میں سن 1998ء میں جماعت نہم کا طالب علم تھا۔ اس وقت مرکزی حکومت نواز شریف کی تھی۔ ستمبر کے مہینہ میں جب ہم اسکول سے گھر پہنچتے، تو ہمیں گراسی گراؤنڈ پہنچنے کی جلدی ہوتی تھی۔ کیوں کہ اس وقت ’’آل پاکستان فٹ بال ٹورنامنٹ‘‘ سوات کے تاریخی کھیل کے میدان ’’گراسی گراؤنڈ’’ میں جاری تھا۔ ہر دن گراسی گراؤنڈ شایقین سے کچھا کھچ بھرا ہوتا۔ پورے ضلع سوات سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ عصر کی نماز سے پہلے گراؤنڈ پہنچنا شروع ہوتے اور جو کوئی نماز کے بعد گراؤنڈ آتا، تو اس کو بیٹھنے کی جگہ نہ ملتی۔ ان دنوں سوات ایک پرامن وادی تھی۔ کسی نے جیٹ طیارے دیکھے تھے، نہ گن شپ ہیلی کاپٹر۔ بارودی سرنگوں سے کوئی واقف نہیں تھا اور خود کش حملہ آور کا نام تو شایدان ادوار میں کسی نے سنا بھی نہ ہوگا۔ وادئ سوات اپنی تاریخ اور سیاحت کے لیے مشہور تھی۔ ٹورنامنٹ کے سیمی فاینل میں جب سوات کی ٹیم ہاری، تو مجھے یاد ہے اس وقت پورا سوات رو رہا تھا۔ ایک عجیب جذبانی منظر تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ شاید فاینل دیکھنے کوئی نہیں آئے گا، لیکن مجھ سمیت شایقین فٹ بال، فاینل دیکھنے جوق در جوق چلے آئے تھے۔اس ٹورنامنٹ میں سوات سے بھی کئی ٹیموں نے حصہ لیا تھا جن میں صرف ایک ٹیم سیمی فاینل تک پہنچی پائی تھی۔ ونر ٹرافی کراچی کی ٹیم نے اپنے نام کی تھی۔
قارئین، فٹ بال ٹورنامنٹ کی یاد اس وقت تازہ ہوگئی جب کوزہ بانڈئ فٹ بال کلب کے مشہور کھلاڑی علی بہادر کے ساتھ فٹ بال کے حوالہ سے باتیں شرو ع ہوئیں۔ کیوں کہ وہ آج بھی فٹ بال کھیلتا ہے اور اسے دیکھنے کا شوق بھی اسی طرح قایم ہے۔ علی بہادر تحصیل کبل کے گاؤں کوزہ بانڈئ میں رہتے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سال کے بارہ مہینے فٹ بال کھیلی جاتی ہے اور یہاں کے شایقین اپنے علاقہ کا میچ دیکھنے کے لیے دیگر اضلاع کا رخ بھی کرتے ہیں، وہاں اپنے کلب کو سپورٹ کرتے ہیں۔ گاؤں کے لوگ اتنے جذباتی اور شوقین ہیں کہ پوری ٹیم کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔ یہ تو صرف ایک کلب کی کہانی ہے۔ تحصیل کبل کے ہر گاؤں میں فٹ بال کے بے شمار ماہر کھلاڑی موجود ہیں۔ علی بہادر کہتے ہیں کہ ڈھیری فٹ بال گراؤنڈ پر ہر سال ٹورنامنٹ منعقد ہوتا ہے۔ جب ڈھیری فٹ بال ٹورنامنٹ ختم ہو جاتا ہے، تو کبل گراؤنڈ پر نیا ٹورنامنٹ شرو ع ہوجاتا ہے۔ اس طرح جب وہ ختم ہوتا ہے، توکسی اور گراؤنڈ پرشروع ہوجاتا ہے اور یوں یہ سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ باتوں باتوں میں سوات کے تاریخی گراسی گراؤنڈ کا ذکر بھی آیا۔ ساتھ ’’آل پاکستان کلب فٹ بال ٹورنامنٹ‘‘ کی باتیں ہونے لگیں۔ مجھ سے پہلے انھوں نے ایک سرد آہ بھری کہ کاش یہاں پر وہ ٹورنامنٹ پھر منعقد ہوں اور پورے پاکستان سے ٹیمیں اس میں حصہ لیں۔ سوات میں جب سیکورٹی فورسز نے 2009ء میں کامیاب آپریشن شروع کیا اور دہشت گردوں کو سوات سے بھگا کر یہاں کا امن دوبارہ بہ حال کیا، تو سواتی عوام نے پاک فوج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ امن کی بہ حالی کے بعد فورسز نے سوات کی آبادکاری شروع کی۔ یہاں پر سیاحت بہ حال کرنے کے لیے ہر سال سردی اور گرمی میں فیسٹیول منعقد کرانا شروع کردیا، جس سے سیاحت دوبارہ فعال ہوئی اور ملک بھر سے سیاح حسین وادی کے حسین نظاروں کو دیکھنے کے لیے آنا شروع ہوگئے۔ اس طرح دہشت گردی کے دوران میں تباہ ہونے والے اسکولوں، کالجوں، پلوں اوردیگر املاک کو بھی دوبارہ آباد کیا گیا۔ فورسز نے دیگر کاموں کی طرح علاقائی کھیلوں کو بھی فروغ دینے کے لیے ٹورنامنٹ منعقد کیے۔ اسی طرح ایک ٹورنامنٹ کی کوریج کے لیے ہم رات نو بجے مینگورہ سے توتانو بانڈئی گئے، جہاں پر والی بال کے فاینل میچ کی ہم نے کوریج کی تھی، لیکن ان کھیلوں کے لیے ملکی سطح پر کوئی ٹورنامنٹ منعقد نہ ہوسکا۔ یہاں میں خصوصاً فٹ بال ٹورنامنٹ کا ذکر کروں گا۔ سوات میں اگر فٹ بال کے پہلے صوبائی اور ملکی مقابلے ہوئے ہیں، تو امن بہ حال ہونے کے بعد اسی طرح کے ٹورنامنٹ کو دوبارہ منعقد کرانا چاہیے تھا، تاکہ کھلاڑی بھی سوات کا دورہ کرتے اور اپنے روایتی کھیلوں سے یہاں کے لوگوں کو محظوظ کرتے۔
میں یہ گزارش سوات فٹ بال فیڈریشن سے بھی کرتا ہوں، لیکن ان کے اندرونی اختلافات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ ڈویژنل اور صوبائی ٹورنامنٹ اختلافات کی وجہ سے منعقد نہیں کرسکتے، تو ملکی سطح پر کیاخاک مقابلوں کا انعقاد کریں گے؟ اس کا تو یہ حال ہے کہ بے اتفاقی کی وجہ سے تحصیل کبل، مٹہ اور خوازہ خیلہ کی فٹ بال ٹیمیں گراسی گراؤنڈ نہیں آتیں اور نہ تحصیل بابوزئی کی ٹیمیں وہاں جاتی ہیں۔ وہ ایک کامیاب اور بڑا ٹورنامنٹ کیا کریں گے؟
کیا فٹ بال گراؤنڈ سیدو شریف دوبارہ آباد ہوگا؟ اس سوال نے مجھے زیر نظر تحریر پر اکسایا۔ میری میجر جنرل جاوید بخاری، ڈی سی سوات اور سوات فٹ بال فیڈریشن کے عہدہ داروں سے گزارش ہے کہ ملکی سطح پر ایک ٹورنامنٹ سوات کے گراسی گراؤنڈ پر منعقد کریں، تاکہ یہاں جو کھلاڑی فٹ بال کھیلتے ہیں، ان کو آگے جانے کے مواقع مل سکیں اور وہ ملک کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے پیشہ ور فٹ بالر ز سے کچھ سیکھ سکیں۔یوں سوات کے عوام کو ایک اچھا ٹورنامنٹ بھی دیکھنے کو ملے گا۔
638 total views, no views today


