بھلا ہو خیبر پختون خوا کی حکومت کا جس نے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا۔ اب اس شجرِ میوہ دار سے پھل ملے گا۔ اس بہانے تو پچھلے مہینہ ڈیڑھ پریشانیوں سے نجات مل گئی تھی۔ اگر پریشان رہا بھی تو صرف ایک فی صد طبقہ جو الیکشن لڑ رہا تھا۔ ہاں، اس ایک فی صد پریشانی سے یاد آیا کہ انتخابی مہم کے دوران میں مزیدار لطیفے بھی سامنے آئے۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ ایک فاتحہ خوانی میں ایک امید وار صاحب آئے اور بڑے زور سے کہا ’’د خیر دعا بہ اوکو‘‘ دعا کے بعد بڑی شان سے کہنے لگا کہ متوفی کے ساتھ میرے بہت اچھے مراسم تھے۔ امیدوار صاحب کا کہنا تھا کہ متوفی کا ہماری بیٹھک میں بہت آنا جانا تھا۔ کسی نے کان میں کہا: ’’خدا کے بندے! یہ تو خاتون تھی۔‘‘ اس طرح ایک اور واقعے میں ایک امیدوار صاحب نے اپنے ساتھ ہی کے محلے میں ایک دروازہ کھٹکھٹایا۔ بارہ تیرہ سال کا ایک بچہ گھر سے نکلا، تو امیدوار صاحب نے بڑی امید کے ساتھ کہا کہ ’’بیٹا ! لالا جی سے کہنا کہ فلاں آیا تھا۔ وہ اپنا ووٹ میرے حق میں استعمال کریں۔‘‘بچے نے پوچھا کہ انکل، آپ کون سے لالا کی بات کر رہے ہیں؟ تو امیدوار نے جواباً کہا کہ ’’بیٹا! آپ کے ابو جان کی بات کر رہا ہوں۔‘‘ بچے نے کہا کہ ان کو تو فوت ہوئے دو سال ہو گئے ہیں۔
اس طرح انتخابی نشانات کے حوالے سے بھی کئی لطیفے سامنے آئے، لیکن راقم کے ہاتھ لکھتے ہوئے لرز جا تے ہیں۔ اب آتے ہیں، اپنے موضوع کی طرف۔ خدا کرے کہ واقعی اب انتخابات کے بعد عوام کے مسایل ان کے دہلیز پر ہی حل ہوں اور خاص کر سوات کے ستم رسیدہ عوام کو تھوڑی سی ریلیف ملے۔ انھیں پینے کا صاف پانی میسر ہو، صحت اور تعلیم پر ہمارے نئے منتخب امیدواروں کی خاص نظر ہو،گیس اور بجلی کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے جائیں، کیوں کہ صوبائی سطح پر منتخب ہونے والے ممبران صاحبان تو ہمیں صرف ٹی وی ٹاک شوز میں ہی نظر آتے ہیں۔آخر میں بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ممبران کو مبارک باد کے بعد یہ مشورہ دینا چاہوں گا کہ اﷲتعالیٰ ہر انسان کو کامیابی کا ایک موقعہ ضرور دیتا ہے۔ اب یہ اس انسان پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اس کو کس طرح کیش کرتا ہے، جس طرح آپ سے امیدیں باندھی گئی ہیں، اگر آپ ان پر پورا اتریں، تو مستقبل بھی آپ ہی کا ہے۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ آج کے تمام بڑے بڑے سیاست دانوں نے ابتداء بلدیاتی انتخابات سے کی تھی اور آج وہ کس مقام پر پہنچ گئے ہیں۔خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔
739 total views, no views today


