ایک ھندو ، ایک سکھ اور ایک مسلمان کو بیک وقت پھانسی کا حکمُ ملا ، ھندو سے آخری خواہش پوچھی گئ “اگر کسی بھی طریقے سے پھلی کوشش میں کوئ ٹیکنیکل خرابی آجاے پھانسی کے دوران تو مجھے رھا کر دیا جاے ، حکام بالا نے ھندو کی یہ خواہش قبول کر لی ، عین پھانسی کے دوران جیسے ھی جلاد نے لیور کھینچا تختہ کسی خرابی کی وجہ سے نہ کھُل سکا ، چنانچہ ھندو کو رھا کر دیا گیا اور جان بچ گئ ،
اب مسلمان کا نمبر آیا اسُ سے بھی آخری خواہش پوچھی گئ ، مسلمان دیکھ چکاُ تھا ، اس نے بھی وھی خواہش کر ڈالی ، چنانچہ جیسے ھی جلاد نے لیور کھینچا تختہ نہ کھلُ سکا ، اور مسلمان کی بھی جان بخشی ھو گئ
اب آیا سکھ کا نمبر وھ ساری سیچویشن کو غور سے دیکھ رھا تھا اسُ سے بھی آخری خواہش پوچھی گئ تو اسُ نے کہا ” میری خواہش کو مارو گولی پہلے اپنا تختہ ٹھیک کر لو ”
خوب ھنس لیں لیکن ٹہریے !!!!
مجھے لگتا ھے یہ سکھ ھم KPK کی قوم ھے ، کیونکہ پنجاب اور سندھ حکومتیں اپنی قوم کے لیے قانونی اور غیر قانونی کام کر کے فائدے پہنچا رھی ھے ، پنجاب حکومت ملکُی اور غیر ملُکی بنکوں سے قرضے لے کر میگا پراجکٹس بنا رھی ھے اور ترقی کی طرف روا دوا ھے ، قرض دار پوری قوم ھو رھی ھے فائدے صرف سندھ اور پنجاب لے رھا ھے ، پھانسی کا تختہ بند ملنے پر فائدے لے رھی ھے ،
جبکہ ھمارے kpk کی حکومت رٹ لگا رھی ھے کہ پہلے تختہ ٹھیک کرو ، میرے خیال میں تختہ ٹھیک کرنے سے پہلے اس بہتی گنگا میں kpk حکومت بھی ھاتھ دھو لے تاکہ پختون قوم کو بھی کوئ فائدھ ھو ، تختہ بعد میں ٹھیک ھوتا رھے ،
میں ایک بار پھر KPK کی سیاسی تاریخ دھرُا دیتا ھوں ، یہ پٹھان قوم ھے deliver نہ کرنے پر دور پھینک دیتی ھے ، محبت پر آتی ھے تو طشتری میں حکومت دے دیتی ھے لیکن جب نفرت پر آجاے تو PPP ، pmln , MMA ، and ANP کو مکمل طور پر گھر بھیج دیتی ھے ، اور پھر یہ پارٹیاں ایوان کے رستے تکتے رھتے ھے ،
میرا PTI کو برادرانہ مشورہ ھے کہ ۲۶ مھینے آپ فضول میں ضائع کر چُکے ھیں ابھی بھی ۳۴ مھینے باقی ھے اور کام کرے تختہ کو ٹھیک کرتے کرتے جان چلے جائ گی بھائ ،
میری خواہش ھے کہ اپنی زندگی میں ھی پشاور میٹرو میں سفر کروں ، عمران خان صاحب آپ ۱۴ ارب میں سستی میٹرو بنانا چاھ رھے ھیں ، آگر سستی میٹرو بن بھی جاے تو پٹھان قوم کو کیا فایدھ ، آپ بھی بنکوں سے قرضہ لے لے اگر پیسے نہ ھو تو ، جہاں ھر پاکستانی 80000 کا قرض دار ھے اگر kpk میں اچھے پراجکٹس بن جاے تو 90000 کا قرض دار بن جاے گے ، کیا فرق پڑھتا ھے ، مہربانی کرکے پہلے ھم پٹھانوں کو ترقی دے پھر وزیر اعظم بن جاے ، ھمیں بہت خوشی ھوگی ،
میرا عمران خان صاحب سے برادرانہ مشورہ ھے ، آپ ان 35 مہینے پشاور میں اپنا ڈیرھ ڈالدے اور 24 اضلاع میں تین تین دن گزارے اور ترجیحی بنیاد پر کام کراے ،
میں سوات کا ھوں اس لیئے سوات کے تین دن کا شیڈول دیدیتا ھوں ، پہلے دن لویر سوات مطلب لنڈاکی سے لیکر منگورھ اور پیچھے والا رستہ شموزئ سے لیکر کانجو کا وزٹ کرے پورا دن وہاں گزارے ، اور وہاں میرے خیال میں صرف روڈ کا مسلۂ ھی ھے ، اسُکو جلد از جلد پورا کرواے ، رات منگورھ میں گزارے اور اگلے دن مٹہ اور درشخیلہ پھر قندیل جرے اور خوازاخیلہ اور باغڑھیری کا وزٹ کرے اور یہاں بھی روڈ کا مسلۂ ھے ، رات میاندم میں گزارے اور اگلے دن اپر سوات یعنی مدین بحرین کالام اور اتروڑ گبرال کا وزٹ کرے اور 36 کلومیٹر روڈ ھے اس کا افتتاح کرے کیونکہ اتنے پیسے تو صوبائ حکومت کے پاس ھے ، کالام میں رات گزار کر واپس پشاور ، پھر آپ دیکھے کیا ھوتا ھے !!!! آپ کو پوزیٹیو رزلٹ نظر آے گے
لیکن آپ کا بنی گالہ میں بیٹھ کر سپریم کورٹ میں جاکر دھاندلی اور الیکشن ریفورمز سے پٹھان قوم کو کوئ فائدھ نہیں ھونے والا ،
998 total views, no views today


