میری ساری زندگی چوں کہ محرومیوں سے عبارت ہے اس لیے جب انجینئر صاحب نے کہا کہ’’سحابؔ ! یہ تکلیف تم تبھی محسوس کرسکتے ہو، جب خود کو اس کی جگہ پر رکھو۔‘‘ اور جب میں نے چشم تصور میں ایسا کیا، تو میری سیٹی گم ہوگئی۔ تصور میں ’’عدن‘‘ کا مسکاتا چہرہ اور ’’احسن‘‘ کی شوخیاں بہ جائے مجھے خوش کرنے کے مزید افسردہ کرگئیں اور چھ سات سال پہلے ذہن کا حصہ بننے والا یہ شعر کوندے کی طرح لپکا
رات خالی ہاتھ جب گھر لوٹ کر جاتا ہوں میں
مسکرا دیتے ہیں بچے اور مر جاتا ہوں میں
قارئین کرام! پشتو کا مقولہ ہے: ’’تاؤ پہ اغہ زے ئی چے اور پے بلیگی۔‘‘ اٹھائیس سالہ محمد امین جو دل کے عارضہ میں مبتلا ہے۔ اس کا درد محسوس کرنے کے لیے واقعی ہمیں خود کو اس کی جگہ پر رکھنا پڑے گا۔ اگر یہ کام سب سے پہلے میں کروں تو صورت حال کچھ یوں بنتی ہے کہ محمد امین کے تین پھول جیسے بچے ہیں اور میرے دو۔ سرِ شام وہ بھی میرے عدن اور احسن کی طرح اپنی معصوم سی خواہش اور چھوٹی موٹی فرمایش پورا ہونے کی خاطر گھر کے دروازے میں کھڑے اپنے علیل باپ کا انتظار کرتے ہوں گے۔ یہ الگ بات ہے کہ محمد امین زیادہ تر فرمایشوں کو پورا کرنے کی سکت نہ رکھتا ہوگا جب کہ میں مہینے کی پندرہ تاریخ تک اپنے جگر گوشوں کی کوئی فرمایش رد نہیں کرتا۔ وہ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے کشیدہ کاری کا کام کرتا ہے اور میں الفاظ بیچتا ہوں۔ وہ صبح سے شام تک اگر روٹی کا وقفہ اور دوپہر اور عصر کی نماز کے علاوہ کام میں جھتا رہے، تو بہ مشکل دو وقت کی روٹی کمانے کے قابل ہوجاتا ہے اور بدنی تکالیف اٹھاتا ہے جب کہ اس حوالے سے میری حالت قدرے بہتر ہے۔ لیکن جب بھی یہ سوچتا ہوں کہ میں بھی محمد امین ہی کی طرح ایک کم زور انسان ہوں، تمام عمر صحت مند نہیں رہوں گا، ایک نہ ایک دن مجھے بھی محمد امین کی طرح بستر سے لگنا ہے، اس وقت میری شریک حیات اور خاص کر میرے ننھے منے جگر گوشوں کی کیا حالت ہوگی؟ یہ سوچتے ہی میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ تبھی تو رات کے بارہ بجے جب ہو کا عالم ہے، بیٹھا اپنے من کا بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر الفاظ کی ہیراپھیری میں مگن ہوں۔ برسبیل تذکرہ، اسی معاشرے کا حصہ چند دردِ دل رکھنے والے دوست ایک عرصہ سے بے بس و لاچار مریضوں کی دوا دارو کا بندوبست کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مختلف چھوٹے موٹے آپریشنوں کا خرچہ بھی اٹھالیتے ہیں مگر جب ان کی طاقت جواب دے جاتی ہے، تو پھر وہ طوعاً و کرہاً مختلف در کھٹکھٹایا کرتے ہیں اور ایسا کرنے میں بالکل عار محسوس نہیں کرتے۔ مذکورہ دوستوں میں سے ایک انجینئر کشور علی بھی ہیں۔ انھیں جب بھی ذکر شدہ نوعیت کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، تو وہ مجھے فون کرلیتے ہیں اور اخبار کی مدد سے مسئلہ حل کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ اب یہاں مختلف کیسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ مریض کی اپنی استطاعت سے زیادہ مدد کر دیتے ہیں اور یوں مریض اور اس کے اہل و عیال ایک طرح سے امدادی روپیہ پیسہ علاج کے علاوہ عام ضروریات کے لیے استعمال کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ کئی ایسے کیس ہیں جن میں ہم اپنا حقیر سا حصہ ڈال چکے ہیں، پیر و مرشد ’’بابا جی‘‘ کو بھی تکلیف دے چکے ہیں، کئی موقعوں پر ڈاکٹر سلطان روم اور استاد محترم فضل ربی راہیؔ کو بھی زحمت دی جا چکی ہے، جاوید احمد (حال یو کے) کی مدد بھی طلب کی گئی ہے، مگر بعد میں مریضوں اور ان کے اہل و عیال کی جانب سے ایک طرح سے امدادی رقوم دیگر ضروریات کے لیے استعمال کرنے کی عادت نے ہمیں کئی بار دل برداشتہ کیا۔ اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ اس بار مریض کے رابطہ نمبر کے ساتھ انجینئر کشور علی (جو کہ ان دوستوں میں سے ایک ہیں جو دردِ دل رکھنے والے ہیں اور اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے) کا رابطہ نمبر بھی دیا جائے، تاکہ مخیر حضرات کا قیمتی روپیہ پیسہ علاج کے علاوہ کسی بھی اور ضرورت کے لیے استعمال ہوکر ضایع نہ ہو۔ اس قسم کی مالی معاونت کرنے والے مخیرحضرات میں سے میں بہ ذات خود کئی ایسے حضرات کو جانتا ہوں جو انسانیت کی خاطر بسا اوقات اپنا پیٹ تک کاٹنے سے گریز نہیں کرتے۔
قارئین کرام! محمد امین کی طرف واپس لوٹتے ہیں جس کے دل کے ایک ’’والو‘‘ کا مسئلہ ہے۔ اگر اس کا بروقت آپریشن نہیں کیا گیا، تو (خدا نخواستہ) اس کی جان ضایع ہوسکتی ہے۔ اس حوالہ سے ڈاکٹر عبدالہادی (ہرٹ اسپیشلسٹ) سے ’’مفت مشورہ‘‘ لیا گیا جو کہ ایسے موقعوں پر ہماری ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ انھوں نے مذکورہ مسئلہ کے حل کے لیے دو راستے دکھا دئیے۔ پہلا راستہ یہ کہ آپریشن علاقائی زکوٰۃ چیئرمین کی مدد سے ممکن ہے جب کہ دوسرا راستہ پاکستان بیت المال کی ’’مالی امداد‘‘ ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اولذکر راستہ چار سے چھ ماہ کے صبر آزما انتظار کے بعد کھلے گا جب کہ دوسرا راستہ کھلنے میں اس سے بھی زیادہ وقت لگنے کا احتمال ہے۔ اٹھنے والا خرچہ’’ ایک لاکھ اسّی ہزار روپیہ‘‘ ہے جس میں پچھلے ایک ہفتہ کے دوران میں دس پندرہ ہزار روپیہ کا بندوبست ہوچکا ہے۔ اب بات ایک لاکھ ساٹھ یا پینسٹھ ہزار روپیہ کی ہے۔ واضح رہے کہ محمد امین کے علاوہ کئی ایسے مریض اور مریضائیں ہیں جن کے علاج معالجہ کا خرچہ انجینئر کشور علی اور اس کے دوست اٹھا رہے ہیں۔
قارئین کرام! اگر کسی طور ذکر شدہ رقم کا بندوبست ہوجائے، تو ہم جیسا ایک جیتا جاگتا انسان لاچارگی کے عالم میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے سے بچ سکتا ہے۔ وہ اپنے پانچ افراد (میاں بیوی کو ملا کر) پر مشتمل خاندان کا واحد سہارا ہے۔ آج وہ بیمار ہے، لاچار ہے۔ کل کو خدا نخواستہ ہم میں سے کوئی اسی طرح بیمار پڑ سکتا ہے۔ آج اس کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے والوں کے لیے کل کوئی اور دردِ دل رکھنے والا ہاتھ پاؤں مارے گا کہ اسے ہی مکافات عمل کہتے ہیں۔ انجینئر کشور علی سے رابطہ 03479311384جب کہ مریض محمد امین سے 03412219719پر رابطہ ہوسکتا ہے۔جاتے جاتے بابا جی ( اللہ ان کی عمر دراز کرے) کے الفاظ کوٹ کروں گا کہ ’’جو دے اس کا بھی بھلا، جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔‘‘
ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
812 total views, no views today


