ہے۔ یہاں سیب اور آخروٹ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ زمینوں کے چھوٹے چھوٹے قطعات میں ’’سرسبز پیاز‘‘ کے علاوہ، گندم کی سنہری فصل کٹائی کے مرحلے میں ہے۔ ژوب کے وسیع صحراؤں میں جو زمینیں سیراب ہیں، وہاں پر ہریالی اور خوش حالی ہے۔ ورنہ باقی علاقہ تو روکھا سوکھا اور بھوکا پیاسا پڑا ہے۔ پانی کے ذرایع یا تو وہ چھوٹی سی بہتی ہوئی ندی ہے، جس کو ’’دریائے ژوب‘‘ کہا جاتا ہے یا پھر ٹیوب ویل، جس میں کئی سولر انرجی سے چلتے ہیں، کئی وِنڈ اور باقی ماندہ واپڈا کی بجلی سے۔ جو زمینیں سوکھی ہیں، وہاں جنگلی زیتون کے جنگل جا بہ جا موجود ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کے بیابانوں میں زیتون کی کاشت کے لیے کتنی تڑپ موجود ہے۔ یہاں کے پانی کے کاریز بھی مشہور ہیں جو صدیوں سے ژوب کی تھوڑی بہت کاشت کاری اور معیشت میں بھرپور کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کاریزپورے صوبے میں پانی کی فراہمی کا ایک ’’وکرا سسٹم‘‘ ہے۔
اٹھارہ سو نواسی کے فورٹ سنڈیمن نے ستاسی سال بعد انیس سو چھتّر میں ژوب کا جامہ پہنا، تو لوگوں کو یقین تھا کہ نام کے ساتھ اب اس علاقے کی قسمت بھی بدل جائے گی، لیکن یہ ان کا خیالِ خام تھا۔ بھلا پاکستان میں ناموں سے بھی کبھی ترقی آئی ہے؟ یہ تو بس ماحول گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔ بھلے وقتوں میں یہاں ایک چلتا پھرتا ائیرپورٹ بھی موجود ہوا کرتا تھا۔ اس کے کمرشل فلایٹ اب بند ہیں۔ یہاں سے پاکستان کے تمام شہر ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہیں۔ ’’بابِ ژوب‘‘ اپنے صوبۂ بلوچستان کا پہلا دروازہ ہے، جو اپنے شمالی پختون خوا کی طرف کھلتا ہے۔ ’’ژوب‘‘ سے ’’شال‘‘ تک کا فاصلہ لگ بھگ تین سو تیس کلو میٹر ہے۔ سڑک بہترین ہے۔ چار گھنٹے میں شال تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔
راستے میں قلعہ سیف اللہ سے گزرنا ہے جو کبھی ژوب کے زیرِ نگین تھا اور اب ایک خود مختار ضلع ہے۔ آبادی کوئی دو سوا دو لاکھ تک ہوگی۔ یہاں ایک علاقہ تھا ’’ہندو باغ‘‘،جو اب مشرف بہ اسلام ہو کر ’’مسلم باغ‘‘ ہو گیا ہے۔ یہاں پر کرومایٹ کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ زراعت ہی سے یہ لوگ اپنی گزر بسر کرتے ہیں اور ملک بھر کی منڈیوں میں سبزی اور پھل بھیجتے ہیں۔ اندازہ کریں کہ یہاں پر کوئی بائیس سو کے لگ بھگ ٹیوب ویلز موجود ہیں جو لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرکے یہاں کے مکینوں کی معاشی خوش حالی کا بوجھ کندھوں پراُٹھائے ہوئے ہیں۔ یہاں پر سردیوں میں برف باری ہوتی ہے اور غضب کی سردی پڑتی ہے۔ حسب معمول یہاں بھی کمیونی کیشن کے ذرایع موبایل ہیں یا سڑکیں یا ’’حالہ دئی‘‘ یا درو د دیوار۔
درودیوار پر لکھے گئے کچھ لوکل نعرے ملاحظہ ہوں: ’’ہمارے مدرسے دہشت گردی کے نہیں امن کے اڈے ہیں۔‘‘، ’’کم پانی والے فصلات اُگائیں۔‘‘، ’’قافلہ راہِ حق، سلفیت سلفیت۔‘‘، ’’یہ وطن ہمارا ہے، ہم ہیں پاسبان اس کے۔‘‘، ’’عمران خان، بہادر خان۔‘‘، ’’لیلیٰ وطن مجنون ولی۔‘‘، ’’ہم دین دار، ہم امانت دار، امانت خان امانت خان۔‘‘، ’’جیے پاکستان آرمی۔‘‘، ’’ستر سالار، اسفندیار۔‘‘، ’’کاشغر روڈ تبدیلی نامنظور۔‘‘، ’’گرانو عزیزانو، دَ خپلو مدرسو نگرانی اوکڑئی۔‘‘ اور ’’ہر مشکل کا ایک ہی حل، بستر باندھ تبلیغ پہ چل۔‘‘
