پاکستانی سیاست کا اولین اصول ہے کہ جب کوئی سیا ست دان الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو اپنے جلسے جلوسوں اور مجلسوں کے دوران تقریر فرماتے ہوئے بار با ر یہ راگ الاپتے ہیں کہ طلباء کو بھی الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور یہ باور کراتے ہیں کہ طلباء سے سیاست دان بند کر ملک کے باگ ڈور سنبھال لیں گے۔ اورجب کسی سیاست دان کی قسمت جاگ اٹھتی ہے اور وہ الیکشن میں کا میاب ہو جاتے ہیں تو وہ طلباء کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر تے ہیں کہ طلباء مستقبل میں قوم کا سرمایہ ہیں اس لئے ان کو خوب دل لگا کر پڑھنا چا ئیے اور نہ سیا ست میں بھی حصہ میں لینا چا ئیے نہ کسی سیاسی سرگرمیوں میں۔ اور بڑے فخر سے یہ بھی فرماتے ہیں کہ اساتذہ معماران قوم ہیں وہ مستقبل میں ان بچوں کے روحانی والدین ہیں اوران کی ذہنی نشونما میں مدد دیتے ۔اس لئے جو استاتذہ کرام طلباء کو حکومت کے خلا ف اٹھ کھڑے ہونے دیں ان کو ناکوں چنے چبوائیں گے۔ تعجب تو اس بات پر ہے کہ جو طالب علم ان کی حمایت میں درسگاہوں میں طلبہ تنظیموں کے تحت سیاسی سرگرمیاں شروع کرتا ہے تو انہیں سر آنکھوں پر بٹھائے جاتے ہیں یعنی درسگاہوں سے اٹھا کر جلسے جلوسوں میں ٹھو نس دیا جاتا ہے ۔سیاست دانوں کے اس روش سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہر حکومتی سیاسی پارٹی ا ن طلبہ کو درسگاہوں میں سیاسی سرگرمیوں میں دیکھنا چاہتے ہیں جو ان کے مفاد میں اٹھ کھڑے ہو!
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ من حیث القوم ہمیں ازخود یہ فیصلہ کرنا ہے کہ درسگاہوں میں پڑھنے والے طلباء کو سیا ست میں حصہ لینا چا ئیے یا نہیں۔۔۔۔؟
چلو سب سے پہلے ہم یہ بھی مان لیں’’ کہ پاکستانی سیا ست کے مختلف انداز سیا ست ہمارے حکمرانوں کو مختلف بیانات دینے پر مجبور رکھتا ہے اس لئے ان کا دوغلاپن عام سی بات ہے‘‘ لیکن ایک آزاد شہری کی حیثیت سے اگر ہم خود دماغ کے گھوڑے دوڑائیں تو یہ سوال بھی ابھرتا ہے’’ کہ اگر سیا ست بر ی چیز ہے تو یہ سب کے لئے بر ی کیوں نہیں اس برائی کا اطلا ق صرف طالب علم پر ہی کیوں ۔۔۔ ؟؟؟
قارئین کرام!عرض کرتا چلوں کہ ’’طالب علم ‘‘علم کا طالب ہوتا ہے ۔ اسے بھی علم تلاشنی چاہئے۔سیاست بھی ایک نصابی علم ہے ، آئین اور قانون اسے سیکھنے کا حق ہر طالب علم کو دیتا ہے’’مگر سیکھنے کی حد تک‘‘بجائے یہ کہ سکولوں ،کا لجو ں اور یونیورسٹیوں کو ’’ سیاسی اسمبلیوں‘‘ کی طرح مچھلی بازار بنائیں اور مختلف طلبہ تنظیموں کی شکل میں آپس گھتم گھتا ہوجائیں۔ لیکن اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ درسگاہوں کو صرف حصول علم کے مراکز تک محدود رکھنے کے لئے ہم کیا تدارک کرسکتے ہیں ؟
سیاسی معاشرے میں سیاست کے ا ثرات سے طالب علم محفوظ نہیں رہ سکتا۔جن دنو ں الیکشن کا مو سم جوبن پر آتا ہے جیسا کہ’’ آج کل بلدیاتی الیکشن ‘‘ کی تیاریاں بام عروج پر ہیں۔ مختلف سیا سی پارٹیوں اور شخصیات نے’’ بلدیاتی الیکشن‘‘ میں ایک دوسرے کو چاروں شانے چت کرنے کے لئے کمر کس لی ہے۔ جگہ بہ جگہ سڑکو ں ،ہجروں اور میدانوں میں سیاسی کھلبلی مچ گئی ہے۔کل کے دشمنوں میں دوستیاں بن رہی ہے۔ دوست دشمن بن رہے ہیں۔ کہیں ناطے جوڑے جارہے ہیں کہیں توڑے جارہے ہیں۔اور ساتھ ساتھ ہر سیاسی جماعت نے ’’یوتھ ونگ‘‘ کے نام پر سیاست کو درسگاہوں کی دیوراریں بھی پھلانگی ہوئی ہے۔ جس کے باعث ہر طالب علم کی پڑھائی متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔
اب ہمارے سیاست دانوں کو بھلا کون سمجھائیں کہ سیا ست محض’’ الیکشن لڑنا اور ہارنے جیتنے‘‘ کا نام نہیں بلکہ یہ زند گی کا ایک بڑا تو انا شعبہ ہے۔ انسا ن ایک طرف طر ح طر ح کے معاشرتی مسائل کا شکار رہتا ہے اس کے اوپراخلاقیات کی دھجیاں اڑا دیتے ہوئے یہ سیاست دان شہریوں کو ذہنی تناؤ کا شکار بناتے ہیں۔ لوٹ ما ر کا بازار گرم رکھتے ہیں۔ ہمارے بے چارے سیاست دان تو اس بات سے بھی نا واقف ہیں کہ ان کا اصل فرض تو یہ بنتا ہے کہ عوام کو ملکی حالات کے نشیب و فراز سے آگاہ کیا جائے ۔شہری کے حقوق اور فرائض سے آشنائی دلائیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارے سیاست دان شہری کو صرف ووٹ کی حصولی کے لئے طرح طرح کے حربے آزما کر پھانسنے کی کوشش کرتے ہیں،اور بعد میں اقتدار کے نشے میں اس طرح دھت ہوجاتے ہیں کہ ان کو خود ملکی حالات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ ملک کس سمت جارہا ہے؟
آخر میں راقم اپنے ان طالب علم بھائیوں کے لئے ’’جو سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں‘‘ اپنے ناقص ذہن کے مطابق یہ مشورہ دینے کی جسارت کرتا ہے کہ طا لب علم کے ساتھ اس قوم کی امیدیں وابستہ ہیں ۔تا ہم جب تک وہ خوب دل لگا کر اپنی تعلیم مکمل نہ کریں ۔بے جا سیاسی جلسے جلوسوں میں مداخلت نہ کریں ۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو!
1,168 total views, no views today


