بریکوٹ، صوبائی حکومت کی طرف سے بریکوٹ بازار میں تجاوزات کے خلاف اپریشن ایک ہفتہ گذرنے کے باوجود ملبہ اٹھایا نہ جا سکا۔جس کی وجہ سے بریکوٹ بازار کے کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ نکاس اب کی نالیاں بند ہونے کیوجہ سے بارش کی پانی سڑکوں پر بہنے لگی ۔بریکوٹ کے عوام نے جگہ جگہ بینرز لگا کر حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بریکوٹ کے عوام نے تجاوزات کے خلاف اپریشن میں مال ،جائیداد اور کاروبار کی قربانی دے کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اب سرکار بریکوٹ بازار میں سیلاب سے بچاؤ کے ممکنہ بچاؤ،ٹریفک اور کاروبار کی بحالی کے علاوہ صفائی کے لئے ہنگامی بینادوں پر اقدامات اٹھائیں ۔تفصیلات کے مطابق 26مارچ 2015کو ہونے والے اپریشن کے اثرات اب بھی بریکوٹ بازار میں موجودہیں ۔مین شاہراہ پر جگہ جگہ ملبوں کے ڈھیر جمع ہیں جس کی وجہ سے دکانوں اور مارکیٹوں کے سامنے ان ملبوں کی وجہ سے کاروبار تباہی کے دہانے پر ہے جبکہ بارشوں کا پانی سڑکوں پر بہنہ لگا ہے ۔تجاوزات اپریشن کی وجہ سے بریکوٹ بازار کے تاجر برادری اور عوام نے جو مثبت کردار ادا کیا ہے ۔یہ ایک ذمہ دار شہری کی علامت ہے کیونکہ کسی بھی جگہ کوئی ناخوشگوار واقع رونما ء نہیں ہو ا اور زیادہ تر دکانداروں نے خود اپنے دکانوں اور خوبصورت پلازوں کو گرا یا ہے ۔بریکوٹ بازار اس وقت ایک جنگ ذدہ علاقے کا نقشہ پیش کررہا ہے ۔میونسپل کمیٹی بریکوٹ ملبہ ہٹانے پر معمور ہے مگر بھاری اور جدید مشنری نہ ہونے کی وجہ سے اب وہ بھی قدیم زمانے کے اوزار وں پر صفائی کررہے ہیں اگر یہ صورت حال اسی طرح رہی تو اس پر کئی ماہ لگ سکتے ہیں جس کی وجہ سے بریکوٹ کے عوام اور تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہو گا خدشہ ہے کہ یہ اپیل شدید احتجاجوں کا رنگ لے آئے ۔
588 total views, no views today


