سوات میں عجیب قسم کے بلدیاتی انتخابات ہوئے جو جیتا وہ بھی خوش اور جو ہارا وہ بھی خوش۔ جیتنے والے نے بھی مٹھائیاں کھلائیں اور ہارنے والے نے بھی۔ لوگوں نے جیتنے والے کو بھی ہار پہنائے اور ہارنے والے کو بھی۔
نتایج والی رات کو میں نے دوست صحافیوں کو اپنے دفتر میں آنے کی دعوت دی، تاکہ الیکشن نتایج کو جلدی حاصل کیا جاسکے۔ ہمارے دفتر کے نیچے تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کے کیمپ لگے تھے۔ گنتی ختم ہونے کے بعد تحریک انصاف کے کارکن خان طوطی کی فتح کا جشن منا کر اُن کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے اور قومی وطن پارٹی کے کارکن شوکت علی کی فتح کا جشن منا کر ان کے حق میں نعرہ بازی کر رہے تھے۔ اس یونین کونسل مکان باغ سے تحریک انصاف کے ضلع کونسل کے اُمیدوار جانان اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہے تھے اور مد مقابل اُمیدوار خان سردار اپنی کامیابی کا۔ اس طرح اسلام پور سے نتیجہ ملا کہ وہاں سے ن لیگ کے شاہ ولی خان کامیاب ہوئے ہیں۔ امیر مقام ہاؤس سے بھی اس کی تصدیق ہوئی۔ اسلام پور میں شاہ ولی خان کے گھر پر رات بھر جشن منایا گیا۔ شاہ ولی خان کے مقابلے میں تحریک انصاف کا اُمیدوار طاہر خان جو کہ ہمارا دوست بھی ہے لیکن صبح ایک اور دوست نے بتایا کہ اسلام پور سے تو طاہر خان کامیاب ہوئے ہیں۔ اُن کو میں نے کہا کہ رات بھر تو شاہ ولی خان کے گھر میں جشن منایا جاتا رہا، تو انھوں نے جواباً کہا کہ رات کو تو طاہر خان کے گھر بھی جشن منایا جاچکا ہے۔ اگلے دن میرے دوست خلیل (جان دا) نے فیس بک پر مجھے طاہر خان کی کامیابی کے ریٹرنگ آفیسر کے دست خط شدہ نتیجے کا عکس ’’اِن باکس‘‘ کیا۔ جب میں نے مذکورہ سرکاری نتیجہ دیکھا، تو یقین آگیا کہ اسلام پور سے طاہر خان ضلع کونسلر منتخب ہوگئے ہیں۔ میں نے شام کو ایک اور دوست کو فون کرکے بتایا کہ اسلام پور سے تو طاہر کامیاب ہوئے ہیں، تو دوست نے کہا کہ ’’نہیں، شاہ ولی خان کامیاب ہوا ہے۔‘‘ میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ میرے پاس سرکاری نتیجہ ہے، تو جواب میں دوست نے مجھے شاہ ولی خان کا سرکاری نتیجہ اسکین کرکے ای میل کیا، جس کے بعد میں حق دق رہ گیا۔ اس موقعہ پر مجھے سینئر صحافی سہیل وڑایچ کے وہ مشہور الفاظ: ’’کیا یہ کھلا تضاد نہیں‘‘ یاد آگئے۔ اسلام پور سے تحصیل کونسل کے لیے اے این پی کی کامیابی کو کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا، جس کے بعد ہمارا خیال تھا کہ اکرام خان تو واقعی جیت گئے ہیں لیکن گزشتہ روز سوشل میڈیا پر آزاد اُمیدوار برائے تحصیل کونسل زاہد خان کے پیج پر ان کی اپ لوڈ کردہ تصاویر دیکھیں جن میں لوگ اُن کو کامیابی کی خوشی میں ہار پہنا رہے ہیں۔ میں ایک بار پھر پریشان ہوگیا۔ یونین کونسل بنڑ سے نتیجہ آیا کہ ضلع کونسل میں جے یو آئی کے مولانا قاسم جیت گئے ہیں اور صبح ابن یامین کے حجرہ میں بھی مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں۔ ایک طرف یونین کونسل رنگ محلہ میں ضلع کونسل کے اُمیدوار کاکی خان کے فرزند نثار خان کے حجرہ میں اُن کی کامیابی کا جشن منا یاجارہا تھا، تو دوسری طرف تحریک انصاف کے کارکن اُن کے مد مقابل اُمیدوار کشور علی کی کامیابی کا جشن منارہے تھے۔
