تحریر فیاض خان
اسلام علیکم!
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہو نگے۔۔
خان صاحب خط کو مزید آگے بڑھانے سے پہلے میں آپ سے اپنے بچپن کا ایک واقعہ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ شام کا وقت اور اندھیرچھا نے والا تھا۔ ہم محلے کے سب بچے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اندھیرے کی وجہ سے بعض او قات گیند نظرتک نہ آتی پھر بھی کوئی لڑکا اب تک گھر جانے کے لئے راضی نہ تھاکیونکہ سب مرد حضرات گھروں پہ نہ ہونے کی وجہ سے آج ہماری چاند رات تھی ۔ یہ وہ دن تھاجب1997 میں انتخابات ہوئے تھے۔تھوڑی دیرگزری توایک بزرگ کے آجانے پہ ہمیں چند لمحوں کے لئے خاموشی اختیار کرنی پڑی۔ اس بزرگ ہستی نے کہہ ۔ بچوں تمہارا بلا جیت گیاہے ۔ہم سب آپ کی جیت مناکے گھروں میں جاکے سو گئے۔ صبح پتہ چلا کہ ایک پولنگ اسٹیشن میں برتری سے کوئی مکمل جیت نہیں ہوتی ۔ رات کی جیت اور صبح کی ہار نے ہمیں بہت کچھ سمجھایا۔
خان صاحب سوات میں کوئی گاوں ایسا نہ ہوگاجس کا آپ نے دورہ نہ کیاہو۔جھبی آپ نے سوات سے 2بار خود الیکشن لڑا۔جتناپیار آپ نے سوات کی عوام کو دیا اس کے بدلے میں ہم آپ کو اتنا ہی پیار1997 اور2002 کے انتخابات میں تو نہ دے پائیں تھے مگر2013 کے جنرل الیکشن میں مراد سعید کوسوات کی تاریخ کے ریکارڈووٹ دے کر ہم نے آپ کو آپ کی محبت کا بھرپور جواب دیا۔
سوات کی وادی اب تک جو کچھ جھیل چکی ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ آپریشن زلزلہ اور سیلاب نے اس وادی کو تباہ برباد کرڈالاہے۔ اور یہ وادی جو کھبی قدرت کا حسین تحفہ محسوس ہوتی تھی اب دکھ درد والم کی داستان نظر آتی ہے۔ کے پی کی حکومت کو چائیے تھاکہ اس ضلع کو خاص توجہ دیتی مگر باوجود تمام حالا ت کو مد نظر رکھنے کے بھی اس علاقے کو قطعی نظر انداز کر رکھا ہے۔
کے پی کی حکومت جوکہ پی ٹی ائی کے ہاتھ میں ہے اس نے سوات جیسی جگہ کے لئے بھی جوکہ ان کی اولین ترجیح ہونا چایئے تھا۔ ایک بے حد نااہل ٹیم جوکہ مجھے بے حد افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے چُنی ہے یہ وہ لوگ تھے جو کونسلر کے الیکشن بھی نہ جیت پاتے مگر سوات کی عوام نے انہیں بے انتہامان کے ساتھ پارلیمنٹ بھیجا ہے۔ یہ عوام کا عمران خان صاحب کی پارٹی پر احسان نہیں وہ اعتبار تھا جو انہوں نے ان کے وعدوں پہ کیا۔
ان عہدیداروں کی کارکردگی حقیقت میں توکہیں نہیں صرف اور صرف سوشل میڈیا پر ہی نظر آتی ہے۔تبھی عوام نے اس نا اہل ٹیم جس کو سوات کے لئے عمران خان صاحب اور ان کی پارٹی نے چنا کو عجیب و غریب نام دے رکھیں ہیں۔ جیسے کہ فیس بک ایم پی اے، فوٹوسیشن صاحبِِ، ٹک شو ایم این اے، اور تو اور ایک پولیس اسٹیشن جوکہ آج کل سوشل میڈیا پربھی کافی منظرپر ہے اُسے بھی فیس بک اسٹیشن کا نام دیاگیا ہے۔ ۔
عوام میں عمران خان صاحب آپ کی حکومت کے حوالے سے نااُمیدی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ سوات میں حکومت تو آپکی ہے مگر اس کے باوجود و38 کلومیٹر کی ایک سڑک کے لئے پنجاب کے وزیراعلٰی شہباز شریف کو خط لکھنے پہ مجبور ہیں۔۔۔۔
کچھ لوگ تو اپکی حکومت کو یہ مشورہ بھی دے رہے ہے کہ سوات کے ایک ہی بڑے ہسپتال (سیدو شریف ہسپتال) کو بند کرکے اُسے آثارِقدیمہ قراردے دیں اور ساتھ100 روپے کاٹکٹ لگادے کیونکہ وہ ہسپتال علاج کی تمام سہولیات سے توسرِے سے عاری ہے تو پھراُسے ہسپتال کہلانے کا کیا جواز؟ ۔
سرسینی روڈ جو ایم این اے مراد سعید کے گھر سے صرف 2 کلو میٹر دور ہے اس روڈ پر عوام بارش ہونے کے بعد مچھلیوں کا شکار کرتی ہے کیونکہ یہ سڑک اس وقت ایک ندی کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یوں تو عوام کا عام حالات میں بھی اس سڑک پر چلنا دوبھر ہے مگر بارش کے بعد وہ حکومت کو جن القابات اور خطابات سے نوازتی ہے وہ قابل تحریر نہیں۔
خان صاحب اگر آپ کو واقعی نیا پاکستان بنانا ہے تو آپ کو اس نااہل ٹیم سے جان چھڑانی ہوگی کیونکہ سوات کی عوام بس ایک ہی بارموقع دیتی ہے اور عوام اب اس حکومت کو دیکھ پر کھ اور خاصا بھگت چکی ہے اور اب دوبارہ اعتبار نہیں کرے گی سو ضرورت اس امرکی ہے کہ نئے قابل چہرے سامنے لائیں جائیں ورنہ عنقریب آپ کی پارٹی بھی دیگر پارٹیوں کی طرح سوات کی سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دُورکردی جائے گی۔ کیونکہ ابھی تک تو آپ کی ہی نااہل ٹیم بلدیاتی انتخابات کا حصہ بننے جارہی ہے اور پھر نتیجا عوام جلدہی آپ کی پارٹی کو خداحافظ کہہ دے گی ۔سوات کی عوام پر تو آپنے رحم کیا نہ کیا مگر اب اپنی پارٹی کے مستقبل پر ضرور رحم کریں۔۔
نوٹ؛۔ یہ خط چیرمین پی ٹی ائی عمران خان صاحب کوبذریعہ کو رئیر بھی بھیجا جارہاہے اور ساتھ ہی ساتھ ممبران صوبائی ، قومی اسمبلی اور خصوصاعوام کے لئے اخبار میں بھی شائع کروایا جارہا ہے۔
698 total views, no views today


