بلدیاتی نظام کو سیاست دانوں کی ’’نرسری‘‘ کہا جاتا ہے اور اس میں نچلی سطح سے سیاسی تربیت کا آغاز ہوتاہے۔ دنیا بھر میں جتنی بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں۔ ان کے نظام میں مقامی نمایندوں کو اہمیت دی جاتی ہے اور مقامی لوگوں کے ذریعے ہی زیادہ ترمسایل حل کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں تواس طرح کے نمایندوں کو قانون سازی کی حد تک اختیارات دیئے جا چکے ہیں او ر یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں ہمارے مقابلہ میں تنازعات کا معیار یک سر تبدیل ہوچکا ہے۔ بدقسمتی سے جمہوریت کے دعوے کرنے والی پارٹیوں نے ہمیشہ بلدیاتی نظام اور انتخابات میں رخنے ڈالے ہیں اور یہی جمہوری قوتیں جنھوں نے ہمیشہ آمریت کے خلاف نہ صر ف آواز اٹھائی ہے بلکہ سختیاں بھی جھیلی ہیں، بلدیاتی نظام کو پروان نہ چھڑاسکیں۔
تبدیلی کے دعویداروں نے خیبرپختون خوا میں حکومت سنبھالتے ہی تین ماہ میں بلدیاتی انتخابات کا وعدہ کیا تھا۔ تین ماہ نہ سہی دو سال بعدہی سہی خیبرپختون خوامیں بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوگیا اور اب اس کے لیے تیاریاں بھی عروج پر ہیں۔ پی ٹی آئی نے بلدیاتی نظام میں بھی ’’تبدیلی‘‘ کا دعوا کیا تھا، مگر اب اس میں معمولی تبدیلی کرکے سابقہ فوجی سربراہ جنرل مشرف ہی کے وضع کردہ قایدہ کے تحت انتخابات اور نظام چلایاجائے گا جس کے رو سے یہ بلدیاتی انتخابات پارٹی بنیادوں پر ہوں گی اور ہرایک یونین کونسل سے کم سے کم دس ممبر اور زیادہ سے زیادہ پندرہ ارکان منتخب ہوں گے جن میں لازمی طورپر دو خواتین کے لیے مخصوص نشستیں، ایک مزدوکسان، ایک اقلیت اور ایک نشست یوتھ کے لیے مخصوص ہے۔ باقی پانچ سے دس تک ممبران یونین کونسل کی آبادی کے تناسب سے اے سی طے کرے گا جس میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا چیئرمین اور دوسرے نمبر پر وایس چیئرمین اور بالترتیب جنرل کونسلر منتخب ہوں گے۔ اگر دیکھا جائے، تو یہ ایک مکمل اور بہت ہی جامع نظام ہے جس کے بعد ٹاؤن چیئرمین اور وائس چیئرمین تحصیل ناظم و نایب ناظم منتخب کریں گے۔
سوات میں اس وقت ستاسٹھ یونین کونسل ہیں اور اس کے لیے قریباً ایک سوگیارہ عوامی نمایندے منتخب ہوں گے جو اپنے حلقوں کے مسایل حل کریں گے اور توقع یہی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ان کو بے پناہ اختیارات اور وسایل دے گی جن کا مذکورہ حکومت نے عام انتخابات کے دوران میں عوام سے وعدہ کیا ہے۔ اب سوات میں ان انتخابات کے لیے بڑے پیمانہ پرتیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ ہر یونین کونسل میں عوام کی نمایندگی کرنے والے کئی دعویدار نمودار ہوچکے ہیں اور یہ لوگ تقریباً ہر عوامی اجتماع میں شرکت کرتے ہیں۔ حجروں اور بیٹھکوں میں بلدیاتی نظام اور انتخابات پر بحث و مباحثہ ہو رہا ہے۔ بعض لوگوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا مگر پھر بھی انھوں نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اب اس نظام کو چلانے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کی تمام تر ذمہ داری ان سیاسی پارٹیوں پر عاید ہوتی ہے کہ وہ کن لوگوں کو ٹکٹ دیتی ہیں اور کس طرح میرٹ کا خیال رکھتی ہیں۔ تمام تر پارٹیوں کی علاقائی تنظیمیں ہیں اور عرصۂ دراز سے اپنی پارٹیوں کے لیے خدمات سرانجام دے رہی ہیں، مگر اس وقت اخباری اطلاعات اور بعض سیاسی پارٹیوں کے طرف سے باقاعدہ اشتہارات دیئے گئے ہیں کہ ان کو ٹکٹ کے لیے نمایندے درکارہیں اور اس کے لیے باقاعدہ فیس بھی رکھی گئی ہے جوکہ جمہوریت کے لیے بہت ہی نقصان دہ بات ہے۔ سب سے بڑی ذمہ داری خیبرپختون خوا میں حکومتی پارٹی ’’پی ٹی آئی‘‘ پر عاید ہوتی ہے جس کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کے گرد ابن الوقت سیاسی لوگوں نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور توقع بھی یہی ہے کہ یہ پارٹی ماضی کی طرح اپنے پرانے ساتھیوں کو نظر انداز کرکے ابن الوقت برائے نام سیاسی لوگوں کو ٹکٹ دے گی۔ یہ روش پی ٹی آئی کے تبدیلی کے دعوے کو مزید کم زور کرے گا۔ بلدیاتی انتخابات میں ہمیشہ برسر اقتدار پارٹی نے کوئی نمایاں نشستیں نہیں لی ہیں، مگرا س مرتبہ توقع کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کو زیادہ نشستیں ملیں گی۔ یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی کو خیبر پختون خوا اور سوات میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا۔ کیوں کہ مرکزی حکومت میں برسر اقتدار پاکستان مسلم لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی پارٹیاں ان کی حلیف ہیں جب کہ جمعیت علمائے اسلام بھی ان کے لیے کوئی ترنوالہ نہیں۔ گرچہ جماعت اسلامی کا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ہے مگر مقابلہ اس کے باوجود سخت ہے۔ بہ ہرحال بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور مقامی طرز حکومت کی ہر جمہوریت پسند حمایت کرتا ہے۔ اب وقت ہے ان جمہوری و سیاسی پارٹیوں کے امتحان کا کہ کسی بھی قسم کی لالچ، اقربا پروری اور خان خوانین کے دباؤ کو مسترد کرکے خالص میرٹ پر اورحقیقی سیاسی کارکنوں کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے، تاکہ جمہوریت نچلی سطح سے پروان چڑھ سکے اور غریب عوام کے مسایل حقیقی بنیادوں پر حل ہوسکیں۔
644 total views, no views today


