سال 2008ء کے انتخابات صوبہ سرحد (اب پختون خوا) میں منعقد ہوئے اور صوبہ میں قوم پرست جماعت اے این پی کو اکثریتی کام یابی ملی اور صوبہ اور وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی سے مل کر حکومت بنائی۔ صوبہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت بنی ایک ہونہار وزیرا علیٰ صوبہ کو ملا۔ اے این پی حکومت کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ پختون قوم کو شناخت مل جائے اور اخبارات میں عوام کو نام تجویز کرنے کے لیے اشتہارات شائع کیے۔ لوگوں نے اپنے رائے دی جس میں زیادہ تر نے خیبر پختون خوا کے نام پر اتفاق کیا۔ یوں 2011ء کو عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے صدر آصف علی زرداری سے صوبہ سرحد کو خیبر پختون خوا میں تبدیل کرنے کی دستاویزات پر دست خط کرادیے اور اس طرح صوبہ خیبر پختون خوا کے عوام کو شناخت ملی اور صوبہ اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں پختون قوم نے خوشی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب یہ فیصلہ آتے ہی صوبہ ہزارہ اور سرائیکی برادری نے صوبہ کے نام کی تبدیلی کی بھر پور مخالفت شروع کی اور ہزارہ صوبہ کا مطالبہ کیا۔ صوبہ کے مطالبہ کے لیے مظاہروں میں ایبٹ آباد میں کچھ افراد شہید بھی ہوئے۔ ہزارہ کے لوگوں نے نئے صوبہ کے لیے ’’صوبہ ہزارہ‘‘ کے نام سے تحریک بنائی جس کی بابا حیدر زمان نے قیادت سنبھالی۔ وزیر اعظم پاکستان اور عمران خان نے الیکشن سے پہلے ہزارہ کے عوام سے صوبہ بنانے کا وعدہ بھی کیا۔ تاہم ابھی تک صوبہ ہزارہ نہ بن سکا۔ کیوں کہ ہزارہ ڈویژن کے چھے اضلاع کے عوام اس تحریک کے سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ ہزارہ ڈویژن چھے اضلاع پر مشتمل ڈویژن ہے، جس میں ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹ گرام، تورغر اور کوہستان شامل ہیں۔ تاہم یہاں پر صوبہ ہزارہ تحریک کی مخالف ’’تحریک اباسین ڈویژن‘‘ اس وقت بن گئی، جب ہزارہ کے لوگوں نے صوبہ پختون خوا کی مخالفت کی۔ اس کی واضح وجوہات یہ ہیں کہ اپر مانسہر ہ میں زیادہ تر پختون لوگوں کی آبادی ہے اور وہ کھل کر ہزارہ کی مخالف ہے۔ جب کہ ضلع بٹ گرام، ضلع تورغر، ضلع شانگلہ، ضلع اپر کوہستان اور ضلع لوئر کوہستان کے عوام تو پختون ہی ہیں اور صوبہ پختون خوا کے حق میں ہیں۔ ضلع بٹ گرام کے عوام نے تحریک اباسین ڈویژن شروع کی اور اپنے ممبران اسمبلی پرو زور ڈال دیا کہ اباسین ڈویژن بنایا جائے، اس پر صوبائی اسمبلی میں بحث کی گئی اور چار وں اضلاع بٹ گرام، تور غر، شانگلہ اور کوہستان کے ممبران اسمبلی نے اباسین ڈویژن کی بھر پور حمایت کی۔اُس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی نے چاروں اضلاع کے ممبران اسمبلی، بٹ گرام کے تاج محمد ترند، شاہ حسین باچا، شانگلہ کے ظاہر شاہ مرحوم، فضل اللہ، تورغرکے صوبائی وزیر نمروز خان، کوہستان کے ممبران اسمبلی مولانا عبید اللہ مرحوم، عبدالستارمفتی محمود عالم کو اعتماد میں لے کر اور بٹ گرام میں منعقدہ جلسے سے خطاب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا نے اباسین ڈویژن بنانے کا اعلان کیا۔اباسین ڈویژن کا اعلان ہوتے ہی چاروں اضلاع کے لوگوں نے اعلان کا خیر مقدم کیا، لیکن اے این پی حکومت ختم ہوگئی اور اباسین ڈویژن کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوسکا ۔
بتایا جاتا ہے کہ اے این پی والے نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہتے تھے، لیکن مردم شماری کی وجہ سے اُس وقت ایسا نہ کرسکے، جس سے چاروں اضلاع کے عوام مایوس ہوگئے ہیں۔ اے این پی کی حکومت ختم ہونے کی وجہ سے اب لوگوں نے اپنے دلوں سے اباسین ڈویژن کا خیال ہی نکال دیا ہے، کیوں کہ نئی حکومت میں ایسی کوئی جرأت اور عوام کے دل جیتنے کا حوصلہ نہیں ہے۔یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ ضلع کوہستان سے قرعہ اندازی میں نام آنے والے کام یاب ایم پی اے عبدالحق جو اس وقت وزیر اعلیٰ کے مشیر بھی ہیں، نے اپنے قوم کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ضلع کوہستان کو دو اضلاع لوئر کوہستان اور اپر کوہستان میں تقسیم کرادیا اور اس کی خوشی میں کوہستان کے عوام نے زبردست خوشی کا اظہار بھی کیا اور ریلیاں بھی نکالیں۔
