خیبر پختون خوا کی موجودہ حکومت تعریف کی حق دار ہے کہ وہ اس صوبے میں مقامی حکومتوں کا انتخابات کرواسکی۔ اگرچہ یہ حکومت ان انتخابات کو نقایص سے صاف نہیں کرسکی لیکن پھر بھی حالیہ انتخابات ایک اہم جمہوری قدم ہے جس کو سراہانا چاہیے ۔
انتخابات میں خامیاں کئی رہیں اور شاید کہیں کہیں دھاندلی بھی ہوئی ہوگی لیکن یہ دھاندلی شاید اس پیمانے کی نہ ہو جو ایک آزمودہ سیاسی جماعت کی حکومت کرسکتی ہو۔ ایک بڑی خامی جو کھل کر سامنے آئی وہ پورے صوبے میں ایک دن یا پھر ساری نشستوں کے لیے ایک دن انتخابات کرانا تھے ۔
دھاندلی اور بے قاعدگیوں کے الزامات ایک طرف رکھ کر آیئے، دیکھتے ہیں کہ یہ مقامی حکومتیں اصل میں ہیں کیا اور ان کے اختیارات اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟ عام لوگ چوں کہ صرف جنرل مشرف کے بنائے ہوئے بلدیاتی حکومتوں سے واقف تھے، اس لیے وہ خیبر پختون خوا میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومتوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس مضمون میں عام آدمی کے لیے مقامی حکومتوں کے اس نظام کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے شاید ہر سطح کے کونسلر بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں بحرین سوات میں سرگرم مقامی سماجی ادارے ادارہ برائے تعلیم و ترقی (آئی بی ٹی) نے راقم کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ ادارے کی طرف سے عام لوگوں کے لیے اس نظام کی وضاحت کرے، تاکہ یہ عوام اپنے ان بنائی ہوئی حکومتوں سے بھرپور مستفید ہوں۔
خیبر پختون خوا کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی 2013ء میں ہی ’’ خیبر پختون خوا مقامی حکومت قانون 2013ء‘‘ کے نام سے پاس کیا۔ اس قانون کے تحت مقامی حکومتیں تین سطحوں پر ہوں گی۔ پہلے درجے میں ضلع یا شہری حکومت ہوگی، دوسری سطح پر تحصیل یا ٹاؤن اور آخری نچلی سطح پر ولیج یا ہمسائیگی حکومت ہوگی۔
ضلعی / شہری حکومت:۔ ضلع پشاور کے علاوہ صوبے کے باقی تمام چوبیس اضلاع میں ضلعی حکومتیں ہوں گی جو کہ ضلعی ناظم، ضلعی محکمے اور ایک ضلع کونسل پر شامل ہوگی۔ یہاں یہ امر دل چسپ ہے کہ مذکورہ مقامی حکومتوں کے قانون کی رو سے ہر ضلع میں ایک ضلعی حکومت اور ایک ضلع کونسل ہوگی۔ ضلع ناظم اس حکومت کا انتظامی سربراہ ہوگا اور ضلع میں سارے محکمے ناظم کو جواب دہ ہوں گے۔
ضلع ناظم کے اختیارات میں ضلع کو منتقل کیے گئے محکموں کی نگرانی، انتظام اور کنٹرول شامل ہیں۔ بہ شرط یہ کہ وہ ان اختیارات کو ’’صوبائی حکومت‘‘ کی پالیسی کے مطابق بہ روئے کار لائے۔ ضلع میں سارے محکمے اپنی ذمہ داریاں ضلعی حکومت کے نام سے سرانجام دیں گے۔ یہ قانون یہ بھی کہتا ہے کہ ہر ضلعی حکومت اپنی ذمہ داریوں کے لیے عوام کو جواب دہ ہوگی۔ ضلع ناظم کو ضلع کونسل منتخب کرے گی۔ یہ ضلع کونسل ہر یونین کونسل سے منتخب شدہ ضلع کونسلرز پر مشتمل ہوگی۔ ان کے علاوہ ایک تہائی تعداد خواتین کونسلرز کی ہوگی۔ واضح رہے کہ یونین کونسلز زیادہ تر وہی رہی ہیں جنھیں مشرف حکومت نے 2001ء کو بنایا تھا۔ ہر یونین کونسل سے ایک ضلع کونسلر جنرل سیٹ پر منتخب ہوکر ضلع کونسل کا ممبر بنا ہے۔
اس قانون کی رو سے ضلع ناظم کو گیارہ اختیارات اور ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
1:۔ ضلع ناظم ضلع کی ترقی کے لیے باصلاحیت قیادت اور درست سمت کا تعین کرے گا۔
2:۔ ضلع کونسل کی طرف سے طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے حکمت عملیاں ترتیب دے گا۔
3:۔ ضلعی حکومت کو منتقل شدہ کاموں کی تکمیل کو یقینی بنائے گا اور ضلع میں انتظامی و مالی نظم و ظبط کو قایم رکھے گا۔
4:۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔
5:۔ ضلع کونسل کو سالانہ بجٹ پیش کرے گا۔
