مینگورہ، ورکنگ فوکس گرائمر سکول کے اساتذہ اور بچوں کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ ، مزدوروں کے خون پسینے سے قائم سکول میں مزدوروں کے بچوں کیلئے مفت کتب اور یونیفارم کی بندش ظلم ہے ، حکومت نئی بھرتیوں کے بجائے کنٹریکٹ اساتذہ اور ملازمین کو مستقل کریں ، مطالبات کی منظوری کیلئے یکم مئی تک ڈیڈ لائن ، وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے کی دھمکی ، تفصیلات کے مطابق سوات کے علاقہ پانڑ میں قائم ورکنگ فوکس گرائمر سکول کے اساتذہ اور سکول کے بچوں نے سوات پریس کلب کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا ، جس سے خطا ب کرتے ہوئے سکول کے اساتذہ ، سی بی اے یونین سوات کے صدر عبدالودود اور جنرل سیکرٹری زین العابدین نے کہا کہ صوبائی حکومت نے غریب صنعتی ملازمین کا جینا محال کردیا ہے ، مزدوروں کی جہیز فنڈ ، ڈیتھ گرانٹ کی بند ش کے بعد اب غریب مزدوروں کی خون پسینے کی کمائی سے تعمیر ہونے والے سکولوں میں محنت کشوں کے بچوں کو زیور تعلیم سے محروم کیا جارہا ہے ، ورکنگ فوکس گرائمر سکولوں کے قیام میں حکومت کا کوئی کردار نہیں بلکہ یہ ورکر ویلفئر بورڈ کی ملکیت ہے ، لہٰذا ہم اس سلسلے میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں کرینگے ، حکومت کنٹریکٹ اساتذہ کو ختم کرکے نئی بھرتیاں کررہی ہیں جس کیلئے ہم تیار نہیں ، حکومت کنٹریکٹ اساتذہ اور دیگر ملازمین کو مستقل کریں اور بچوں کو مفت کتب اور مفت یونیفارم دینے پر پانبدی کا فیصلہ بھی واپس لے اگر یکم مئی تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوئے تو مزدور اور ان کے بچے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دینگے ۔
581 total views, no views today


