اکیس مارچ پاکستان سمیت دُنیا بھر میں جنگلات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصدعوام میں ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے کے لیے جنگلات کی اہمیت کے متعلق شعور اُجاگر کرنا ہوتا ہے۔دنیا میں پہلی بارجنگلات کا عالمی دن اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے کہنے پر اکیس مارچ 2013ء کو منایا گیا اور دنیا بھر میں قدرت سے محبت کرنے والے لوگوں اور ماہرین نے یو این کی اس کاوش کو سراہا۔ دنیا بھر میں جنگلات کے عالمی دن کے موقعہ پرمختلف تنظیموں کی طرف سے سمینارز اور تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جس سے خطاب کے دوران میں ماہرین اور مبصرین جنگلات کی اہمیت اور افادیت بیان کرتے ہیں اور اس طرح اس موقعہ پر لاکھوں نئے درخت بھی لگائے جاتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بال کے لیے بھی اقدام کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا میں ہر سال دو کروڑ کے لگ بھگ درخت ایندھن اور دوسرے مقاصد کے لیے کاٹے جاتے ہیں جوکہ لمحۂ فکریہ ہے۔
یہ سب تھیں باقی ماندہ دنیا کی باتیں۔ اب آتے ہیں وطن عزیز پاکستان کی جانب۔ پاکستان اپنے جنگلات کی وجہ سے دنیا بھر میں اہمیت کا حامل ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں قدرتی وسایل کی کوئی قدر نہیں ہے۔ یہاں تک کے بڑے بڑے فارسٹرز کو بھی جنگلات کے عالمی دن کے بارے میں علم نہیں ہے۔باقی ماندہ دنیا میں اگر دیکھا جائے، تو لوگ درخت صرف اور صرف چند مقاصد کے لیے کاٹتے ہیں اور ان کی جگہ سرے سے نئے درخت اُگاتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بال کے لیے بھی اقدام اُٹھاتے ہیں۔ جب کہ پاکستان میں، خاص کر ہمارے علاقوں (سوات کوہستان) میں نایاب درختوں کی کٹائی صرف اور صرف پیسے کمانے کے لیے کی جاتی ہے اور یہ کام زیادہ تر علاقہ کے بااثر لوگ ہی کرتے ہیں۔
ایک دفعہ باتوں ہی باتوں میں ایک دوست کے منھ سے اچانک یہ بات نکل گئی کہ فلاں تو اکثر مہینے کے دو لاکھ روپے تک کماتاہے۔ دیکھیے اگر ایک معمولی سا اسمگلر مہینے کے اتنے پیسے کما سکتا ہے، تو بڑے مگر مچھوں کا کیا حال ہوگا؟
میں پہلے بھی اپنے ایک آرٹیکل میں ذکر کر چکا ہوں کہ ہمارے پہاڑی اور سرد علاقوں میں قیمتی درختوں کا دُشمن نہ صرف ٹمبر مافیا ہے بلکہ سردیوں میں یہاں کے لوگ ہر سال ہزاروں قیمتی درختوں کو کاٹ کر سوختنی لکڑی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں اگر کوئی کالام یا اس سے آگے کے علاقوں میں جائے، تو اسے حیرانی ہوگی کہ ہمارے علاقوں میں کتنے درخت ہیں جو اب تک باتی ہیں۔ کیوں کہ سردیاں کاٹنے کی خاطر ہر گھر کے لیے کم ازکم ایک ٹرک لکڑی درکار ہوتی ہے۔
شاید اسی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے درخت کم ہوتے جا رہے ہیں اور اس عمل کی روک تھام کے لیے ابھی تک کسی نے کوئی اقدام نہیں کیے ہیں۔
اگر ہمارے علاقوں میں اسی طرح سوختنی لکڑی کے لیے درختوں کو کاٹنے کا سلسلہ جاری رہا، تو چند سالوں میں ہم درخت کے نام تک سے ناواقف ہو جائیں گے۔
ابھی چوں کہ امید کی کرن نظر آئی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے قدرتی وسایل کو ضایع ہونے سے بچانے کے لیے کافی تیزی سے کام شروع کیا ہے اور ’’گرین خیبر پختون خوا‘‘ مہم کی بنیاد بھی رکھی ہے۔ اس لیے ان دنوں ہر جگہ آپ کو لوگ شجرکاری کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ ایک مثبت سوچ ہے۔
قارئین، حکومت نے تو اپنی نیک نیتی دکھا دی اور بلامعاوضہ پودے مہیا کیے لیکن اب سب سے بڑا مسئلہ ان پودوں کی دیکھ بھال کا ہے۔ اگر ان کی حفاظت نہ کی گئی، تو یہ ملک و قوم کے لیے انتہائی شرم کی بات ہوگی۔ کیوں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اگر نتیجہ صفر رہا، تو یہ بہت ہی بری بات ہوگی۔ ہم پاکستانی عوام اکثر سارا نزلہ حکومت پر ڈالتے ہیں اور اسی طرح ہر کمی کی ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں، جو کہ سراسر زیادتی ہے۔
قارئین کرام! ذرا سوچیے، کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں بنتی کہ اپنے علاقہ اور گھر کے ارد گرد لگائے گئے درختوں کی حفاظت خود کریں؟
کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ لوگوں کو قیمتی درخت کاٹنے سے روکیں؟
کیا لوگوں میں آگاہی مہم چلانا ہم جیسے اور دوسرے پڑھے لکھے لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے؟
یہ ہم عوام ہی ہیں جو اس ملک کے قدرتی وسایل کی حفاظت بہ طریق احسن کر سکتے ہیں۔
آیئے، جنگلات کے اس عالمی دن کے موقعہ پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی طرف سے جتنا ہوسکے گا جنگلات اور دوسرے قدرتی وسایل کی حفاظت کریں گے۔
یہاں ایک بار پھر میری پی ٹی آئی حکومت اور خاص کر عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ ٹمبر مافیا کے خلاف جہاد کے ساتھ ساتھ اِن علاقوں میں پانی سے چلنے والے چھوٹے بڑے پن بجلی گھر اور جنریٹر بنائیں، تاکہ لوگ لکڑی جلانے کی بہ جائے ہیٹر کا استعمال کریں۔ تمام پہاڑی علاقوں میں وافر مقدار میں پانی کے ذرایع موجود ہیں اور وہ صرف ضایع ہی ہورہے ہیں۔
سوات اور سویٹزر لینڈ میں وسایل ایک جیسے ہیں لیکن ان سے کما حقہ فایدہ اٹھانے کا فرق ہے۔ امید ہے کہ میری اس ٹوٹی پھوٹی تحریر کو ردی کی ٹوکری کی نذر نہیں کیا جائے گا۔
1,212 total views, no views today


