اس مر ض میں آلا ت حس و و حر کت میں خر ا بی پیدا ہو جا تی ہے اور عضلا ت میں تشخج ہو کر مر یض زمین پر گر پڑتا ہے ہا تھ پا ؤ ں کھنچے جا تے ہیں اور منہ سے جھا گ نکلتی ہے اکثر مر ض معدہ کی خرا بی سے ہو تی ہے۔
اس مر ض کے دو اقسام ہے ایک اروا ح خبیثہ ریہ کے بنا ء پر ہو تا ہے دوسر ا اخلا ط رویہ کے وجہ سے اسی دوسری قسم کی اطبا ء علا ج و اسبا ب بیان کر تے ہیں ۔بلکہ بعض انا ڑی اطبا ء جنہیں اس مر ض سے کو ئی خا ص واقفیت نہ ہو بلکہ علا ج میدا ن میں ان کا کو ئی مقا م ہی نہ ہو وہ صر ع اروا ح کا انکا رکر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لغو یت ہے اس کا جسم انسانی پر اثرا ندا ز ہو نے کا کیا تعلق ہے ایسے لو گ انا ڑی اور نا دا ن ہے ۔لیکن کہتے ہیں کہ ہمار ی طب میں اس کا کو ئی دا فع نہیں ہے ۔قدیم اطبا ء اس قسم کی مر گی کو صر ع الٰہی کہا کر تے تھے اور کہتے کہ یہ رو حو ں کا کر شمہ ہے اور جا لینو س وغیر ہ نے اس کی تا ویل کر تے ہو ئے بیا ن کیا کہ بیمار ی سر میں پیدا ہو تی ہے اور چو نکہ دما غ ایک پا کیزہ مقا م ہے جہا ں خدا کا مقا م ہو تا ہے اس لئے اس مر ض کو الٰہی مر گی کہتے ہیں ۔اس مر ض کا علا ج اروا ح شر یفہ خیر یہ علو یہ کے ذریعہ ہی ممکن ہے وہی ان اروا ح خبیثہ کا مقا بلہ کر سکتی ہے اور اس کے آ ثا ر مٹا سکتی ہے اور اس کے افعا ل مدا فعت ان سے ممکن ہے ۔
اسبا ب
اکثر یہ مر ض مو رو ثی ہو تی ہے اور عا م اسبا ب مر ض یہ ہیں ۔ کثر ت جما ع ،جلق ،دما غپر چو ٹ آنا ،دما غی رسو لی ،ورم دماغ،کثر ت محنت دماغی، شرا ب نو شی ،نقر س ،کسی زہر یلے چیز کی سمیت ،فتو ر حیض بچو ں کا اچا نک ڈرجا نا اور دا نتو ں کے امرا ض سے بھی یہ مر ض لا حق ہو جا تا ہے ۔
تشخیص
ابتدا ء میں جسم کی کسی حصے میں سر سرا ہٹ ہو تی ہے سر در د چکر آ نا اور ڈرا ونی شکلیں نظر آ تی ہے پھر مر یض چیخ ما رکر بے حو ش ہو جا تا ہے اور زمین پر گر پڑتا ہے کبھی ہا تھ پا ؤ ں میں تشخج ہو کر چہر ہ نیلگوں ہو جا تاہے اور آ نکھو ں کے ڈھیلے اوپر کو چڑھ جا تے ہیں تو کبھی سا نس مشکل سے آ تا ہے منہ سے جھا گ نکلتی ہے پیشا پ اور پا خا نہ تک بے اخیتیا ر نکل جا ت ہے اور ہا تھ پا ؤں جھٹکا لگتا ہے مر یض سر آ ہیں بھر تا ہے اور تھو ڑی دیر میں مر یض کو ہو ش آ جا تا ہے دورہ کی مدت پا نچ منٹ سے لیکر آ دھے گھنٹے تک ہو سکتاہے بعض مر یضو ں کو ہر رو ز دورہ پڑتا ہے اور بعض کو دن میں کئی با ر اور کسی کو تو کئی سال اور ما ہ تک گز ر جا تے ہیں مر گی کا دورہ پا نچ درجہ پر ہو تا ہے ۔
1 ۔ جسم کی کسی حصے میں سر سر ا ہٹ اور چیو نٹیو ں کا رینگنا ڈرا ونی شکلیں نظر آ نا ۔
2 ۔ اس کے سا تھ سا تھ چیخ مار نا
3 ۔ تشخج ہو جا نا یعنی جسم کے عضلا ت کا کھینچے جا نا
4 ۔ سا رے جسم کا اکڑجا نا اور جھٹکے لگنا
5 ۔ بے حو ش ہو جا نا اور بے حو شی عمو ماً نیند میں تبدیل ہو جا تی ہے
