سن ستر کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں دورانِ ملازمت مجھے مردان کے نالہ کلپانی اور راولپنڈی کے نالہ لئی کے قریب رہنا پڑا۔ اس لیے اُس وقت کے مقامی بزرگوں سے اُن گندہ ترین نالوں کے بارے میں بارہا سنا کہ یہ صاف ستھرے اور میٹھے پانی کے نالے تھے جو انسانی اور زراعتی ضروریات کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یہ باتیں سن کر اور دل پر چرکہ لگ جاتا اور افسوس ہوتا کہ ہم کتنے گندے اور کوتاہ نظر لوگ ہیں، خود غرض اور اپنے نفس کے غلام۔ ہم نے دنیا کے اعلیٰ ترین نظام (دین اسلام) کو بھی صرف اپنی ذات کے فواید تک محدود رکھا اور اس کے اجتماعی مفادات کی دعوت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ اب جب کہ ہم زندگی کے آخری پڑاؤ میں ہیں۔ حسین وادئ سوات اور اس کے میٹھے، صاف اور شفاف دریا، اس کی ندیوں اور چشموں کی بربادی طلب گارانِ جنت کے ہاتھوں دیکھتے ہیں، تو تکلیف کے علاوہ ہمیں کچھ بھی نہیں ملتا۔ لیکن ساتھ ہی ہم یہ سوچنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں کہ ہم (جن کو دنیا مسلمانوں کے نام سے پہنچانتی ہے اور ہم بھی اپنے آپ کے لیے یہی مبارک نام پسند کرتے ہیں) اتنے ناکام انسان کیوں ہیں؟ یہ راز مجھ جیسے سرسری سوچ والے شخص کی سمجھ سے باہر ہے۔ اسے علمائے حق جانتے ہوں گے کہ مسلمانوں کے معاملات اتنے خراب کیوں ہیں؟ رب کریم تو سوچنے، فکر کرنے اور عمل صالح کرنے کے احکامات دیتا ہے لیکن ہم کیوں خود غرض، کوتاہ بین اور کوتاہ اندیش بن گئے ہیں۔
مرحوم و مغفور ’’والئی سوات‘‘ سے جب پوچھا گیا تھا کہ آپ نے سوات (پوری ریاست) میں غیر مقامی لوگوں کو زمینوں کی فروخت پر پابندی کیوں لگائی تھی، تو آپ نے وضاحت کی (REf the book the last wali of swat) کہ سوات قدرت کا ایک شاہ کار خوب صورت ترین علاقہ ہے۔ اس کے عوام اس کی زمین کے مالک ہیں لیکن محدود وسایل والے۔ جب کہ باقی ماندہ ملک کے لوگوں کے پاس پیسے بہت ہیں۔ وہ اس خوب صورت علاقے میں جائیدادیں خریدنا پسند کرتے ہیں۔ اگر پابندی نہ لگائی جاتی، تو چند سالوں میں سوات سواتیوں کا ہوتا اور نہ سوات، سوات ہوتا۔
آج کے جوان اور درمیانی عمر کے لوگ یہ نہیں جانتے کہ سوات کیا تھا اور کیسا تھا؟ اس کی قدرتی، ثقافتی اور روایات کی خوب صورتی کیسی تھی؟ اب سوات اور دریائے سوات جس بربادی سے دوچار ہیں، وہ تمام اہل نظر دیکھ رہے ہیں لیکن عام آدمی یا سرکاری ملازم کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ درخت کاٹنے والی کلہاڑی کا دستہ لکڑی ہی کا ہوتا ہے۔ سوات کی بربادی میں اہل سوات کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ یہاں کے عوامی نمایندے اگر مکمل دانش مندی اور ہوش مندی اور مسلسل اخلاص کے ساتھ دیانت دارانہ اور دلیرانہ طریقہ کار اپنائیں اور چھوٹے اور لمبے عرصے کے عمدہ منصوبے بناکر اُن پر دیانت دارانہ عمل درآمد کرواسکیں، تو بہت بہتر! ورنہ سوات، دریائے سوات اور یہاں رہنے والوں کی بربادی یقینی ہے۔ اگر چہ ماحولیات کے تحفظ کا قانون آئین کے آرٹیکل 247(3)کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن پر لاگو کر دیا گیا ہے لیکن یہاں کے متعلقہ سرکاری محکمے اُس پر مجرمانہ چشم پوشیاں کررہے ہیں اور اس کی بڑی ذمہ داری منتخب نمایندوں پر آتی ہے کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کے حکام کی اچھی حکم رانی میں مدد نہیں کرتے۔ یہ اُن کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں آئین، قوانین اور قواعد کے مطابق حکم رانی میں حکام کی مدد کریں۔ اُن کی کارکردگی کی نگرانی کریں۔ جہاں جہاں قواعد و قوانین سے رو گردانی نظر آئے اُسے کمشنر کے نوٹس میں لائیں۔ عوام کو اگر طریقے اور سلیقے کے ساتھ بات سمجھائی جائے، اگر قوانین کے حدود اور تقاضے اُن کے علم میں لائے جائیں، تو کوئی بھی شخص قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتا۔ بات زیادہ خراب ہوجاتی ہے عوام اور خواص کو اندھیرے میں رکھنے سے۔ ہمارے اداروں میں مخلص افراد کی کمی نہیں ہے لیکن اس ملک میں دفتری زبان انگریزی میں ہونے کی وجہ سے بھی بڑی خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ تقریباً تمام سرکاری قوانین، قواعد و ضوابط اور ہدایات انگریزی زبان میں ہوتی ہیں۔ دوسری طرف کم زور ترین نظام تعلیم کی وجہ سے انگریزی سمجھنا بھی عام نہیں ہے۔ اس لیے سرکاری اور دوسرے ملازمین کو اور عوام کو صحیح صورت حال کا علم نہیں ہوتا۔ اگر حکومتی ادارے اپنے اپنے قواعد اور قوانین اردو زبان میں شایع کروا دیں اگر دفتری زبان اردو ہوجائے (اگر چہ مولویوں کی حکومت نے نیکی کرکے ایسا کر بھی دیا ہے) لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ عوام کی اطلاع اور رہنمائی کے لیے جگہ جگہ دیواروں پر حکومتی قوانین اور احکامات چھاپے جائیں، تو اس سے کافی بہتری آئے گی۔ دریائے سوات کو گندا کروانے والوں میں میونسپل کمیٹی کا ٹھیکہ دار، فروٹ سبزی منڈی، ٹرک مالکان اور گاڑیاں دھونے والے اور سروس اسٹیشن ایسے عناصر ہیں جن کو سمجھانے سے اور اُن کی بات سننے سے بہتر نتایج کی اُمید ہے۔
آج کل دریائے سوات کے دونوں کناروں ایکسپریس ویز کا خواب عوام کو دکھایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دریا کے دونوں اطراف دیہاتوں کے گندے پانی کی نکاس کے لیے اگر الگ نہروں کی بھی تعمیر ہو جائے، تو دریا کا صاف پانی نیچے اضلاع کے لیے دست یاب ہوسکے گا۔ اس طرح وہ بنگلے اور ہوٹلز جو کروڑ پتی ہیں اور غلاظتیں دریا میں پھینکتے ہیں، کو بھی قانونی طور پر متبادل طریقے اختیار کرنے کا پابند کیا جائے، تو کچھ بہتری ہوسکتی ہے۔ مینگورہ اور اطراف میں الحاج طبقہ ہر پلازے کے نیچے تہہ خانے بنا رہے ہیں اور گٹر کو ناممکن بناکر فلشوں کی غلاظت کو بہ راہ راست نالیوں میں ڈال رہے ہیں جو آگے جاکر دریا کو آلودہ اور زہریلا کرتا ہے، اس تہہ خانہ کلچر پر سخت پابندی ضروری ہے۔
ناراض نہ ہوں لیکن ہمارے اعمال ہی ثابت کرتے ہیں کہ ہم صاف لوگ نہیں ہیں۔ ہم غلاظت پھیلانے والے ہیں اور خدا اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ سوات اور دریائے سوات شدید خطرات سے دوچار ہیں ہمارے اپنے ہاتھوں سے۔
692 total views, no views today


