کسی بھی انسان کی بہتر صحت کے لیے صاف پانی کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ صاف پانی چشموں، کنوؤں اور دریاؤں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر پانی کے اصل ذرایع سے پانی کے استعمال کرنے والوں تک کا فاصلہ صاف ستھرا ہو، پایپ کھلے ہوں، پانی کی سطح کے لیول میں مناسب ڈھلوان ہو اور پانی اپنی اصل منزل تک تیزی سے رواں دواں ہو، تو پھر فاصلوں اور پایپوں میں رکاؤٹ پیدا نہیں ہوتی۔ پھر ندی نالوں میں کیچڑ اور گندگی کی تہیں جمتی ہیں نہ پایپوں میں زنگ و آلودگی پیدا ہوتی ہے۔
صاف پانی کی تعریف بے رنگ، بے بو اور بے ذایقہ جیسی صفات سے کی جاتی ہے۔ بارش کے دنوں میں پانی کی پایپ لاینوں کو ’’لیک ایج‘‘ سے بچانا چاہیے۔ ورنہ صاف پانی کی پایپ لاینوں میں بارش کے پانی کی ملاوٹ سے پانی کا رنگ زردی مایل ہوجاتا ہے اور اس طرح پانی میں ہلکی بو (بدبو) بھی محسوس ہوتی ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ پانی کے اسٹور کے ٹینک کو ایک خاص عرصہ کے بعد صاف کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں جگہ جگہ پایپوں کے لیک ایج کا خیال رکھنا چاہیے۔ صحت کے اصولوں کے مطابق پانی کے ٹینک اور پایپوں کی رکھوالی کرنی چاہیے۔ گندا پانی پینے کی وجہ سے لوگوں میں پیچش، قے دست، ٹائی فائیڈ اور یر قان جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ضلع سوات کے دوسرے علاقوں کی طرح منگلور میں بھی یہ بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ دس فی صد لوگوں میں یرقان، پندرہ فی صد میں ٹائی فائیڈ اور تقریباً ساٹھ فی صد لوگوں میں پیٹ کے کیڑوں کے امراض ہیں۔ وزارتِ صحت خاص طور پر اس جانب توجہ دے اور پانی کے محکمے کی مقامی انتظامیہ کی مندرجہ بالا تمام ضروریات پورا کرے۔ انھیں صفائی کے لیے خاطر خواہ سامان اور لوازمات فراہم کرے۔ اس کے علاوہ منگلور کے لیے واٹر سپلائی کے عملہ میں اضافہ کرے۔ ان کی تن خواہوں اور سہولیات میں بھی اضافہ کرے۔ منگلور اب بہت بڑا گاؤں ہے اور آبادی پہلے کی بہ نسبت بہت بڑھ گئی ہے۔ ایک یونین کونسل کی بہ جائے اب یہ دو ولیج کونسلوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ منگلور ایسٹ کے چودہ اور منگلور ویسٹ کے پندرہ عدد کونسلر ممبرز ہیں۔ لہٰذا اس اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ منگلور عوام کی ضروریات، بنیادی سہولیات اور حقوق کا بھی لحاظ رکھا جائے۔ ان ضروریات اور سہولیات میں پانی اور پھر صاف پانی کا مہیا کرنا ایک اہم ذمہ داری ہے۔ نیز ایک اور ضروری نقطہ کی طرف وزارت پانی و صحت کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ مختلف ذرایع سے پانی کا بے دریغ ضیاع ہورہا ہے جو ملک و قوم کے مستقبل کے لیے نہایت ہی خطرناک شگون ہے۔ پوری دنیا میں پانی کا بحران سر اُٹھا رہا ہے۔ ہر ملک اور وطن میں پانی کے ذرایع تقسیم پر جھگڑے جنم لے رہے ہیں اور یہ بات اتنی خطرناک صورت حال اختیار کرچکی ہے کہ بعض بین الاقوامی ذرایع اس ڈر اور خوف کا اظہار کررہے ہیں کہ چہ جائیکہ دنیا کی تیسری جنگ پانی کے ذرایع تقسیم پر ہو۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف ذرایع سے پانی کے ضیاع کو روکا جا رہا ہے۔ اس بارے میں عوام کو معلومات دی جا رہی ہیں اور عوام کو اپنے ساتھ ملا کر بہ رضا و خوشی آمادہ کیا جارہا ہے کہ وہ پانی کی صفائی اور ضیاع کے روکنے میں حکومتی کوششوں کا ساتھ دیں۔ ہمارے لوگ بھی اس بارے میں احساس رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو ملک و قوم کے فیصلوں کے بارے میں اعتماد میں لیا جائے۔ عوام کو ساتھ ملایا جائے۔ عوام کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ صفائی، پانی، تعلیم اور امن و امان کے بارے میں حکومت کا بھر پور ساتھ دیں۔ آخر یہ ملک ہمارا ہے۔ اس ملک کی ہر چیز ہماری ہے۔ ہر شہری خود کو ذمہ دار سمجھے کہ وہ ایک چھلکا بھی غیر موزوں جگہ پر نہیں پھینکے گا۔صفائی نصف ایمان ہے، توکیا ہم نصف ایمان کے بھی قابل نہیں؟
648 total views, no views today


