سوات، متاثرین بائی پاس ، شوکت علی ، نعیم ، جاوید اقبال میر خانخیل نے مشترکہ اخباری بیان کے زریعے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کے افس میں ہونے والے اجلاس کے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس اجلاس کو متاثرین بائی پاس جنرل بس سٹینڈ کے خاندانوں کا معاشی قتل قرار دیا ہے ، لینڈ مافیا کا سرغنہ ،قبضہ مافیا اور زمینوں پر زبردستی قبضہ کرنے والا اپنے کرتوتوں سے باز آجائے اور ہمارا معاشی قتل نہ کردیں ، ان لوگوں نے آس پاس کے زمینوں کو پہلے اونے پونے دامون پر خریدا ہے اور اب جنرل بس سٹینڈ کیلئے ہمارے زمین حکومت کے زریعے زبردستی انگریزی دفعات کے تحت لے رہے ہیں جو ہم کسی صورت تیار نہیں ہے ، لہٰذا اس سلسلے میں ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ، ہمارا کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سوات سے دردمندانہ اپیل ہے کہ یہ مہنگا پراجیکٹ نہیں بلکہ ہمارا معاشی قتل ہے ، لہٰذا ان لوگوں کے غلط باتوں پر نہ آئے ، اور اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کا انکوائیری کرکے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا ،انہوں نے کہا ہم ترقی کے خلاف نہیں بلکہ یہ بدنیتی پر شروع کیا گیا منصوبہ ہے جو سراسر ظلم اور نا انصافی ہے ان قبضہ مافیا ، لینڈ مافیا کے کرتوتوں سے سب لوگ با خبر ہے جہاں یہ چاہے اپنے پسند کا تحصیلدار اور دوسرے افیسر مقرر کرتے ہیں ، مگر عمران خان کو ان کے یہ کرپشن نظر نہیں آتے ، لہٰذا عوام دشمن منصوبہ بند کیا جائے ورنہ سوات کے غیور عوام یہ عوام دشمن منصوبہ خود بند کردیں گے ۔
644 total views, no views today


