مینگورہ، دیورکے تشدداورمظالم کانشانہ بننے والی سوات درشخیلہ کی رہائشی بیوہ خاتون فریاد لے کر بچوں کے ہمراہ سوات پریس کلب پہنچ گئی،شوہرکے قاتلوں کی گرفتاری،تحفظ ،دیورسے جائیدادواگزارکرانے اورانصاف کی فراہمی کی اپیل کردی،بصورت دیگر صوبائی اسمبلی کے سامنے بچوں سمیت خودسوزی کی دھمکی ، اس حوالے سے اپنے والد فضل معبوداوربھائی محمداقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیوہ مہرالنساء نے بتایا کہ کراچی میں ان کے شوہر عرفان کا ہیروکا بڑاکاروبار تھا اوربہترطریقے سے ان کی گزربسرہورہی تھی
مگر پتہ نہیں کہ ان کی خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی کہ سال 2004میں کراچی میں رات کے وقت میرے شوہرعرفان کوزبیر نامی شخص لے گیا جس کے بعد وہ واپس نہیں آیا اس بارے میں دیوربرہان کو بتایا جوبھائی کو ڈھونڈنے نکلا اوربعدمیں واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں میرے شوہر کا شناختی کارڈتھا اورمجھ سے کہاکہ ان کابھائی عرفان (میراشوہر)ہیروکے تاجروں کے پاس بیٹھا ہے اورگھر میں جو ہیرے ،کاغذات وغیرہ پڑے ہیں وہ مانگ رہاہے لہٰذہ میں نے ہیروکے کئی پیکٹ ،بینک کے چیک اورکاغذات اپنے دیوربرہان کے حوالے کردئے،بعدمیں ہمیں پتہ چلا کہ میرے شوہر کو رات کو زبیرنامی شخص نے قتل کیا ہے اوران کی لاش پولیس اسٹیشن میں پڑی ہے جنہیں ڈھونڈتے ہوئے ان کابھائی برہان تھانے گیا تو پولیس نے میرے شوہرکاشناختی کارڈ برہان کو دیامگرمیرے دیور نے قتل کی اطلاع دینے کی بجائے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام تر جمع پونجی دھوکے سے ہتھیالی ،انہوں نے کہاکہ کراچی میں زبیر نامی شخص کیخلاف مقدمہ درج کرایا جو گرفتار ہواعدالت نے سزابھی سنائی مگر بعدمیں رہا ہوکر بیرون ملک بھاگ گیا اوراب میرے شوہر کی جائیداد،کوارٹر،دکانیں اورتمام تر کاروبار پر ان کے بھائی میرے دیور برہان کا قبضہ ہے ،انہوں نے کہاکہ شوہر کے قتل کے بعدبچوں کو لے کر سوات میں سسرال کے گھر آئی جہاں پر سسرالیوں نے مجھ پر مظالم ڈھانے کا سلسلہ شروع کردیا مگر اپنے بچوں کی خاطر سب کچھ برداشت کرتی رہی ،جب وہاں سے والد کے گھر گئی اوردیور سے اپنے شوہر کی جائیداداورکاروبار دلانے کا تقاضاکیا تو اس نے میری دس سالہ بیٹی کو اغواکردیا جو تاحال اس کے پاس ہے جبکہ دیگربچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں جس کے خوف سے والدکے ہمراہ مینگورہ میں رہائش اختیار کی مگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا لہٰذہ ہجرت کرکے بونیرچلی گئی،انہوں نے کہاکہ شوہر قتل ہوا،بیٹی اغواء ہوئی، کروڑوں روپے کا کاروبارہیرے جواہرات اورجائیدادپر دیور قابض ہوگیا آخرمجھے کس جرم کی سزادی جارہی ہے،انہوں نے مرکزی وصوبائی حکومت، انسانی حقوق کی علمبردارتنظیموں اوردیگراعلیٰ وذمہ دار حکام سے انصاف دلانے اورتحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی اورکہاکہ اگر انصاف نہ ملا تو بچوں سمیت صوبائی اسمبلی کے سامنے خودسوزی کرنے پر مجبورہوجاؤں گی۔
371 total views, no views today