صحراؤں، میدانوں، چٹانوں، درختوں اور در و دیوار سے باتیں کرتے ہوئے اور ’’کچلاک‘‘ وغیرہ جیسے گاؤں سے پہلو تہی کر تے ہوئے ہم مسلسل آگے بڑھتے ہیں اوروادئ شال کی طرف جلدی جلدی پیش قدمی کرتے ہیں۔
لفظ جب تک وضو نہیں کرتے
ہم تیری گفت گو نہیں کرتے
ماضئی بعید کی ’’وادئ شال‘‘ اور آج کی وادئ کوئٹہ، صوبۂ بلوچستان کا صدر مقام ہے۔ انیس سو پینتیس میں جب اس شہر کو ’’ری ڈیزاین‘‘ کیا جا رہا تھا، تو اُس وقت اس کی آبادی ستر ہزار تھی، جو اَب پچیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ارباب محمد عثمان کاسی اپنی کتاب ’’شال سے کوئٹہ تک‘‘ میں تاریخی حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں: ’’ کوئٹہ کے بارے میں سابق خان قلات میر احمد یار خان کا مؤقف تھا کہ سترہ سو اُنہتر میں جنگِ مشہد میں فتح پر خوش ہو کر احمد شاہ دُرانی نے میر نصیر خان کو ’’برادر وفادار‘‘ کا لقب دیا۔ اس کے ساتھ میر نصیر خان کی والدہ بی بی مریم کو وادئ شال بطورِ چادر (شال) کے دی، جس کی وجہ سے اس کا نام شال پڑگیا۔ یہاں پر ایک تاریخی حلف کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو احمد شاہ درانی والئی افغانستان اور خان اعظم میر نصیر خان نوری کے مابین ہواتھا: ’’ خان اعظم میر نصیر خان نوری اور احمد شاہ ابدالی نے قندہار میں خرفہ شریف اور قرآن حکیم کو سامنے رکھ کر پٹھان بلوچ اتحاد کی قسم کھائی تھی۔ اُس دور سے لے کر آج تک ہم بلوچ اپنے دو بزرگوں کی اس قسم کا مکمل احترام کرتے چلے آ رہے ہیں۔‘‘
بلوچستان پاکستان کے تریالیس فی صد رقبہ کا مالک ہے۔ یہ آدھا پاکستان ہے۔ اس کی آبادی کتنی ہے، ہمیں علم نہیں ۔ شاید حکومتِ پاکستان کے علم میں بھی نہیں کہ ہمیں افراد سے نہیں، یہاں کے وسایل سے غرض ہے۔ افراد کا کیا ہے، جتنے چاہیں اور جہاں سے چاہیں، درآمد کیے جا سکتے ہیں۔ ویسے اندازہ لگانے میں تو کوئی حرج نہیں، آبادی کو ایک کروڑ کے قرب و جوار میں جانا جائے۔
بلوچستان، گیس، کویلہ اور دیگر معدنیات سے اٹا پڑا ہے۔ کویلہ کے کان کنی کے عمل میں سوات اور مضافات کے سیکڑوں لوگ برسرِروزگار ہیں۔ وسایل میں تو بلوچستان کا کوئی ثانی نہیں لیکن ان وسایل کی وجہ سے یہاں کے عام لوگوں کی زندگی کتنی آسان ہے اور کتنی اجیرن؟ یہ بات لوگ خود نہیں جانتے لیکن ’’جاننے والے‘‘ جانتے ہیں۔ یہاں کے عام لوگ، چاہے وہ جس بھی قبیلہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں، اب بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کم از کم ایک صدی پیچھے ہیں۔ اب بھی لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ غاروں میں، سوراخوں میں، سڑک کے نیچے لگے پایپوں میں یا کھلے آسمان کے نیچے زندگی کا زخم ’’سیتے‘‘ نظر آ رہے ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ یہ صوبہ، پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں پاکستان کے پانچوں صوبوں کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں پر بلوچی، پشتو، بروہوی، پنجابی، سندھی اور دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں۔ قدرتی وسایل سے مالا مال یہ صوبہ، پاکستان کا سب سے زیادہ پس ماندہ صوبہ ہے۔ صد افسوس کہ اس کے ساحل اور وسایل سے ہم آج تک کوئی استفادہ نہ کر سکے۔ یہاں کے لوگوں کو کسی کا انتظار کرنے کی بہ جائے اب خود ہی آگے آنا پڑے گا، کیوں کہ
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
932 total views, no views today


