سوات، منگلور کے سینکڑوں مقامی لوگوں نے اپنے مطالبات کے حق میں پر امن احتجاج ریکارڈ کرایا۔جس میں منگلور کے ڈسٹرکٹ کونسلر سرور خان، تحصیل کونسلر بونیرے خان، ویلیج کونسل کے ناظمین اور نائب ناظمین، جنرل کونسلرز، اور یوتھ کونسلرز ، سماجی کارکنان عطاء اللہ خان، فواد اقبال، اشرف علی اور عوام نے کثیر عوام کے ساتھ حصہ لیا۔مظاہرین نے میڈیا کو بتایا کہ منگلور کے عوام نے سول ہسپتال کیلئے 47کنال زمین دی ہے، حکومت نے اب اس زمین پر نواز شریف کڈنی ہسپتال قائم کیا ہے، جو کہ ایک قابل قدر اقدام ہے، انہوں نے کہا کہ کڈنی ہسپتال کے ساتھ منگلور سول ہسپتال کو بحال کیا جائے، جو کہ والی سوات نے یہاں کے عوام کیلئے 1968میں بنایا تھا۔نمائندوں نے کہا کہ یہاں کی بنیادی ملازمتوں پر منگلوری عوام کا حق ہے۔لہذا یہ سراسر نا انصافی ہوگی کہ مقامی باشندوں کے بجائے دوسرے جگہوں کے لوگوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔مظاہرین نے ہسپتال کے انتظامیہ اور ڈی ایچ او ڈاکٹر سید علی خان کے سامنے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔مظاہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ کڈنی ہسپتال کے ساتھ منگلور کا نام لکھا جائے۔ مظاہرین نے مسائل کے ھل کیلئے حکومت کو 15دن کی ڈیڈلائن دی ہے، اور کہا ہے کہ ہمارے مطالبات منظور نہ ہوئے تو کفن پوش احتجاج کریں گے۔ مظاہرین نے وزیر اعلی، پی ٹی آئی کے ایم پی اے عزیزاللہ گران اور مسلم لیگ (ن) کے امیر مقام سے بھی مسئلے کے حل کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرنے بارے میں اپیل کی ہے۔
628 total views, no views today


