بریکوٹ ،بریکوٹ سمیت ضلع سوات بھر میں بارش تین روز سے مسلسل جاری ہے ۔اس بارش سے سردی کی شدت میں حد درجہ اضافہ ہو ا ہے ۔اپر سوات اور اردگر د علاقوں میں بارش کے ساتھ ساتھ برف باری بھی خوب ہو ئی جس سے لوگ خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔تحصیل بریکوٹ میں سوات کا سب سے بلند پہاڑ ایلم جس کی بلندی 9200فٹ ہے نے برف کی چادر اوڑھ لی ہے ۔جس سے اس پہاڑ کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے ۔بارش اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ایک رحمت ہے
مگر حکومت کی بے حسی اور اس علاقے کو مسلسل نظرانداز ہو نے کیوجہ سے بارش یہاں کے مکین کے لئے زحمت بن گئی ۔لنڈاکے تا مینگورہ روڈ موجودہ پی ٹی ائی حکومت سمیت ہر حکومت میں نظر اندازی کی وجہ سے کھنڈارات کامنظر پیش کر رہا ہے اور خاص کر این ایچ اے والوں نے اس سڑک کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہو ا ہے ۔لنڈاکے کے مقام پر چند ماہ قبل سڑک پر کام ہو ا مگر ناقص میٹریل کی وجہ سے اب وہ بھی ٹوٹ پھوٹ چکا ہے او ر جگہ جگہ گہرے کھڈے بن گئے ہیں۔گذشتہ کئی سالوں سے اس روڈ پر تعمیرا تی کا م نہیں ہو ا ہے جس کی وجہ سے سوات کا اکلوتا مین شاہراہ ناقابل استعمال ہے اور بریکوٹ سے 15 منٹ کی دوری پر مینگورہ ایک گھنٹے میں طے کیا جاتا ہے ۔ بریکوٹ کے رہائشی لوگوں نے کہا کہ مسلسل بارش ہو نے کی وجہ سے سوختی لکڑی عوام کے قوت خرید سے باہر ہو رہی ہے اس وقت مارکیٹ میں سوختی ایک گڈی کی قیمت سات سو روپے سے زیادہ ہے ۔تحصیل بریکوٹ کو سوئی گیس کی فراہمی کا مسلسل اعلانات ہو رہے ہیں مگر ابھی تک اسکی فراہمی کے کوئی اثرات نظر نہیں آرہے ہیں جس پر سابقہ حکومت اے این پی کے علاوہ موجودہ حکومت اور خاص کر پی کے 82 کے مقامی ایم پی اے کے خلاف عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اس کے علاوہ ایل پی جی فی کلو135روپے تک پہنچ گیا ۔عوام کا کہناہے کہ سوئی گیس کے لئے جو کھودائی کی گئی تھی یا گیس پائپ بچھائے گئے تھے ان کی وجہ سے سڑک اور فٹ پاتھوں کا حلیہ بگڑگیا ۔سوئی گیس الٹا عوام کے لئے سہولت کے بجائے زحمت بن گیا ۔چیف میونسپل آفیسر سب ڈویژن بریکوٹ فضل ربی خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ موجودہ بارشیوں نے وہ تباہ کاریاں نہیں کی جس نے گذشتہ باریشوں میں تاجر برادری اور علاقے کو شدید نقصان پہنچایا تھا ۔اس مرتبہ ہم نے پہلے سے منصوبہ بندی کی ہوئی تھی اور ٹی ایم اے بریکوٹ کے اہلکاروں نے چھٹی کے دن موسلادر بارش میں بھی صفائی کی عمل کو جاری رکھا ۔انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح بریکوٹ کو ایک ماڈل بازار بنانا تھا اور اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
535 total views, no views today


