے کے لیے کام کرنا چاہیے تا کہ ملک میں موجود ہ گھایل اور معزور جمہوریت کو مظبوط سہارا دیا جا سکے۔ کیوں کہ ترقی جمہوریت میں ہی پھلتی پھولتی ہے۔
754 total views, no views today


