بلدیاتی انتخابات میں اقلیتی برادری کیلئے ایک اچھا موقع
تحریر: وقار احمد
سوات میں جو ں جوں 31 مارچ کو ہونے والے انتخابات کا دن نزدیک ارہا ہیں ضلع بھر کے سیاسی درجہ حرارت میں ساتھ ساتھ تیزی اگئی ہے، ضلع بھرمیں سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں نے ایک بھر پور مہم شروع کردیاہے ، جس سڑک ، گلی ، اور دیوار پر نظر ڈالیں تو درجن بھر سے زائد امیدواروں کی فلیکس، بینرز، پوسٹرز، سٹیکرز نظر ائیں گی ، صوبہ میں اگر چہ یہ جنرل کونسلرز، کسان کونسلرز، یوتھ کونسلرز کا انتخاب غیر سیاسی ہوگا، لیکن پوسٹرز میں یہ امیدوار اپنے ساتھ کسی بڑے سیاسی لیڈر کا تصویر ضرور لگاتے ہیں ،تاکہ ہمدردی اور مقبولیت کے ووٹ اپنے کھاتے میں ڈال سکیں، ان غیر جماعتی الیکشن میں اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کو بھی پہلی مرتبہ زیادہ نمائندگی دینے کا حق دیا گیا، ہر ویلج، نائبر ہوڈ کونسل میں اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کو ایک سیٹ دیا گیا ہے، جو ں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہواہے،سوات کے بیشتر علاقوں میں اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان بھی اس بلدیاتی الیکشن میں مقابلہ ہو گا، اقلیت سے تعلق رکھنے والے سب سے زیادہ امیدوار مینگورہ شہر سے سامنے ائے ہیں جو ایک خوش ائند اقدام ہے ، لیکن افسوس اس بات پر ہورہاہے کہ ابھی تک کسی سیاسی پارٹی نے ان لوگوں کیلئے اس طرح کی مہم نہیں چلائی جس طرح وہ دیگر امیدواروں کیلئے چلاتے ہیں، نہ ابھی تک کسی ضلع امیدوار نے اپنے بینرز میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے امیدوار کی تصویر لگائی ہے تاکہ لوگ بھی جان سکیں کہ اقلیت سے فلاں شخص الیکشن لڑ رہا ہے۔
سوات میں تین بڑے اقلیتی برادری ہے جن میں سکھ ، ہندو اور عیسائی شامل ہیں، ان میں سب سے زیادہ تعداد سکھ برادری اور اس کے بعد عیسائی برادری کی ہے، اس الیکشن میں تقریبا 25 سے زائد اقلیت سے تعلق رکھنے والے امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ سیاسی پارٹیوں نے تحصیل اور ضلع کونسل کیلئے بھی اقلیت سے امیدوار نامزد کئے ہیں، انے والے بلدیاتی الیکشن میں اتنے بڑے تعداد میں اقلیت برادری سے تعلق رکھنے والوں کا انتخاب یقیناًان تمام لوگوں کیلئے ایک نیک شگون ثابت ہوگا، کیونکہ جن مسائل سے یہ لوگ نبرد ازما ہیں ان کی طرف جمہوری حکومت کی انکھیں نہیں پہنچ پاتی، یہ مسائل سالہاسال سے یوں ہی پڑے ہیں، اگر چہ سوات سے ایک سینیٹر منتخب ہوا، سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے اس سینیٹر کو ٹکٹ پاکستان تحریک انصاف نے دیا تھا جس پر وہ کامیاب ہوا،لیکن انہوں نے بھی اپنے برادری کیلئے کچھ نہیں کیا، سوات میں ان برادری کیلئے ماحول تو سازگار ہے لیکن ان کو وہ سہولیات اور اسانیاں میسر نہیں جن کا حق ائین پاکستان نے ان کو دیا ہے، بلدیاتی الیکشن کے بعد سوات میں رہائش پذیر اقلیت برادری کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اگر وہ اپنی نمائندگی بہتر طریقے سے ادا کریں،
بلدیاتی الیکشن میں ان کو نائبر ہوڈ ، ویلج ، تحصیل اور ضلع کونسل میں جگہ دی گئی ہے، یہ ایسے فورم ہیں جہاں وہ اپنے مسائل اور مشکلات کیلئے اواز بہتر طریقے سے اٹھا سکتے ہیں، انہی فورم پر اگر انہوں نے اپنے لئے گرجا گھر ، گوردوارے ، مندر اور دیگر سہولیات کا مطالبہ بہتر طریقے سے کیا تو سالوں سے پڑے یہ مسائل انے والے بلدیاتی الیکشن کے بعد جلد حل ہو جائیں گے۔یہی ایک اخری اپشن اقلیتی برادری کے پاس ہے، اس کے علاوہ سوات میں سب سے زیادہ مسائل عیسائی کمیونٹی کو درپیش ہیں جو روزمرہ کے وہ کام کرتے ہیں جو مسلمان کرنے کتراتے ہیں، گندگی صاف کرنے کا کام سارا کا سارا اس کمیونٹی نے اپنے ذمہ لیا ہے، بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ایک کرسچن سے بات ہوئی تو وہ پر امید دکھائی نہیں دیئے ، اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ الیکشن سے ہمیں کیا فائدہ ہم کو صفائی کرنے کے بعد ہمارا حق نہیں دیا جارہا ہے، ہمارے جو مذہبی دن ہوتے ہیں اس دن بھی ہمیں کام کرنا پڑتا ہے، تہوار وں کے دن بھی ہم اپنے صفائی کا کام نہیں چھوڑ سکتے، تو اس الیکشن کا کیا فائدہ ۔ میں نے اس سے کہا کہ انے والے الیکشن میں اقلیت کو کافی نشستیں دی گئی ہیں، اگر اپ کے اقلیت برادری سے تعلق رکھنے والے کامیاب امیدواران اپنے مسائل ایک کونسل میں پیش کرے اور اس کی حمایت دیگر اقلیتی امیدواران کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اپ کو درپیش مسائل حل ہو سکیں، اپنی کمیونٹی کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنی کی ذمہ داری اب اقلیت سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی بنتی ہے کہ وہ تمام اقلیتی برادری سے ملکر ان کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ اب تاریک راتیں ختم ہونے والی ہیں اب ایک ایسے صبح کا اغاز ہونے والا ہے جہاں پر لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے اواز اٹھا سکیں گے ، جائز مطالبات کو ایوان تک پہنچا سکیں گے، اگر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کامیاب امیدواران اس باربھی اپنے مسائل حل نہ کرسکیں تو پھر شائد ان کے مسائل کبھی حل نہ ہو اور ان کے مشکلات تا قیامت رہے ۔
ای میل waqar.swaty93@gmail.com
1,242 total views, no views today


