میرا ذاتی طور پر کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں ہے لیکن جو میں محسوس کرتا ہوں، وہی سپرد قلم کرتا ہوں۔ میں شروع سے پاکستان تحریک انصاف کا مخالف ہوں۔ بار بار اس کو تنقید کا نشانا بنایا ہے۔ کئی بار میں عمران خان صاحب اور اس کی پارٹی کو راہ راست پر لانے کے لیے اردو اور انگریزی اخبارات میں آرٹیکلز اور بلاگ بھی لکھے۔ ایک آرٹیکل جس کا عنوان تھا ’’عمران خان صاحب! کہا ہے آپ کی تبدیلی؟‘‘ ایک اور اس عنوان سے تھا کہ ’’خان صاحب! میں بھی آپ کا فین تھا لیکن۔۔۔‘‘ اس طرح کافی دیر تک ہم سب تبدیلی کی راہ تکتے رہے۔ میری اس روش کی بنا پر سوشل میڈیا پر میرے بہت سارے جوان دوستوں نے مجھے بلاک کیا اور کئیوں کو میں نے بلاک کرنا مناسب سمجھا۔ اس طرح یہ سلسلہ آگے جاتا رہا اور آخر میں جا کر کہیں ہمیں تبدیلی کے کچھ آثار نظر آنے لگے۔ ہمارے علاقوں سمیت پاکستان بھر میں دو مسئلے تعلیم اور صحت کے متعلق ہیں اور شاید قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان دو اداروں میں کوئی بہتری دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ پاکستان میں سب سے آرام دہ اور سکون کی نوکری ٹیچنگ کو سمجھا جاتا تھا اور ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ میں سرکاری ٹیچر بنوں۔ یہ اس لیے نہیں کہا جاتا تھا کہ قوم کی خدمت کرنامقصود تھا بلکہ فرض سے پہلو تہی اور آرام ہی مقصد ہوا کرتا تھا۔ ہمارے علاقوں میں دور دراز اسکولوں میں دو ٹیچرز ہوتے تھے اور وہ نمبر وار اسکول میں حاضری دیتے تھے، یعنی ایک ہفتہ ایک ٹیچر اسکول جاتا تھا اور دوسرے ہفتہ دوسرا ٹیچر۔ یہ سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے چلتا آ رہا تھا اور اس کے علاوہ سال میں تین مہینے سردیوں کی اور ایک مہینہ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں، تو اس طرح ایک ٹیچرکل ملا کے سال میں دو تین مہینے ہی ڈیوٹی کرتا تھا اور یہی وجہ تھی کے سارے لوگ ٹیچنگ کو ترجیح دیتے تھے۔ برسبیل تذکرہ، ایک دوست کہہ رہے تھے کہ کئی سالوں پہلے اس کی بیوی (جوکہ پرایمری اسکول ٹیچر ہے) کا دور ایک اسکول میں تبادلہ ہوا اور چھ مہینوں تک اس نے اس اسکول کو دیکھا تک نہیں۔ بعد میں اس کا وہاں سے تبادلہ ہوا۔ اس طرح صحت کے شعبہ میں لوگ عیاشیاں کرتے رہتے تھے۔ اسپتال میں کم اور اپنے ذاتی کلینک میں زیادہ وقت گزارتے تھے۔ جب بھی کوئی مریض سرکاری اسپتال میں جاتا تھا، تو ڈاکٹر صاحب اسے اپنے پرائیوٹ کلینک میں آنے کا مشورہ دیاکرتے تھے۔
پچھلے سال ہی میری ملاقات ایک بچوں کے ڈاکٹر سے اس کے ذاتی اسپتال میں ہوئی۔ اس وقت جب ایک ضیف العمر عورت آئی اور اسے کہا کہ ڈاکٹر صاحب اگر آپ ہمارا یہ آپریشن سرکاری اسپتال میں کریں، تو بہت ہی اچھا ہوگا۔ کیوں کہ ہمارے پاس انتے پیسے نہیں ہیں کہ ہم یہاں آپریشن کرا سکیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جواباً کہا کہ یہ سرکاری اسپتال میں نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ وہا ں کوئی آپ کا خیال نہیں رکھے گا۔ آپ کو ہر حال میں یہ آپریشن یہاں اسی پرائیوٹ اسپتال میں ہی کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری اسپتالوں میں انسانوں کے ساتھ کتے سے بھی بدتر سلوک کیا جاتاتھا۔ اب جا کے مجھے تبدیلی کے کچھ آثار نظر آنے لگے ہیں۔ وہ یہ کہ تمام ٹیچرز اور ڈاکٹرز پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان صاحب کے خلاف ہوگئے ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خان صاحب نے خیبر پختون خوا میں ان دو اداروں کو کافی حد تک راہ راست پر لایا ہے اور دونوں محکموں میں مانیٹرنگ یونٹقایم کیے ہوئے ہیں جوکہ کافی کار آمد ثابت ہوئے ہیں۔ یوں اب تبدیلی بولنے لگی ہے۔
پچھلے مہینے خیبر پختون خوا میں محکمۂ تعلیم کے دو سو پچاس افسران اور اساتذہ کو کرپشن اور ناقص کاکردگی پر برطرف کیا گیا اور اب ہزاروں کے خلاف تفتیش جاری ہے۔ اس کے علاوہ کے پی گورنمنٹ، پولیس اور فارسٹ ڈپارٹمنٹ میں بھی کافی حد تک بہتری لائی ہے۔ رشوت کا عمل کافی حد تک کم ہوگیا ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسی سالہ دور میں پہلی بار ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں کئی اسامیوں پر شفاف طریقہ سے بھرتیاں کی گئیں اور کئی کو تنقید کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ٹمبر مافیا کے خلاف اعلان جنگ کے بعد ہمارے علاقوں سے قیمتی لکڑی کی اسمگلنگ میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زیادہ تر علاقوں میں نئے درخت بھی لگائے گئے ہیں جو کہ ایک قابل تعریف عمل ہے۔
اپنی تبدیلی کے نعرہ کو درست ثابت کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کو ابھی خیبر پختون خوا میں بہت کچھ کرنا ہے جس میں انفرا اسٹرکچر، سڑکوں کی تعمیر، اسکولوں اور اسپتالوں کی از سر نو بہ حالی شامل ہے۔ کیوں کہ آج بھی صوبہ کے دور دراز علاقوں میں لوگ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
سب سے بڑھ کر لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنا ہے اور ایک ایسے معاشرہ کو تشکیل دینا ہے جہاں ایک عام آدمی کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو۔ نظام میں تبدیلی لانے کے لیے ایک عام انسان کا تبدیل ہونا بہت ضروری ہے۔
632 total views, no views today


