انسان کا رزق جہاں مقرر ہو، یہ وہاں پہنچ جاتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت میرے دو دن کا رزق کالام میں مقرر ہونے کی وجہ سے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں میری ڈیوٹی کالام میں لگی۔ میرے ساتھ دو اور ساتھی طاہر خان اور اکرام اللہ بھی تھے۔ تیس مئی کو الیکشن ہونا تھا۔ ہم اُنیس مئی کو یہاں سے روانہ ہوئے۔ کالام مینگورہ سے ننانوے کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس علاقے کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہا خوبصورتی سے نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک سے لوگ یہاں کی خوب صورتی دیکھنے آتے ہیں۔ بحرین تک کا روڈ کافی اچھا ہے۔ اس لیے مینگورہ سے بحرین تک کا سفر نہایت آرام دہ تھا۔ بحرین بازار میں موجود ایک ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایا۔ وہ ایک صاف ستھرا ہوٹل تھا۔ کھانا اچھا تھا اور کم خرچ بھی۔ سو روپے فی کس کے حساب سے ادائیگی کی گئی۔ کھانا کھانے کے بعد آگے کالام کے لیے روانہ ہوئے۔ بحرین سے کالام تک کا سفر نہایت تکلیف دہ تھا۔ کیوں کہ روڈ صرف نام کا تھا۔ بہ ہر حال دونوں طرف سر سبز پہاڑ اور ایک طرف دریائے سوات کے ساتھ ساتھ جاتے ہوئے روڈ دل فریب مناظر پیش کررہا تھا۔ بحرین سے کالام تک کا سفر دو گھنٹوں میں طے کرنے کے بعد کالام پہنچے۔
کالام خاص میں موجود گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول میں ہماری ڈیوٹی تھی۔ وہاں موسم خاصا ٹھنڈا تھا۔ کیوں کہ اس دن بارش ہوئی تھی مگر الیکشن کی سرگرمیوں نے ماحول کو خاصا گرم کررکھا تھا۔ کالام کو زیادہ تر لوگوں نے دیکھا ہوگا۔ ہر کوئی گیا ہوگا، مگر میں نے ان دو دنوں میں جو دیکھا اور جو محسوس کیا، اسے آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
کالام کا زیادہ تر علاقہ پہاڑی ہے۔ قابل کاشت زمین نہ ہونے کے برابر ہے۔ گندم، پیاز اور ٹماٹر کی فصلیں کوئی کاشت نہیں کرتا۔ کیوں کہ یہاں برف زیادہ پڑنے کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ یہاں کی زمینوں پر آلو، شلجم وغیرہ ہی کاشت کیا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہوٹل انڈسٹری ہے۔ کالام میں زیادہ تر گھر لکڑیوں سے بنے ہوئے ہیں، یہاں پر دیواروں میں بھی مضبوطی کے لیے ایک خاص انداز سے لکڑی لگائی جاتی ہے۔ وافر مقدار میں جنگلات ہونے کی وجہ سے یہاں لکڑیوں کی کوئی کمی نہیں۔ کھیتوں کے ارد گرد عام طور پر خاردار تار استعمال کیا جاتا ہے، مگر کالام میں اس کام کے لیے بھی لکڑی کا استعمال ہی کیا جاتا ہے۔
کالام میں قبروں کے اوپر بھی لکڑیوں سے بنایا گیا ایک خاص قسم کا ڈھانچہ سا ہوتا ہے۔
ہر علاقے کے اپنے رسم و رواج ہوتے ہیں مگر مہمان نوازی تمام پختونوں کی مشترکہ صفت ہے۔ لیکن کالام آکر مجھے اس حوالے سے مایوسی ہوئی کیوں کہ یہاں کے لوگ مہمان نوازی کی صفت سے مکمل طور پر عاری ہیں۔ اگر کوئی مجھے یہاں جانے سے پہلے اُن کی اس برائی کے حوالے سے بتاتا تو مجھے یقین نہ آتا۔ کیوں کہ کم از کم اہل کالام، ضلع سوات ہی سے تعلق رکھتے ہیں اور سوات کے لوگوں کی مہمان نوازی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ہم وہاں انتخابی ڈیوٹی کے لیے گئے تھے۔ کھانا تو دور کی بات، ہم پینے کے پانی کے لیے بھی ترستے رہے۔ یہاں ہر دوسرے مقامی فرد کے نام میں مَلک کا سابقہ یا لاحقہ لازمی جڑا ہوتا ہے، مگر یہ سب صرف نام کے مَلک تھے۔ کام کا وہاں ہمیں کوئی نہ ملا۔ رات گیارہ بجے تک ہم کام میں لگے ہوئے تھے، مگر کسی نے پوچھا تک نہیں کہ آپ انسان ہیں، آپ کچھ کھا پئیں گے بھی یا نہیں؟ ہماری تو مجبوری تھی۔ ٹایم نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل میں جانا ناممکن تھا۔ہم نے لوگوں سے بار بار کہا کہ کم از کم ہمارے لیے بستروں کا انتظام تو کر وا دیا جائے، مگر ہر شخص ’’ہاں‘‘ کہہ کر اور دم دبا کر غایب ہوجاتا۔ جب رات کے گیارہ بجے کام ختم کرکے تمام سامان اے سی آفس میں جمع کرادیا، تو کالامی بھائی اپنی ’’مہمان نوازی‘‘ کا ثبوت دیتے ہوئے غایب ہوچکے تھے۔ اس لیے ہم تینوں ساتھی صبح ہونے کے انتظار میں کالام کی گلی کوچوں میں پھرتے رہے۔ اگر یہی صور تحال برقرار رہی، تو کالام میں پشتون قوم کی روایتی مہمان نوازی بدنام ہوکر رہ جائے گی۔ خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں پنجاب اورملک کے باقی صوبوں سے سیاح سیر کے لیے آتے ہیں۔ آخر وہ کیا تاثر لے کر واپس جائیں گے؟
اک آدھ دن میں کوئی بھوک سے نہیں مرتا، مگر کم از کم بہ حیثیت پختون یہ تو پوچھنا چاہیے کہ آپ سوئیں گے کہاں اور آپ نے کھانا کھایا ہے کہ نہیں؟
آخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میری باتوں سے کسی کو کوئی صدمہ پہنچا ہو، تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔ اگر کسی کو میری باتوں سے اختلاف ہو تو وہ اپنی رائے بہ ذریعہ برقی تار اس نمبر 0302-8530554 پر بھیج سکتا ہے
816 total views, no views today