ضلع کوہستان کی دواضلاع میں تقسیم کے بعد اباسین ڈویژن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اور کوہستان کے عوام اب یہ اُمید لے کر بیٹھ گئے ہیں کہ اب تو ضرور اباسین ڈویژن بنے گا اور اپر اور لوئر کوہستان، شانگلہ اور تورغر جوکہ سب سے پس ماندہ اضلاع ہیں، اباسین ڈویژن بننے سے ان اضلاع کے لوگوں کی محرومیاں دور ہوسکتی ہیں۔
ضلع شانگلہ کے ممبران اسمبلی محمد رشاد اور حاجی عبدالمنیم کو اباسین ڈویژن بنانے کے لیے اسمبلی فلور پر آواز اُٹھانا ہوگی۔ کیوں کہ اباسین ڈویژن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ضلع شانگلہ کے مرکزی شہر بشام جوکہ دنیا کے آٹھویں عجوبہ شاہراقراقرم پر واقع ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ تمام اضلاع کے سنگم پر واقع ہے، شمال کی طرف کوہستان کے اضلاع، جنوب کی طرف تورغر اور بٹ گرام ہیں اور مغرب کی طرف شانگلہ ہے۔ اس وجہ سے پانچوں اضلاع کے عوام چاہتے ہیں کہ بشام کو اباسین ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر بنایاجائے۔ تاکہ پانچوں اضلاع کے عوام کی رسائی ممکن ہو۔
ضلع بٹ گرام کے ممبر صوبائی اسمبلی شاہ حسین باچا نے بتایا کہ اباسین ڈویژن بہت جلد بنے گا، جس کے لیے ہم نے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور نئی حکومت سے ہر صورت پر اباسین ڈویژن کا قیام عمل میں لائیں گے۔ اباسین ڈویژن اب مزید اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ کیوں کہ اب پانچ اضلاع ہیں اور اب یہ قانونی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
اباسین ڈویژن سے شانگلہ، اپر، لوئر کوہستان، تورغر اور بٹ گرام کے عوام کی محرومیاں ختم ہوجائیں گی۔ لوگوں کو روزگار ملے گا اور اہم بات یہ ہے کہ ترقیاتی کم ہوسکیں گے۔ لوگوں کو ہزاروں روپے دے کر دیگر دوراضلاع جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ اپنے ہی نزدیک بشام شہر میں ڈویژن کے دفاتر جاکر مسائل حل کرسکیں گے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ صوبائی وزیر صحت اور صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت علی یوسف زئی کا تعلق بھی بشام سے ہے اور وزیر اعلیٰ کے مشیر عبدالحق کا تعلق لوئر کوہستان سے ہے۔ اسی لیے ان دونوں پر اباسین ڈویژن بنانے کے لیے ان کے کندھوں پر بڑی ذمے داریاں پڑی ہیں۔ یہ دونوں مل کر پانچوں اضلاع کے ممبران اسمبلی کو اعتماد میں لے کر اباسین ڈویژن کے قیام کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں اور عوام کی بھی ان سے یہی توقع ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت لوگوں کے احساس محرومی کو دور کرے گی اور سابق دور میں عوام کے ساتھ کیے گئے اعلانات کو بھی عملی جامہ پہنائے گی۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف شانگلہ کے ضلعی راہ نماؤں نے صوبائی حکومت سے اباسین ڈویژن کے قیام کے لیے جلد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تحریک انصاف کے راہ نماؤں کا کہنا ہے کہ اباسین ڈویژن کا قیام قومی اور اجتماعی مطالبہ ہے۔ اس لیے حکومت کو دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ضلع شانگلہ، لوئر، اپر کوہستان، تورغر اور بٹ گرام کے لوگوں نے صوبائی حکومت اور ممبران اسمبلی اور خصوصی طور پر صوبائی وزیر صحت شوکت یوسف زئی سے اباسین ڈویژن کے قیام کے لیے جلد منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔ تاکہ شانگلہ سمیت تمام اضلاع کے عوام کی آسانی سے ضروریات پوری ہوسکیں۔
*۔۔۔*۔۔۔*
2,566 total views, no views today


