کبل، انتظامیہ اور ممبران اسمبلی کی ملی بھگت سے شرپسندوں نے رات کی تاریکی میں نیک پی خیل اڈہ میں خندقین کھود کر ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے جو کہ نیک پی خیل کے عوام کے ساتھ شرمناک مذاق ہے اہلیان نیک پی خیل کے ساتھ امتیازی سلوک بند کرکے قانون کے دائرہ میں رہ کر قدم اٹھایا جائے نیک پی خیل اڈہ کسی صورت منتقل نہیں ہونے دینگے زبردستی کی گئی تو پورے سوات کو جام کردینگے جس کے نقصان کی ذمہ داری ممبران اسمبلی اور انتظامیہ کے سر عائد ہوگی انتظامیہ بامقصد مذاکرات کے لئے سامنے آکر مسائل و مشکلات کا خاتمہ کریں اپنے جائز حق کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں پورے علاقے کے مشران کو یکجا کرکے قانون و آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے بھر پور قوت کا مظاہرہ کر ینگے ان خیالات کا اظہار نیک پی خیل اڈہ کھدائی و بند ش کے خلاف کبل میں منعقدہ گرینڈ جرگہ مشران خورشید کاکاجی،ابراہیم دیولئی،عبد الغفور،سلطان خان،خائستہ باچا،مصباح الدین ،نادر خان، مفتی عارف اللہ،بہادر،نیاز احمد،پیر محمد علی،پائی محمد خان اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ نیک پی خیل اڈہ کھدائی و بندش پر انتظامیہ کی چشم پوشی اور گرینڈ جرگہ مشران کے ساتھ مذاکرات پر خاموشی نے ثابت کردیا کہ انتظامیہ اور ممبران اسمبلی اڈہ منتقلی میں ہونے والے سازش کا حصہ ہے جس کی پر زور مزمت کرتے ہیں کیونکہ غیر شرعی ،غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر اڈہ کی بندش سے غریب ٹرانسپورٹرز دو وقت کی روٹی سے محروم ہوگئے ہیں جو کہ ظلم و نا انصافی پر مبنی ہے جو کسی صورت قبول نہیں اس موقع پر علاقہ مشران عبد الغفور،نادر خان،خورشید خان،سلطان خان،کمال،خورشید کاکاجی،حافظ اسرار امد،عزیز الرحمن،خورشید کاکاجی،ملک ریاض احمد،سلیم خان،حاجی بہادر،شاہی محمد،سردار احمد خان یوسفزئی،فیروز شاہ خان،شیر علی شاہ،پیر محمد علی،مفتی عارف اللہ اور تور خان پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی جو صوبائی حکومت سمیت دیگر ارباب اختیار کے ساتھ چند دنوں کے اندر اندر درپیش مسلہ پر بات چیت کے لئے اہم ملاقاتیں کرینگے جبکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں ٹرانسپورٹ برادری اہلیان نیک پی خیل کے ہمراہ آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کرینگے یا د رہے کہ بروز اتوار شروع ہونے ولا پہیہ جام ہڑتال نامعلوم مدت تک جاری رہے گا نیک پی خیل ٹرانسپورٹرز نے کامیاب ہڑتال کو ہر صورت جاری رکھنے کے لئے جامع منصوبہ بندی کرلی ہے اور کہا ہے کہ عوام کو درپیش مشکلات کی ذمہ دار انتظامیہ اور ممبران اسمبلی ہیں۔
636 total views, no views today


