شیر علی کی عمر 22 سال ہے ، دونوں پاؤں پر پیدائشی معذور اور پہاڑی کی اوپر اپنے والد اور بہن بھائیوں کیساتھ رہائش پذیر ہے،شیر علی نے حالیہ بلدیاتی الیکشن میں معذوری کے باوجود یوتھ کونسلر کی حیثیت میں الیکشن لڑا اور بھاری اکثریت کیساتھ کامیابی حاصل کی، وہ ہر روز صبح اٹھ کر اپنے علاقہ میں ایک دکاندارکیساتھ بیٹھ کر علاقہ کے مسائل حل کرنے کے بارے میں سوچتا رہتا ہے، شیر علی کہتے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن میں یوتھ کونسلر کی حیثیت سے الیکشن اس لئے لڑا کہ علاقہ کے عوام کی بنیادی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکوں۔
شیر علی کے چار بھائی ہیں اور وہ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے، معذوری کی وجہ سے انہوں نے تعلیم حاصل نہیں کی لیکن ان کو تعلیم کیساتھ شوق اب بھی ہے، انہوں نے کہا کہ علاقہ کے مسائل کو دیکھتیہوئے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا،انہوں نے کہا کہ یوتھ کونسلر کی نشست کیلئے ہمارے وارڈ سے پانچ امیدوار کھڑے تھے جس میں میں بھی شامل تھا، انہوں نے کہا کہ میرے چار دوستوں اور علاقہ کے عوام نے مجھے بھر پور سپورٹ کیا اور میری کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ میں الیکشن میں508 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے گھر والوں خصوصا میرے والد نے مجھے بھر پور سپورٹ کیا، اگر میرا دوسرا بھائی الیکشن لڑنا چاہتا تو میرے والد ان کو اجازت نہ دیتے لیکن انہوں نے مجھے منع نہیں کیا اجازت کیساتھ ساتھ میرے انتخابی مہم میں میرے ساتھ جبکہ ہر وقت میرے ہمت بڑھا تے رہے، انہوں نے کہا کہ میرے مخالفین نے میرے خلاف بہت سے باتیں کیں، جس میں سب سے بڑی بات مخالفین کو میری معذوری نظر ائی ، وہ جب انتخابی مہم چلاتے تو کہتے کہ معذور لوگوں کے مسائل کیسے حل کریگا، جس کو خود مدد کی ضرورت ہے وہ دوسروں کو کیا سپورٹ کریگا، اسی طرح مخالفین نے یہ بھی مشہور کیا تھا کہ کاغذات نامنظور ہونے کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑونگا، انہوں نے کہا کہ الحمدا للہ میں نے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی ، اب میرا مقصد اپنے محلے کے دو بڑے مسائل حل کرنا ہے، جس میں صاف پانی اور صفائی شامل ہے
شیر علی کہتے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کا بنیادی مقصد اپنے محلے میں پانی اور صفائی کا مسئلہ حل کرنا ہے، ہماری محلے میں دو مختلف ٹیوب ویلوں سے پانی ٹینکی کو پہنچتی ہے جس میں ایک فضاگھٹ جبکہ دوسرا شاہدرہ میں واقع ہییہ دونوں ٹیوب ویل ہمارے پانی کیضروریات کو پورا نہیں کرتے، کبھی وولٹیج اور کبھی ٹرانسفارمر خراب ہونے کا بہانہ کرکے میونسپل کارپوریشن والے ہمیں ہمارا حق نہیں دے رہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ اٹھ دنوں سے ہمارے محلے کو پانی فراہم نہیں کی گئی، علاقہ کے عوام دور دراز علاقوں سے پانی کرایے کے گاڑیوں میں لانے پر مجبور ہیں، انہوں نے کہا کہ اس علاقہ میں قدرتی چشمہ ہے لیکن گندگی کی وجہ سے وہ پانی صاف نہیں ہے، اس سے بیماری پھیل جاتی ہے اس کے باوجود ضرورت مند لوگ اس پانی سے اپنی ضروریات پوری کررہے ہیں۔کیونکہ ان کیساتھ اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ گاڑی کو کرایہ دیکر صاف پانی دوسرے علاقہ سے لائیں۔
شیر علی کہتے ہیں کہ معذوری کبھی میرے حوصلے کو پست نہیں کرسکتی ، میں 130 سیڑھیوں پر نیچے اتر تا اور چڑھتا ہوں، مجھے تکلیف تو ہے لیکن میں نے الیکشن اسی جذبہ سے لڑی ہے کہ میں لوگو ں کی خدمت کروں اور اپنے علاقہ سے مسائل ختم کرسکوں ، انہوں نے کہا کہ اس علاقہ میں تمام لوگ غریب، مزدور کار رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ مینگورہ شہر میں ہونے کے باوجود بنیادی ضروریات سے محروم ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے میں میونسپل کارپوریشن مینگورہ کے دفتر کا چکر لگارہاہوں لیکن میرے ساتھ میونسپل کارپوریشن کے افیسر ملاقات نہیں کررہے ، انہوں نے کہا کہ میں بھی پیچھے مڑنے والا نہیں ہوں ، مجھ پر لوگوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے میں ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔
یونین کونسل ملوک اباد کے وارڈ نمبر چارکے لوگ کہتے ہیں کہ بہت سارے ممبران اسمبلی ائے الیکشن جیت کر خاموش ہوگئے اس مرتبہ اسلئے معذور نوجوان کو اسلئے منتخب کیا کہ اس میں جذبہ ہے اور وہ خودان مسائل کا شکار ہے جن مسائل کا شکار دیگر لوگ ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ معذور نوجوان ہمارے مسائل حل کرینگے اور یہ سارا محلہ اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
معذور یوتھ کونسلر شیر علی کے والد شیرین جوکہ ایک ریٹائرڈ سکول استاد ہے انہوں نے کہاکہ میرا بچہ معذور ضرور ہے لیکن اس میں خدمت کا جذبہ کھوٹ کھوٹ کر بھرا ہے، انہوں نے کہا کہ شیر علی کو اجازت دینے کا فیصلہ پہلے مجھے ٹھیک معلوم نہیں ہوا ، لیکن اب میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا علاقہ کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہے، انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے نے الیکشن لڑنے کا خواہش کیا تو میں اس خواہش کو رد نہ کرسکا اور اس کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی
شیر علی کہتے ہیں کہ اگر میرے علاقہ کے عوام میرے ساتھ یوں ہی کھڑے رہے تو انشاء اللہ بہت جلد یہ مسائل حل ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ مستقل میں پاکستان تحریک انصاف کاکارکن بنوں گا، کیونکہ میں عمران خان کو پسند کرتا ہوں اور ان کے سماجی کاموں کی طرح خود بھی لوگوں کیلئے کچھ کرنا چاہتاہوں، انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ملوک اباد کے عوام کو صاف پانی ان کے گھروں میں ملے گا، وہ گندے پانی سے چھٹکارا حاصل کرینگے، انہوں نے کہا کہ ضلع سوات کے تمام یوتھ کونسلروں کو اگے انا ہوگا، تاکہ سوات کے مسائل ختم ہو سکیں۔
1,740 total views, no views today


