مینگورہ بائی پاس روڈ نے اگرچہ مینگورہ شہر میں غیر ضروری ٹریفک کے داخلہ کو کم کر دیا ہے اور لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچنے کا ایک آسا ن راستہ مہیا کیا ہے، لیکن یہ انتظامیہ کی غفلت اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ہز اروں لوگوں کے لیے وبال جان بھی بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزانہ شام چار بجے سے لے کر رات گئے تک ٹریفک جام کی وجہ سے عوام کے لیے ذہنی کوفت اور اور اذیت کا بھی ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ ٹریفک کانجو پل سے لے کر گرین چوک اور نویکلے چوک (چھترئی) سے لے کر شاہ درہ چوک تک ایسی جام رہتی ہے کہ پہیہ لڑھکتا تک نہیں۔
شام کو جب تھکے ہارے ملازمین اور مزدور گھروں کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں، تو بے ہنگم ٹریفک اور ٹریفک پولیس کی کمی کی وجہ سے ان کو گھنٹوں خوار ہونا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مریض بھی ٹریفک جام سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کئی مریض تو ٹریفک میں یوں پھنس جاتے ہیں کہ جب ان کی گاڑی کے ہلنے کا وقت آتا ہے، تب تک وہ اللہ کو پیارے ہوچکے ہوتے ہیں۔ کئی بچوں کا گاڑیوں میں پیدا ہونے کا سہرا بھی اسی ’’ٹریفک جا م‘‘ کے سر ہے۔
اگرچہ ٹریفک جام ہونے کی ایک وجہ کانجو کا ’’مفلوج پل‘‘ بھی ہے، جس کے بارے میں اب خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ آئندہ دس سال میں بھی نہیں بننے والا۔ لیکن دوسری وجہ بائی پاس روڈ اور فضاگٹ روڈکا ملاپ بھی ہے۔ یہاں پر دو ٹریفک پولیس والے نظر آتے ہیں، جو خود ٹریفک قوانین سے ’’عاری‘‘ نظر آتے ہیں۔ ان کے اعصاب چند گھنٹوں کی ڈیوٹی کے بعد جواب دے جاتے ہیں اور زیادہ تر موبائل فون پر باتوں میں اور یا موٹر سا ئیکل سواروں کے ساتھ ’’ مک مکا‘‘ میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اور جب گاڑیوں کو اشارہ دیتے ہیں، تو اتنے تھکے ہوئے نظر آتے ہیں کہ لگتا ہے ابھی گر جائیں گے۔ یہ دو پولیس اہل کاروں کے بس کی بات نہیں۔
تھوڑا آگے جاکر پولیس لائن کے قریب فوجی چیک پوسٹ بھی ہے۔ ماضی کے واقعات اور حادثات پر نظر دوڑائی جائے، تو یہ جگہ ایک بہت بڑا سیکورٹی رسک ہے۔کیوں کہ گاڑیوں کے ازدحام میں ہر کسی پر نظر رکھنا ممکن نہیں۔ اس صورت حال سے سازشی عناصر فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور خدا نہ خواستہ کسی بھی دہشت گردی کی صورت میں ناقابل تلافی نقصان پیش آ سکتا ہے۔ اس بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے کا ایک حل یہ ہے کہ ٹریفک پولیس کو مزید مستعد کردیا جائے۔ اور ایک نہیں بلکہ درجن بھر پولیس اہل کار وں کو گرین چوک، بنڑ اسکول، نویکلے سہ راہا اوراسی طرح دس اہل کاروں کو پولیس لائن کے قریب بائی پاس اور فضا گٹ روڈکو ملانے والے جنکشن پر کھڑا کر دیا جائے، جو مستعد ہوں۔ لیکن ان پولیس اہل کاروں کی کارکردگی کو وقتاً فوقتاًچیک کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔
اس کے علاوہ اگر بائی پاس اور فضا گٹ کے سنگم پر ٹریفک سگنل لگا دیے جائیں، تو ٹریفک جا م کو قابو کرنے میں خاطر خواہ مدد مل سکتی ہے۔
ٹریفک کو جام کرانے میں ہم عوام بھی کسی حد تک ذمے دار ہیں۔ کیوں کہ جلد ی پہنچنے اور آگے نکلنے کی دوڑمیں ہم اپنی قطار چھوڑ کر اوور ٹیک کر نے کی لگا تار کوشش کرتے ہیں۔ چاہیں وہ دس انچ کا فرق ہی کیوں نہ ہو، ہمیں بس آگے لگنے کا شوق ہوتا ہے۔ کسی کے پیچھے انتظار کرنا ہماری غیر ت گوارا نہیں کرتی۔ اور اس طرح ایک کی بجائے تین قطاریں بنا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں سامنے سے آنے والی گاڑیوں کا راستہ بند ہوجاتا ہے اور دونوں جانب گاڑیاں کچھ اس انداز سے کھڑی ہوجاتی ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ لہٰذا عوام کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خود غرضی اور خود پسندی کے خول سے نکل کر اور صبر کا دامن تھام کر اس قسم کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔
انتظامیہ اگر چاہے، تو اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ’’جہاں چاہ، وہاں راہ‘‘ کے مصداق ہر مشکل کا حل ہوتا ہے۔لیکن لگتا ہے کہ انتظامیہ کو اس جیسے مسائل حل کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں اور ایسا بھی نہیں کہ ان کو ٹریفک کے مسائل سے آگاہی نہیں۔ کیوں کہ انتظامیہ کے زیادہ تر اعلی اہل کار روزانہ بائی پاس روڈ کے ریستورانوں میں ضیافتیں اڑاتے نظر آتے ہیں اور رات گئے تک ان ہوٹلوں کے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اپنے گھروں کو تب لوٹتے ہیں، جب سڑکوں سے ٹریفک کا ازدحام غائب غلہ ہو چکا ہوتا ہے۔
میں انتظامیہ کے ان حکام سے درخواست کرتا ہوں، جن میں خوف خدا موجود ہے اور وہ قیامت اور آخرت پر ایما ن رکھتے ہیں کہ خدارا ٹریفک کے اس مسئلہ کا حل نکالیں۔
پاک فوج کے اعلیٰ احکام سے بھی گزارش ہے کہ اپنے قیمتی اہل کاروں کی سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلہ کی جانب نظر کرم عنائت فرمائیں۔ تاکہ اس بہانے عوام کو ریلیف ہی مل سکے۔
1,242 total views, no views today


