آخر پانچ جون آہی پہنچا۔ اسحاق ڈار صاحب نے بجٹ کا کیا وار۔ بہت سی آنکھیں اور کان محو تماشہ ومحو صدا تھے کہ بجٹ کی پٹاری سے کیا نکلتا ہے۔ خاص کر سرکاری ملازمین جو بڑے پر اُمید تھے کہ سارا سال مہنگائی کے جس گرداب میں غوطہ زن رہے ہیں، اُس کی تلافی کے لیے حوصلہ افزاء قسم کے اعلانات ہوں گے، مگرجب قارونِ اعظم صاحب کی حکومت کے بجٹ کا اعلان ڈار صاحب نے ایوان میں کیا تو ملازمین کے منھ غم سے لٹک گئے۔ اُمیدوں پر منوں پانی پڑ گیا۔
ساڑھے سات فی صد اضافہ؟ یہ تھا پورے سال کے انتظار کا جواب۔ ایک دوست نے تبصرہ کرتے ہوئے مایوسی سے کہا، یہ ہم ملازمین کے ساتھ بہت ہی بھونڈا مذاق اور ہماری بے عزتی کے مترادف ہے۔ کیوں کہ ایک زمین دار، دکان دار یا مستری حالات کے مطابق اپنی مزدوری بڑھا تا رہتا ہے یا اشیاء کو مہنگے داموں فروخت کرکے مہنگائی کے نقصانات کو کم کرسکتا ہے۔ ایک معمار جس کی مزدوری یومیہ آٹھ سو روپے تھی، وہ اُس نے بڑھاکر ہزاریا بارہ سو روپے کرلی ہے، تو اُس کی ماہانہ آمدنی میں چھ ہزار سے بارہ ہزار تک اضافہ ہوجاتا ہے، مگر سرکاری ملازمین کے ہاتھ تو بندھے ہوتے ہیں۔ اُن کی نگاہیں تو ان ’’ڈاروں‘‘ پے لگی ہوتی ہیں کہ وہ اپنے منھ مبارک سے کچھ اچھا پھوٹیں گے، مگر اس بار تو اُن کے ساتھ کچھ عجیب انداز والا ہاتھ کر گئے۔ بس اتنا ہی جیسے اونٹ کے منھ میں زیرہ اور میڈیکل الاؤنس کے اضافے کو بڑھا چڑھا کر اور پچیس فی صد کے ہندسے کو چبا کر ایسے اندازمیں منھ سے اُگلا گیا جیسے بہت بڑی بخشش کرنے والے ہوں۔ حالاں کہ اس کا مطلب سیدھا سادھا جو نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ ’’بھئی بے چارے ملازمو! آپ کی میڈیکل الاؤنس کو بارہ سو سے پندرہ سو روپے کردیا گیا ہے۔‘‘ بجٹ سے پہلے قارونِ اعظم نے اپنے رشتہ داروں سے بنی کابینہ میں اور میڈیا پر اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسس کو بنیادی تن خواہ میں ضم کیا جائے گا مگر شومئی قسمت، قومی خزانے کو اپنی جاگیر اور ملکیت سمجھنے والوں نے صرف دو الاؤنسز کو ہی ضم کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ اس کے باوجود کہ حکومت نے پے اینڈ پنشن کمیٹی بنائی ہے اور اُس کی سفارشات کے مطابق ملازمین کے مسایل کا حل بتایا گیا تھا، مگر اُس پر خاطر خواہ طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔
مزدور کی کم سے کم اُجرت جو تیرہ ہزار روپے کردی گئی ہے۔ اُس سے ایک چھوٹا خاندانی یونٹ اپنی معاشی ضروریات کچھ ایسے طریقے سے پوری کرے گا کہ اگر ’’سر چھپاؤں تو لگے ہے ٹھنڈک پاؤں کو میری۔‘‘ اس کے باوجود کہ اکثر ملز اور دیگر اداروں میں اتنی تن خواہ بھی نہیں دی جاتی بلکہ اس سے بہت کم دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر پبلک اسکولز ہی کو دیکھ لیجیے۔ اسی طرح کاٹن انڈسٹری کے ملازمین کی تن خواہوں کا جایزہ لیجیے۔ میری ذاتی رائے میں اگر نواز حکومت اس بجٹ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کے لیے کچھ عملی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اُس کے لیے رقم مختص کرے یا ہنگامی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے اگر پچاس فی صد لوڈشیڈنگ کم کرنے کی بات کرتے، تو میرے خیال میں یہ بھی عام آدمی کی زندگی میں کچھ نہ کچھ تسکین کا باعث ہوتا اورکم از کم جو ٹوٹا پھوٹا روزگار لوگوں نے چلا رکھا ہے، اُس کو جاری رکھنے کی ایک وجہ بنتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میٹرو بسیں یا دیگر تفریحی مقامات پر انسانوں کی سہولیات کا انتظام قابل قدر کام ہیں۔ مگر اس سے ضروری اور اشد ضروری چیز بجلی کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ اس کی مثال ہم یوں دے سکتے ہیں کہ ایک مریض جسے دمے کا شدید اٹیک ہوا ہے۔ اُسے فوری طور پر آکسیجن لگانے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹر صاحب اس کی بہ جائے اُسے بیڈ پر لٹا کر اُس کے گنجے سر کو دیکھتے ہوئے ہیئر ٹرانسپلاٹ سرجری کرنا شروع کردے کہ اس کی خوب صورتی لوٹ آئے۔ خواہ ایسا کرتے ہوئے مریض بے چارہ داعئی اجل کو لبیک کہہ جائے۔
قارئین کرام یہاں پر ایسا ہی ہمارے ساتھ کیا جارہا ہے۔ صرف اعلانات سے کام نہیں ہوگا۔ منی بجٹ، ضمنی بجٹ کا سلسلہ تو اس ملک میں چلتا ہی رہتا ہے۔اصل چیز اس ملک سے مہنگائی اور بد امنی کے ناسور کی بیخ کنی ہے۔
اگر ہماری حکومت سادگی اور کفایت شعاری سے کام لے کر اور اپنے ارد گرد اپنے رشتہ داروں سے بنی کابینہ میں خاطر خواہ کمی کرکے اس ملک کے بارے میں سوچے، تو پھر عوام سکھ کا سانس لے سکیں گے۔ یہی اصل علاج ہے۔
674 total views, no views today