6:۔ ضلع میں سرگرم ضلعی محکموں کی کاردگی پر سال میں دو بار بیچ میں اور آخر میں رپورٹ ضلع کونسل کو پیش کرے گا۔
6:۔ ضلع ناظم ایسے محکموں سے بھی سہ ماہی بنیاد پر بھی رپورٹس طلب کرسکے گا جو ضلع کو منتقل نہیں کیے گئے ہیں اور ان کو صوبائی حکومت کو بھیجے گا۔
7:۔ ضلع ناظم متعلقہ ضلعے میں تحصیل اور ولیج یا نیبرہوڈ کونسل کی نگرانی کروا سکے گا۔
8:۔ ضلعے کو تفویض کیے گئے شعبوں کے افسران کو احکامات جاری کرسکے گا۔
9:۔ مختلف تقریبات میں ضلعی حکومت کی نمایندگی کرسکے گا۔
10:۔ اگر حکومت مزید کوئی کام تفویض کرے، تو اسے بروئے کار لانے کا پابند ہوگا۔
ان کے علاوہ ضلع ناظم متعلقہ ضلعے میں ضلعی محکموں کے خلاف تادیبی کارروائی اس قانون کے اندر رہتے ہوئے کر سکے گا۔
ضلع کونسل:۔ ضلع کونسل ہر ضلعے میں جنرل سیٹس پر منتخب ہونے والے ضلعی کونسلرز، خواتین، یوتھ، کسان اور اقلیت کے لیے مختص نشستوں پر آنے والے کونسلرز پر مشتمل ہوگی۔ مذکورہ مقامی حکومتوں کے اس قانون کی رو سے ضلعی کونسل کے کل تیرہ اختیارات و ذمہ داریاں شامل ہیں۔ جن میں ضلع میں مختلف محکموں کے لیے اسٹینڈینگ کمیٹیاں، ضلعی مالی کمیٹی، ضلعی اکاؤنٹ کمیٹی، میونسپلٹی، ولیج اور نیبرہوڈ کے لیے مشترک کمیٹیاں، ضلعی ممبران کے لیے اصول و ضوابط بنانے کے لیے کمیٹی اور ضلعی سطح پر جانچ و جایزہ کمیٹی کا انتخاب شامل ہے۔
ان کے علاوہ ضلع کونسل ضلعی حکومت کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں اور بجٹ کو منظور و مسترد کرسکے گی۔ اسی طرح یہ کونسل ضلعی حکومت کے انتظام و انصرام کے لیے اصول و ضوابط بنائے گی اور ساتھ ساتھ ضلع کی طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے ساتھ ٹیکسوں کی منظوری دے گی۔
جو محکمے ضلعی حکومتوں کو منتقل کیے گئے ہیں، ان میں پرایمری و ثانوی تعلیم، خصوصی و تکنیکی تعلیم، تعلیم بالغاں و خواندگی، صحت مراکز برائے زچہ و بچہ، بنیادی صحت کے مراکز، سماجی بہبود و بہبود آبادی کے محکمے، دیہی ترقی، کھیل و ثقافت، محکمہ مال، محکمہ زراعت و مویشی، ماہی گیری، ضلعی تعمیرات کا محکمہ (سی اینڈ ڈبلیو)، ضلعی ہیڈکوارٹر اور ٹیچنگ اسپتالوں کے علاوہ دیگر اسپتال، زمین کی دیکھ بھال اور زرخیزی اور جنگلات وغیرہ شامل ہیں۔
تحصیل میونسپل ایڈمینسٹریشن:۔ مقامی حکومت کی دوسری سطح تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ہے۔ یہ تحصیل کونسل، میونسپل ایڈمنسٹریشن آفیسر اور دیگر آفیسروں پر شامل ہوگا۔
تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کا انتظامی سربراہ تحصیل ناظم ہوگا جسے تحصیل میں شامل یونین کونسلوں سے منتخب شدہ تحصیل کونسلر کریں گے۔ ان کے علاوہ ہر تحصیل میں خواتین، یوتھ، کسان اور اقلیت کی سیٹٰیں یونین کونسلوں کی تعداد کی بنیاد پر ہیں۔
مقامی حکومت کے اس 2013ء کے قانون کی رو سے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے اُنیس اختیارات و ذمہ داریاں ہیں۔
1:۔ متعلقہ تحصیل میں مقیم سرکاری دفتروں اور خدمات کی نگرانی و جایزہ اور ان سے جواب دہی۔ کسی بھی صورت میں ضلعی یا اگر ضرورت ہوئی، تو صوبائی حکومت کو آگاہ کرنا۔
2:۔ تحصیل میں زمین کا استعمال اور اس پر تعمیراتی منصوبوں کی تیاری اور ان منصوبوں سے عوام کو آگاہ کرنا۔
3:۔ میونسپل خدمات اور مواصلات و سہولیات کی ترقی اور انصرام۔
4:۔ تجارت، زراعت، تفریح، صنعت، رہایش، مواصلات یعنی بس اڈے اور پارکس کے لیے زمین کے استعمال پر کنٹرول۔
5:۔ میونسپلٹی کے کاموں سے متعلق قوانین بنانا اور لاگو کرنا۔
6:۔ تحصیل کے علاقے میں تجاوزات کو روکنا اور اس سے ان کو ہٹانا۔
7:۔ تحصیل کے علاقے میں اشتہارات کی نظم و ضبط اور کنٹرول۔
8:۔ سالانہ بجٹ کی تیاری اور میونسپل خدمات کی فراہمی۔
(جاری ہے)
977 total views, no views today


