میں نا نٹ شفٹ کرکے تھکا ہا راگھر واپس آکے گہری نیند سورہاتھا کہ سماعتوں پرپے درپے دستک کی آوازیں ٹکرانے لگیں ۔ زیادہ تھکن ہوجانے کی وجہ سے پہلے پہل تومیں نے دست کو نظراندازکردیا۔ مگر یہ سلسلہ پھربھی نہ تھمااور ساتھ ہی ساتھ اس میں جب مجھے کچھ لوگوں کی پرشور آوازیں اور پولیس ،پولیس کے الفاظ سنائی دیئے تو مرتاکیانہ کرتا کے مصداق اب مجھے اُٹھ کے دروازہ کھولنے جاناہی پڑاا، دروازہ کھلنے پہ میں نے دیکھا کہ ہمارے گھر پولیس اور ساتھ ہی کچھ سِول ڈریس میں ملبوس لوگ ائیں ہیں۔ میرا تو خوف کے مارے خون خشک ہوگیا اور چہرے پہ ایک رنگ آنے ایک جانے لگا۔ کیونکہ دیاردیس کے لوگوں سے وفا کی کیااُمید رکھیں کیونکہ دنیا بھر میں مسلمانوں پہ ہونے والے مظالم کسی سے اب ڈھکے چھپے تو نہیں ہیں اور اب مجھ پہ آپڑنے والی افتادسے میں یکدم گبھرا گیاتھا۔
خیرایک پولیس اہلکار نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ سامنے کھڑے اس فلاں شخص جس کی طرف اُس نے اشارہ کیا، مِل لوں اور بات سُن لوں۔ میں نے دیکھا کہ وہ شخص سِول لباس میں ملبوس ہے اور اس کے ہاتھ میں کچھ پیپرز ہیں۔ اب اس نے تعارف ہونے پہ خودکو یونین کونسل کا نمائندہ ظاہرکیا۔
چونکہ اب میں نیند سے مکمل طور پہ جاگ چکا تھا سو مجھے یونین کونسل کا نام سُن کے اپنے دوست کا وہ سرسری سہ ذکریاد آیاجس میں کہ اُس نے بتایاتھا کہ ایک، دو روز میں یونین کونسل والے آکے گھر کے پچھلے حصہ میں موجود درخت کا معائنہ کریں گے۔ یونین کونسل کے اُس نمائندے نے مجھے اب کچھ پیپرتھمائے اور انہیں پڑھ کے اُن پہ دستخط کرنے کو کہا۔میں نے ان پہ نظر ڈالی تو پتہ چلا وہ فرمیشن لیٹر تھااور انہیں اُس سب کاروائی کے لیے میری اجازت درکارتھی۔ خیرمیں نے پیپرز پہ دستخط کرکے وہ پیپرز انکو تھما دیئے اور اب ان کے ساتھ ہی گھر کے پچھلے حصے کی جانب چل پڑا جہاں وہ درخت موجود تھا۔
مگر میں اب تک حیران تھاکہ انہیں یہ سب کیسے معلوم پڑا کے اُن درختوں کے ساتھ کچھ گڑبڑ ہے؟ میرے مزید استفسار پہ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ فوٹیج انہیں سٹیلائیٹ سسٹم کے ذریعے نگرانی سے حاصل ہوئی ہیں۔ جس میں کہ مسلمل مشاہدہ کرنے پر انہیں محسوس ہوا کہ درخت دن بدن خشک ہوتے چلے جارہے ہیں اور اب وہ سب اس کی وجہ جاننے کے لیے یہاں موجود تھے ۔ مگر درخت اور پولیس ؟ بات کچھ سمجھ نہیں آتی تھی۔
درخت کے پاس پہنچ کے مزید دیکھا کہ وہاں معائنہ کرنے کے لئے یو نین کونسل کی پوری ٹیم موجود تھی۔ اور میرے اجازت کے بعد انہوں نے معائنہ کی شروعات کرنے تھے اب چونکہ میں اجازت دے چکا تھا سوا نہوں نے اپنی کاروئی کا آغاز کردیا۔ باآخر دو گھنٹے گزرجانے کے بعد مجھے رپورٹ آنے پہ کچھ تسلی سی ہوئی کہ اس سب کار روائی اور گڑبڑکے بیچ ہمارا کوئی قصور نہیں نکلا ۔ ہاں ملک مکان بے حد ڈرا سہما کھڑا سب دیکھ رہاتھا۔
