سات فروری کو بھارت میں حکم ران جماعت بھارت جنتا پارٹی (بی جے پی) اور عام آدمی پارٹی کے درمیان دہلی اسمبلی کے لیے میدان سجا تھا۔ الیکشن کے تین دن گزرنے کے بعد الیکشن کمیشن نے نتیجے کا اعلان کیا، تو حکم ران پارٹی بھارت کی تاریخ کی بد تر ین شکست سے دو چار ہوئی۔ وہیں عام آدمی پارٹی نے ستّر میں سے سڑسٹھ سیٹیں جیت کر حکم ران پارٹی کو کسی کے سامنے منھ دکھانے کے قابل بھی نہ چھوڑا۔ قابل تعریف بات تو یہ ہے کہ دیگر تمام پارٹیوں نے نتیجہ کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کو نہ صرف مبارک باد دی بلکہ نیک نیتی سے حکومت چلانے کے لیے پیش بھی کردی۔ اس طرح بھارت میں جمہوریت کی قوت، طاقت کا پیغام تمام دنیا کو پہنچ گیا۔ پاکستان میں بھی خان صاحب نے بھارت اور افغانستان کے الیکشن کی شفافیت کی تعریف کرتے ہوئے کے پی کے میں انتخابات ’’بائیو میٹرک‘‘ طریقے سے کروانے کا اعلان کیا۔ آج جب پاکستان میں کے پی کے کے الیکشن ہوئے چند روز ہی ہوئے ہیں، تو میں بھی دیگر لوگوں کی طرح عمران خان صاحب کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ آخر کار انھوں نے بھی بھارت کی طرح پاکستان میں بھی شفاف الیکشن کروا کے ہی دم لیا۔ جس کے لیے خان صاحب کا ایک سو چھبیس دن کا دھرنا ایک واضح ثبوت ہے۔ساتھ ہی ہار نے والوں نے دیگر جیتنے والی پاریٹوں کو بھی مبارک باد پیش کی اور ہار کھلے دل سے تسلیم کی۔
سنا ہے عمران خان جو کہتے ہیں، وہ کرکے بھی دکھاتے ہیں۔ وہ تحریک انصاف کی ٹیم اور تقریباً ایک لاکھ لوگوں کو ساتھ لے کے ڈرون کے خلاف احتجاجی طور پر وزیرستان گئے تھے۔ جہاں انھوں نے اپنا مؤقف واضح کیا تھا کہ ڈرون پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اپنی پچھلی دو سالہ حکومت میں تین سو چھپن ڈرون مار گرا کر وہ پوری دنیا کو حیران کرچکے ہیں۔ امریکہ جو پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے پاکستان میں آزادی سے ہر قسم کے ڈرون آرام سے گرادیا کرتاتھا، پھراُس کے بعد آج تک امریکہ ہر کام کرنے سے پہلے پی ٹی آی سے اجازت لیتا ہے۔ یہ تو خداکا شکر ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت تھی، ورنہ سوات کے آئی ڈی پیز کی طرح وزیرستان کے لوگ بھی اتنی گرمی میں بنوں کے علاقوں میں خیموں میں زندگی بسرکررہے ہوتے۔ اگر آج اے این پی کی حکومت ہوتی، تو آرمی پبلک اسکول کے ایک سو پچاس بے گناہ بچوں کے والدین اب تک اپنے بچوں کا انتظار کررہے ہوتے۔ اور وہ بچے کبھی گھر نہ آتے؟ شہباز جو پہلے ہی یتیم تھا اور اس کی ماں اُس کی اعلیٰ تعلیم کے اخراجات پور ا کرنے کے لیے اپنے بھائیوں کے گھر سے دور پشاور کے ایک پبلک اسکول میں ٹیچنگ کرتی تھی، اگر اُس کے اکلوتے بچے کو کچھ ہوجاتاتو؟
سوا ت کا سب سے بڑا مسئلہ ٹارگٹ کلنگ کا تھا، مگر پھر اللہ کے فضل وکرم سے آج سوات کے علاقے قمبر سے منتخب ہونے والے ضلعی کونسلر اکبر علی ناچار، فضل حیات چٹان تحصیل کونسلرجب کہ سید علی شاہ خان چٹان جنرل کونسلر ہونے پر بھی کے پی کے کی پولیس کے مشکور ہیں کہ انھوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے قاتلوں کے عزایم کو خاک میں ملاتے ہوئے انھیں مرنے سے بچالیا جوکہ سوات میں امن کا واضح ثبوت ہے، جس کے لیے پی ٹی آئی کو پورا کریڈٹ دیاجاتاہے۔
سوات میں بحرین سے کالام تک کے علاقے میں اے این پی کے دور میں ایک بھی اسکول نہیں تھا پھرپی ٹی آئی آئی اور پندرہ دیہاتوں میں بائیس اسکولوں کا قیام عمل میں لائی اور ہمارے بچوں کا مستقبل روشن کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کر دیا۔
سرکاری ملازمیں مع اساتذہ پی ٹی آئی کے بے حد مشکورنظر آرہے ہیں کہ پہلے انھیں زبردستی ڈیوٹی کے لیے لایاجاتا تھا، بعد میں دھاندلی کا الزام بھی لگایاجاتا تھا جس کی وجہ سے انھیں جگہ جگہ احتجاجی دھرنے بھی کرنے پڑتے تھے، مگر اب کی بار تو پی ٹی آئی کے شفاف انتخابات کی وجہ سے انھیں کوئی مشکل نہیں ہوئی اور آیندہ بھی وہ ہر دم ایسی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ کیوں کہ پی ٹی آئی نے تو جیسے یہ شفاف انتخابات کرواکے کمال ہی کردیاہے۔
شکوہ تو مجھے اپنے سوات کے عوام سے ہے کہ پی ٹی آئی کو سوات سے کلین سویپ کیوں نہیں کروایا۔ اگر خدا نے آپ کو قسمت سے مراد سعید جیسا اعلیٰ تعلیم یافتہ(اصلی ڈگری ہولڈر) محنتی، نڈر، حفظِ قرآن اور ’’گولڈمیڈلسٹ‘‘ ایم این اے دے ہی دیاتھا، تو انھیں ضلع اور تحصیل میں کامیابی مشکل کیوں نظر آرہی تھی؟ اس طرح کے انتخابات بار بار نہیں ہوتے۔
آپ سب کو پی ٹی آئی کے احسانات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگلی بار ضرور تحریک انصاف کو ووٹ دنیا چاہیے۔ صد افسوس!
*۔۔۔*۔۔۔*
592 total views, no views today