اس کے بعد مر یض ہو ش میں آ جا ت ہے مر گی اور ہسٹیر یا کے دو رے علا ما ت با الکل مشا بہ ہو تی ہے اس لئے معا لج کو ان میں فر ق جا ننا ضر و ری ہے مر گی با لعمو م مر دو ں کو ہو تی ہے اور دورہ کے دورا ن باالکل بے ہو شی ہو تی ہے ،دورہ ہر جگہ پڑ سکتا ہے ،دورہ کے وقت مر یض زبا ن کا ٹ لیتا ہے ۔اور غیر ارا دی طور پر بول و برا ز خا ر ج ہو جا تا ہے ۔تشخج کی حر کا ت منظم ہو تی ہیں لیکن ہسٹر یا کے دورے سے پہلے ایسی کو ئی علا مت نہیں ہو تی ۔
علا ج
اس مر ض کا علا ج تین حصو ں میں تقسیم کیا جا تا ہے ۔1 دورہ کی علا مت شر و ع ہو تے وقت رفع کر نیکا علا ج کر نا تا کہ دورہ رک جا ئے ۔2 ۔ دورہ مر ض ہو نے کے بعد دورہ رفع کر نے کا علا ج ۔3 ۔ مر ض کا مکمل استیصا ل اور شافی علا ج
بطور حفظ ما تقد م جس وقت دورہ کی علا ما ت شر و ع ہو ں اور جس کا جگہ سر سرا ہٹ شر وع ہو جا ئے اس جگہ کو مضبو ط با ند ھیں یا چٹکی بھریں یا اس جگہ پر بر ف رکھد یں اعضا ء کو زور سے کھینچنا اچھلا نا ،حقنہ کر نا ،قے کر ا نا ،جلا ب دینا وغیر ہ علا ما ت کو ر و کنے کے لئے بہتر ین تدا بیر ہیں ۔ ان تدا بیر کا تعلق مر یض یا مر یض کے گھر وا لو ں سے ہیں ۔طبیب کے پا س پہنچنے تک یہ تما م مر ا حل گزر کر دورہ پڑ چکا ہو تا ہے اگر ایسی صو ر ت میں طبیب کے پا س آئے تو طبیب مر یض کو صا ف کھلی اور ہوا دار نر م جگہ پر لٹا کر سر کو او نچا رکھیں اور زبا ن کو دیکھیں کہ کہی دا نتو ں سے نیچے آ کر نہ کٹ جا ئے دا نتوں کے در میا ں کپڑے کی گدی یا پلا سٹک کی بو تل یا ربڑ کی کو ئی چیز دے دیں منہ پر سر د پا نی کے چھینٹے مار ے اور سر پر بر ف لگا ئیں ۔اگر کا مل بے ہو شی ہو جا ئے تو ہو ش میں لا نے کی کو شش نہ کر یں تھو ڑی دیر بعد مر یض خو د بخو د ہو ش مین آ جا ئے گا۔دورہ دو ر ہو نے کے بعد اگر سر درد ہو تو سر درد کی کو ئی بھی دوا دے دیں ۔
مر ض کی مکمل استیصا ل اور شا فی علا ج کے لئے ضر ور ی ہے کہ اصل سبب کو معلو م کیا جا ئے اور منا سب علا ج سے دور کیا جا ئے ۔مر یض کو قبض نہ ہو نے دیں محر کا ت ،قہو ہ ،تمبا کو نو شی ،اور جو ش و جذبا ت سے پر ہیز کرا یا جا ئے ۔معدہ امعا ء اور جگر کے فعل کو درست رکھیں ۔مر گی کی علا ج میں حب صر ع ،خمیر ہ گا و زبا ن عنبری جدوا ر عو د صلیب والا اور اکسیر مر گی بہتر یں ادو یا ت ہے ۔ مر گی کی مر ض میں حجا مہ لگا نا بہت مفید ہے اور معمو ل مطب ہے ۔اللہ تعا لیٰ نے اس سنت طر یقہ علا ج سے کئی لا علا ج مر یضو ں کو شفا ء عطا فر ما ئی ہے ۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ مر گی کے علا ما ت ظا ہر ہو تے ہی کسی مستند اور حا ذق طبیب سے علا ج کر ا یا جا ئے ۔ ورنہ بعض مر تبہ تو انا ڑی معا لج نبض اور مزا ج کے جا نے بغیر صر ف تیا رادو یا ت پر فو ا ئد پڑھ کر مر یض کا علا ج کر اتے ہیں جس سے مر یض کا مرض پختہ ہو تا چلا جا تا ہے
1,158 total views, no views today


