سوات، وزیر اعظم کے مشیر انجنیئر امیر مقام کیخلاف ضلع سوات کے بعد اب ابائی علاقہ سے بھی اوازیں اٹھنے لگیں، منظم دھاندلی اور دھمکیوں کی وجہ سے مشیر کیخلاف پریس کانفرنسز جاری، تحقیقات کرنے اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، صوبہ بھر میں بلدیاتی الیکشن کے بعد منظم دھاندلی کی شکایات کے انبار اسسٹنٹ کمشنر کے پاس جمع ہونے لگے، ان شکایات میں انجنیئر امیر مقام کیخلاف بھی ہونے لگی ہیں، ضلع سوات کے بعد اب ضلع شانگلہ کے حلقوں سے بھی وزیر اعظم کے مشیر کیخلاف اوازیں اٹھنے لگی ہیں، ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ضلعی کونسلر امیر سلطان ، سید غفار جبکہ ضلع سوات کے یونین کونسل ملوک اباد کے ضلعی کونسلر ابراہیم خانخیل نے کہا ہے کہ امیر مقام نے سرکاری اداروں کو پریشرائز کیا ہے، اور وہ منظم طریقے سے نتائج کو اپنے طرف کرنے پر عمل پیرا ہے، انہوں نے کہا کہ اب اسسٹنٹ کمشنر ز درخواستیں بھی وصول نہیں کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ امیر مقام غریبوں کو اگے نہیں انے دیتے ، جبکہ شانگلہ میں اپنے بیٹے کو جیتوانے کیلئے انہوں نے منظم دھاندلی کی اور اضافہ بیلٹ پیپرز ضلع کونسلر کیلئے پوسٹ کئے گئے ، انہوں نے صوبائی مرکزی الیکشن کمیشن، چیف جسٹس سپریم کورٹ، ہائی کورٹ ، صدر ، وزیرا عظم ، وزیر اعلیٰ اور عمران خا ن سے مطالبہ کیا ہے کہ انجنیئر امیر مقام کی منظم دھاندلی کیخلاف انکوائری کی جائے ، اس کے ثبوت مہیاکریں گے، جبکہ علاقہ میں الیکشن دوبارہ کرائی جائے ۔
726 total views, no views today


