تحریر: وقار احمد
خیبر پختونخوا کے ضلع سوات جو کہ پورے دنیا میں جانا پہنچانا علاقہ ہے اور ماضی کا ایک تاریخ بھی پڑا ہوا ہے جبکہ یہاں کے صحافیوں نے اس علاقے کے لئے جانوں کے قربانیاں پیش کئے ہیں تاہم اب اس علاقے میں صحافیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جیسے کے امن ومان کی صورتحال ہے۔ سوات میں پچھلے دہائیوں میں دہشتگردی کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی تھی، جس کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے کردار انجام دینے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ حکومتی دباو بھی ایک اہم ایشو ہے اور کبھی کبھار حکومتی اداروں یا سیاسی شخصیات کی طرف سے صحافیوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ خبروں کو موصول نہ کریں یا خبروں کو تبدیل کریں۔ اسی طرح صحافتی آزادی کی پابندیاں بھی ہے اوربعض اوقات حکومتی اور غیر حکومتی دباؤ کی وجہ سے صحافتی آزادی کی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں، جو صحافیوں کی کام کرنے کی حریت کو محدود کرتی ہیں۔
آج کل صحافیوں کو سب سے اہم مسئلہ مالی مسائل کا ہے اور صحافیوں کو مالی مسائل کا سامنا بھی ہوتا ہے، خصوصاً اگر وہ غیر مطابقتی یا سنگین خبریں کر رہے ہوں جن پر اشرافیہ یا سیاستدانوں کو معاشرتی یا مالی نقصان ہوسکتا ہوں ۔
اکثر نہیں بلکہ صحافیوں کو حفاظت کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جارہے اور بعض اوقات صحافیوں کو خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خصوصاً جب وہ خبروں کی کرداردار اشخاص یا گروہوں کی خلاف بات کر رہے ہوں۔ ان کی حفاظت کی عدم فراہمی انہیں خطرناک صورتحالوں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
صحافیوں کو ان مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنے کردار کو محفوظ اور آزادانہ طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ جمہوریت، انصاف، اور حقیقت کی بات کرنے کا فرصت دی جا سکے۔
519 total views, no views today



