کسی نے خوب کہا ہے کہ ڈگریاں بہر حال صرف تعلیمی اخراجات کی رسیدیں ہوتی ہیں اصل کام تو علم اور عقل و شعور رکھنے والے کر جاتے ہیں۔
جیسا کہ سٹیو جوبز (steve jobs)
یا ویلیم شیکسپئیر کی ہی مثال لے لیں جو کہ باقاعدہ طور پر ڈگری یافتہ تو نہیں تھےلیکن انہوں نے جو کر دکھایا وہ کسی سے ڈھکا چُپا نہیں بلکہ سب کو معلوم ہے اور پوری دنیا اُنہیں جانتی ہے۔
اور صرف یہ دونوں ہی نہیں بلکہ ایسے اور بھی بہت سارے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے ڈگریاں نہ ہوتے ہوئے دنیا بدل ڈالی !!
بغیر ڈگریوں کے مختلف شعبہ جات میں ایسے انقلاب برپا کردئے کہ آج تک پوری دنیا ان کے کئے گئے کام سے فیضیاب ہورہی ہیں۔
اور جیسا کہ سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ عقل و شعور کی کوئی ڈگری ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی عقل و شعور کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے !!
اس کے ساتھ ساتھ دوسری بات یہ ہے کہ ڈگری جعلی بھی تو ہوسکتی ہـــــے !
بلکہ میرے ایک دوست کے مطابق اصلی اور جعلی ڈگریوں کی بہت سی اقسام مارکیٹ میں آچکی ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو باقاعدہ تعلیم کے ساتھ تسلیم شدہ اصلی ادارے کی اصلی مہر والی ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو بغیر امتحان میں بیٹھے اصلی مہر کے ساتھ حاصل کی گئی ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو کسی جعلی ادارے کی جعلی مہر والی ہے ۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو اصلی ادارے اور اصلی مہر کے ساتھ مگر بغیر روزانہ حاضری کے محض امتحان میں بیٹھ کر حاصل کی گئی ہے۔
*ایک وہ ڈگری ہے جو مکمل حاضری مگر مکمل نقل مار کر حاصل کی گئی ہے۔
* اور پھر ایک ڈگری وہ ہے جو اصلی تو ہے مگر ایسے بد دیانت اور بزدل انسان کے پاس ہے کہ جو اس کا استعمال مفاد عامہ کی بجائے ذاتی مفاد کے لیے ہی کرتا ہے۔
* ایک اور ڈگری وہ ہے جسکا حامل ملازمت حاصل کرنے کے بعد نجی تعلیمی اداروں پر کیے گئے اپنے اخراجات کی وصولی کے لیے تمام جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔
* ایک ڈگری وہ ہے جو تھرڈ ڈویژن بھی ہو تو خیر ہے لیکن اگر ڈگری کا حامل اپنی طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لے۔ پھر ایسے شخص کے آگے تو بڑے بڑے پی ایچ ڈی بھی پانی بھرتے ہیں۔
اسلئے ڈگریوں کے پٹاری رکھنے والوں سے عرض ہے کہ ڈگریوں کے پٹاری کو بے شک اپنے سر پہ اُٹھائے رکھو اور میری بات مانو تو دن میں کم از کم پانچوں اوقات پٹاری کو چاٹ بھی لگایا کرو لیکن ڈگریوں کے اس پٹاری کو دوسروں کی ذلت اور خود کے عزت کا ذریعہ ہرگز نہ بناؤ بلکہ کچھ ایسا کردکھاؤ کہ لوگوں کے دلوں میں خود بخود آپ کی عزت بڑھے۔۔۔۔۔۔۔!!!!
اور پاکستان میں تو ڈگریاں ٹماٹر کی قیمت پر دستیاب ہیں ایک صاحب کا تو سُنا ہے کہ ہر قسم کی ماسٹر ڈگری بمعہ سرکاری ریکارڈ کے تین لاکھ روپے میں بناکے دیدیتا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب لوگ علم حاصل کرتے تھے لیکن اب ڈگریاں حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ڈگری کے ہوتے ہوئے علم کی کیا اوقات ؟؟
اگر ہمارے ملک میں غریبوں کے بچے ڈگری کے حصول کے لئے جان لڑاکر ڈگری حاصل بھی کرلے تب بھی ہم پر قابض اشرافیہ قطعاً اس کے لئے تیار نہیں کہ غریب کے بچے کو اعلٰی عہدہ تو درکنارادنیٰ درجے کی نوکری ہی عطا کردیں۔
اس لئے ڈگریوں کے حصول کے باوجود ڈگری یافتہ غریب ذادوں سے جان چُڑانے کے لئے انٹری ٹیسٹوں اور پیشہ وارانہ امتحانات کے ذریعے جس طریقے سے ڈگریوں کی تذلیل کی جا تی ہے اس کے بارے میں آپ اُن سے پوچھئیں جو اِن تلخ مراحل سے گزر چکے ہیں۔
اس ملک میں ڈگری کی حیثیت اور معنی کو جو شخص صحیح سمجھا وہ ہے نواب اسلم رئیسانی جس نے ڈھنکے کی چوٹ پہ ببانگ دہل کہہ دیا تھا “کہ ڈگری تو ڈگری ہے چاہے اصلی ہو نا نقلی !!”
اب اگر دیکھا جائے اور سوچا جائے اور رئیسانی صاحب کے بے ڈھنگے اور نوابانہ انداز کو ایک طرف رکھتے ہوئے غور و فکر کے ساتھ شعوری طور پر سوچا جائے تو بات بہت ہی وزن دار کہی ہے اُنہوں نے!
مطلب پاکستان میں کوئی عہدہ حاصل کرنے یا حکمران بننے کے لئے ڈگری یافتہ ہونا ضروری نہیں بلکہ طاقتور اور دولت مند ہونا ضروری ہے ان دو چیزوں کے علاوہ جتنے بھی مسائیل ہیں سب کاغذی مسائیل ہیں جوکہ مزید کاغذ استعمال کرکے حل کئے جاسکتے ہیں۔
میں تو کہتا ہوں پاکستان کو اس حالت پر لانے والوں میں زیادہ کردار ان ڈگری والوں کا ہی ہے جو کہ اپنی اعلٰی تعلیمی ڈگریوں کے بل بوتے پر وطن عزیز کو نوچ رہے ہیں اور انتہائی نااہل ہوتے ہوئے بھی ملک کے اختیار مند بنے بیٹھے ہیں۔
حالانکہ یہ ڈگریوں کا اچار ڈالے ہوئے غیر معیاری با اثر شخصیات معاشرے کے فلاح میں کوئی بھی مثبت کردار ادا نہیں کرسکتے !
لہٰذا میرا ذاتی مشورہ ہے کہ کسی کی عزت و ذلت کا فیصلہ ڈگری پر نہ کیا کرو بلکہ ہر انسان کے عقل و شعور کو دیکھو اور اس کی سچائی اور معاشرتی کردار کو دیکھو۔
ورنہ ڈگری تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! چلیئے رہنے دیں ۔۔!!
814 total views, no views today