قارئین کرام! میں نے اپنے پورے صحافتی کیرئیر میں ایسا دور کبھی نہیں دیکھا۔ اس حوالہ سے اپنے بڑوں کا کہا ہوا ایک فقرہ یاد آیا کہ: ’’خدائے دے داسے حیران کہ لکہ زہ چہ دے حیران کڑم۔‘‘ بات یہاں آکر ختم ہوتی، تو پھر بھی ہم خاموشی اختیار کرلیتے۔ یونین کونسل ملوک آباد سے ن لیگ کے خادم شاہ کی کامیابی کی خبر ہم نے چلائی تھی۔ اگلے دن صبح ایک صاحب نے فون کیا کہ آپ نے تو لکھا ہے کہ ملوک آباد سے خادم شاہ کامیاب ہوئے ہیں اور یہاں تو ابراہیم خان خیل کے دیرہ میں مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہیں۔ میں پھر پریشان ہوگیا۔ شام کو ابراہیم خان خیل کے بھائی جو ہماری برادری سے تعلق رکھتے ہیں، نے ایک پریس ریلز ای میل کی جس میں انھوں نے اپنے بھائی ابراہیم خان خیل کی جیت کا دعویٰ کیا تھا جس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ ملوک آباد سے ضلع کونسل کا انتخاب ابراہیم خان خیل جیت چکے ہیں۔ اگلی صبح خبر پڑھ کر ن لیگ کے کارکن خادم شاہ کی جیت کا غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ لے کر دفتر پہنچ گئے۔ رحیم آباد سے تحصیل کونسل کے لیے جے یو آئی کے بخت منیرکی کامیابی کی خبر بھی ہم نے چلائی تھی اور ان کو کسی نے چیلنج نہیں کیا تھا۔ دو دن بعد خبر ملی کہ تحریک انصاف کے اُمیدوار فواد اقبال کو خبر ملی ہے کہ وہ جیت گئے ہیں اور اب ان کے ہاں جیت کا جشن منایا جا رہا ہے۔ یہ خبر سن کر ایک بار پھر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ شام کو میں نے ایک باخبر صحافی دوست کو فون کرکے اس حوالے سے ذکر کیا، تو انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہاں جشن منایا گیا ہے، لیکن پھر اسی شام کو جے یو آئی کے بخت منیر دوبارہ جیت گئے۔ اب اس تمام تر صورت حال میں پارڑئی یونین کونسل سے تحریک انصاف کے اُمیدوار برائے تحصیل کونسل احمد روم نے انوکھا انکشاف کر دیا۔ اپنے بیان میں انھوں نے اپنے یونین کونسل سے اپنی ہی پارٹی کے ضلع کونسل کے اُمیدوار پر الزام لگا یا کہ اُن کی ہار میں انھی کی پارٹی کے ضلع کونسل کے اُمیدوار کا ہاتھ ہے۔ احمد روم کا کہنا ہے کہ ضلع کونسل کے اُمیدوار نے ن لیگ کے اُمیدوار سے مل کر مجھے ہرایا اور ن لیگ کے اُمیدوار کو کامیابی دلائی۔
اپنے پچھلے کالم میں، مَیں نے اوڈیگرام سے جنرل کونسل کے اُمیدوار سپین خان کا ذکر کیا تھا جو اپنے انوکھے وعدوں کے لیے مشہور ہیں اور انتخابی مہم کے دوران میں انھوں نے اوڈیگرام میں دریائے سوات پر ڈیم بنانے، اوڈیگرام کے عوام کو مفت بجلی، سیدو شریف ائیر پورٹ کھولنے، اوڈیگرام میں اسٹیڈیم بنانے، ریلوے سروس شروع کرنے اور گیرا کی پہاڑی میں ٹنل بنانے کے وعدے کیے تھے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر ’’سپین خان ‘‘ کی تھی۔ کیوں کہ مجھے تو اوڈیگرام کے عوام کے لیے مفت بجلی اور خاص کر سیدو شریف ائیر پورٹ پر جہازوں کی اڑان کی فکر تھی۔ اس لیے اس حوالہ سے میں نے اپنے استاد محترم بونیر خان صاحب کے فرزند افتخار صاحب جو اوڈیگرام کے رہنے والے ہیں، کو فون کیا۔ انھوں نے تصدیق کی کہ ’’سپین خان جنرل کونسلر منتخب ہوگئے ہیں۔‘‘ میں نے مبارکباد دینے کے لیے ’’سپین خان‘‘ کو فون کیا تو سپین خان نے جیتنے کی تصدیق کی، لیکن جیتنے کے باوجود الزام لگایا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیسے ؟ تو سپین خان نے جواب دیا کہ مجھے دو سو ووٹ ملے ہیں اور میرے ووٹ آٹھ سو سے زیادہ تھے۔ میں نے سپین خان سے سوال کیا کہ آپ کو کیسے پتا کہ آپ کے ووٹ آٹھ سو سے زیادہ تھے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ میں پولنگ اسٹیشن پر کھڑا تھا اور جو لوگ ووٹ ڈالنے جارہے تھے، اُن میں سے میں نے اپنے ووٹروں کی گنتی کی تھی جن کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ تھی لیکن جب نتیجہ آیا، تو میرے ووٹ دو سو کے قریب تھے۔ اس لیے کہتا ہوں کہ ریکارڈ دھاندلی ہوئی ہے۔
قارئین کرام! میرا کالم پڑھ کر ضرور آپ کا سر چکرایا ہوگا۔ سوات میں اس قسم کے نتایج رپورٹ کرتے وقت ہمارا بھی سر چکرایا تھا۔
جاتے جاتے ایک بار پھر وہی فقرہ رقم کرتا چلوں کہ ’’خدائے دے داسے حیران کہ لکہ زہ چہ دے حیران کڑم ۔‘‘
763 total views, no views today