یوں مالک مکان کو پولیس نے موقعے پرگرفتار کر لیا کیونکہ اُس نے درخت کی جڑوں میں ڈرلنگ کرکے اُن میں کِسی قسم کا کوئی کیمیکل بھرا تھا تاکہ یہ درخت خشک ہوکے دوبارہ ذرخیزہونے کے قابل نہ رہیں اور وہ انہیں جڑ سے اُکھاڑ کے اُس جگہ ایک اور یونٹ تعمیر کر سکے تاکہ اور مزیدآمدنی کا کوئی ذریعہ بن جائے۔ یو نین کونسل اورپولیس نے متعلقہ جگہ کو سِل کردیا اور عدالت نے اُس کا جرم ثابت ہونے پر مالک مکان کو دس ہزار ڈالر کے بھاری جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا ۔معزز عدالت نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ اس مقام پہ اگلے دس سال تک کسی قسم کی کوئی بھی عمارت تعمیر نہیں کی جائے گی۔ یہ سب احکامات بطور سزا مالک مکان کو سنائی گئی تاکہ وہ آئندہ قدر ت کی عطاکردہ اس نعمت کی قدر کرے اور دوسرے لوگ بھی اِس واقعے سے سبق حاصل کرسکیں ۔
معززقارئین۔یہی تو فرق ہے ہم میں اور اُن میں۔ہم نام کے مسلم رہ گئے اور عمل کے نہیں۔قرآن مجید میں اللہ پروردگار کا ارشاد پاک ہے کہ ’’بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمیں کو پیداکو کیا اور تمہارے لے لئے آسمانوں سے پانی برسایا اور پھراِسکے زریعے وہ خوشنما باغ اُگائے اور جس کے درختوں کو اُگایا تمہارے بس میں نہیں تھا‘‘
ایک اور موقع پر حضرت ابوبکرؒ نے لشکر سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایاکہ کھجوروں اور پھل والے درختوں کو نہ کاٹے۔
دوستوں یہ بہارکا موسم ہے۔ شجرکاری کا موسم ہے ، ہمیں چائیے کہ قدرت کے ان خوبصورت نعمتوں کی قدر کریں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگاکے اپنے گھر اور ملک کو خوبصورت بنائیں ،کیونکہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور اس کا درجہ پروردگار باری تعالٰی نے بے تحاشہ رکھا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان درختوں کی حفاظت بھی کریں تاکہاانہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچ پائے اور یہ درخت خوب پھلیں پھولیں۔
کے پی کے کی حکومت کے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ کے آغاز پہ انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہو ں اور درخواست کرتاہوں کہ اِن درختوں ، پودوں کی مکمل حفاظت کریں خیبر پختونخوا حکومت پھلوں اور پودوں کو لگانے کیساتھ ساتھ اِن کی حفاظت کی خاطر ہر ممکن اقدام پر سختی سے عمل پیرا ہوں تاکہ یہ پروجیکٹ ایک کامیاب پروجیکٹ ثابت ہو۔ اور عوام اِس کے فوائد سے مستفید ہوجائیں اور ہمارے ملک کی خوبصورتی اور ملک میں صحت مند ماحول کی فراہمی میں اضافہ ہو، کیونکہ یہ وقت تمام سیاسی اختلافات بُھلا کے عمران خان اور پی ٹی ائی کے اِس کارِخیر میں حصہ لینے کا ہے تاکہ قدرت کی عطا کردہ یہ نعمت خوب پھل پھول سکے اور ہمارے ملک کے حُسن میں اضافے کا سب بن سکے(آمین)۔
962 total views, no views today


