میں جب بھی کسی حکومتی وزیر کو پریس کانفرنس کرکے دلیلیں، تاویلیں اور وضاحتیں دیتے دیکھتا ہوں، تو میری بے اختیار ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ حکومتی وزیر سے مراد آپ صرف محترم پرویز رشید کو نہ لیں، اس فہرست میں پشاور سے لے کر کراچی تک ہر نواور نسل کی حکومت کے وزیر شامل ہیں۔ تمام پریس کانفرنسیں ہوں یا پھر بھانت بھانت کے ٹاک شوز، ہر جگہ، ہر حکومت کا نمایندہ خود کوجسٹی فائی کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف نظر آتاہے۔ ان کی اس کوشش کا اینکر پرسنز بھرپور فایدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے سوالوں کی توپ سے سوال پہ سوال داغنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ آخرکار جیت اس کی ہوتی ہے جسے ٹاک شو ہوسٹ کا رتبہ ملا ہوتا ہے۔ ہارنے والے معزز مہمان آج تک اپنا مؤقف بتانے اور جھوٹی تاویلیں وضاحتیں دینے کے درمیان پایا جانے والا ذرا سا فرق نہیں جان پائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر ٹاک شو یکساں نتیجے پر ختم ہوتا ہے، نہ ہارنے والے بے مزہ ہوکر طریقہ بدلتے ہیں، نہ جیتنے والے کچھ لحاظ کرتے ہیں۔
بات جب بھی دلایل اور عمل کی ہوتی ہے، تو بے ساختہ روم کا مجسمہ ساز مائیکل اینجلو یاد آ جاتا ہے۔ 1502ء کی بات ہے، فلورنسں میں سنگ مرمر کا ایک بہت بڑا بلاک پڑا ہوا تھا جو اس زمانے کے ہمارے سرکاری اہل کاروں سے ملتے جلتے اہل کاروں کی نالایقی کی وجہ سے تقریباً خراب ہوچکا تھا۔ فلورنس کا لارڈ میئر چاہتا تھا کہ مشہور مصور ’’مونا لیزا‘‘ کا خالق ’’لیونارڈو ڈی ونچی‘‘ اس پر کام کرے لیکن یہ کام پایۂ تکمیل تک نہ پہنچایا جا سکا۔ مےئرنے ہمت نہ ہاری، اس دوران میں اس نے مشہور مجسمہ ساز مائیکل اینجلو سے رابطہ کیا۔ اینجلو نے حامی بھرلی۔ اسے روم سے فلورنس بلایا گیا اور مجسمہ بنانے کا کام سونپ دیا گیا۔ مائیکل اینجلو نے اس سنگ مرمر کے بلاک کو تراش کر مجسمہ بنانا شروع کردیا۔ اینجلو کام کرتا رہا یہاں تک کہ جب مجسمے کا چہرہ تیار ہوگیا، تو لارڈ میئر اس کو دیکھنے آیا (معلوم نہیں کہ اس وزٹ اینڈ انسپکشن کے موقعہ پر اس نے کاؤ بوائے ہیٹ لانگ شوز پہن رکھے تھے یا نہیں،تاریخ اس کے حلیے بارے خاموش ہے) مجسمہ بہت بڑا تھا، مئیر موصوف اس کے قریب گیا اور عین ناک کے نیچے جاکھڑا ہوا۔ مائیکل اینجلو سے مخاطب ہوا کہ مجسمے کی ناک کچھ زیادہ بڑی ہے اور شاید ٹیڑھی بھی ہے، مائیکل اینجلو سمجھ گیا کہ جس جگہ میئر کھڑا ہے، اس زاویے سے اس کو ناک بڑی اور ٹیڑھی نظر آ رہی ہے۔ درحقیقت ناک عین متناسب اور مناسب تھی۔ اب مائیکل کے پاس دو راستے تھے، ایک یا تو وہ اپنے فن پر نقص نکالنے پر بھڑک اٹھتااور لارڈ میئر کے ساتھ بحث مباحثے میں الجھ جاتا، اسے مختلف اینگلز سے ناک دکھانے کی کوشش کرتا، بات بگڑتی جاتی اور بحث بڑھتی جاتی۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ میئر کی بات تسلیم کر لیتا اور مجسمے کی ناک کی تراش خراش شروع کرکے اسے مناسب بنانا شروع کردیتا۔ اینجلو نے تیسرا راستہ چنا، اس نے بجائے بحث مباحثہ کرنے کے فرش پر جھک کر ماربل پاؤڈر اٹھا کر ہاتھ میں چھپا لیا پھراسی ہاتھ میں چھینی اور دوسرے ہاتھ میں ہتھوڑا پکڑ کر مجسمے کے پاس چلا گیا۔ لارڈ میئر کو وہاں سے دور کھڑا کردیا، اینجلو نے مجسمے پر چھینی اور ہتھوڑے سے جھوٹ موٹ کا کام شروع کردیا۔ وہ جیسے جیسے چھینی پرہتھوڑا چلاتا جاتا، دوسرے ہاتھ سے ماربل کا پاؤڈر بھی گراتا جاتا، یہ تاثر دینے کے لیے کہ وہ اس رئیل مجسمے کی ناک کی درستگی کا کام انجام دے رہا ہے جس کی بہ دولت پاؤڈر گر رہاہے۔ میئر نے سمجھا کہ مائیکل حقیقتاً ناک تراش رہا ہے۔کچھ دیر جھوٹ موٹ کی ٹھک ٹھک کرنے کے بعد اس نے میئر سے پوچھا کہ اب کیسالگ رہا ہے؟ میئر نے مسکرا کر مجسمہ کی طرف دیکھا اور خوش ہوتے ہوئے جواب دیا، اب ناک زیادہ مناسب اور خوبصورت ہوگئی ہے۔ میئر اپنی جگہ راضی ہوگیا اور اینجلو نے اپنا کام بھی ضایع ہونے سے بچا لیا۔ کیوں کہ اگر وہ مجسمے کی ناک ذرا سی مزید تراش دیتا، تو مجسمہ شاہ کار کی بہ جائے تباہ وبرباد ہو کر رہ جاتا۔ اس کے برعکس اگر مائیکل بحث و مباحثہ کی پالیسی اختیار کرتا، تو ہوتا تو وہی جو لارڈ میئر چاہتا، مجسمہ تو اپنا حسن و دل کشی کھوتا ہی ساتھ ہی مائیکل بھی اس مجسمے کو بنانے کے عوض ملنے والی مراعات سے یک سر محروم ہوجاتا۔
آپ دنیا کے کسی عظیم لیڈر کی تقریریں نکال کر سن لیں، وہ آپ کو اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے اپنا لایحۂ عمل مستقبل کے لیے دیتے ہوئے ملیں گے یا پھر مختصر الفاظ میں ’’اپالوجایز‘‘ کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان میں سے کوئی اپنی ناکامیوں پر لمبے چوڑے بھاشن دیتا ہوا نظر نہیں آئے گا یا فضول کی بحث میں الجھ کر میڈیا پرسنز کو اپنی عزت اچھالنے کاموقعہ دیتا ہوا نہیں ملے گا۔ کوئی آپ کو بجلی کے منصوبوں کی ورک پراگریس بتاتا ہوا نہیں ملے گا بلکہ ہرکوئی جھوٹے سچے فگرز اور اعداد و شمار سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہوا ملے گا کہ اس سب میں قصور ہمارانہیں بلکہ آمریت کا ہے۔ کوئی یہ confess کرتا ہوا نہیں ملے گا کہ ہمیں بھی آٹھ سال ہونے کو آئے ہیں، ملک کے سب سے بڑے صوبے کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے، بلکہ دو دو گھنٹے ٹاک شوز میں مذاق اڑوانا اس سے کہیں زیادہ آسان محسوس کرتے ہیں جو مسئلہ ایک فقرے یا چند عملی اقدامات سے سلجھ سکتا ہو،اس پر دن میں پانچ پانچ بار پریس کانفرنسیں کرکے سلجھانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ یہی حال ہمارے ’’جنرل بی ہیو‘‘ کا بھی ہے۔ بہ طور شہری ہمارا بھی یہی ردعمل ہوتاہے، کوئی ہم پر ہمارے کام پر انگلی اٹھادے، یہ بات گولی سے زیادہ ہماری انا کو چھید کرتی ہوئی گزر جاتی ہے۔ اپنی اصطلاح کسی کو گوارا نہیں۔ بحث کرنا ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔ حکومت ہو یا شہری، عوام ہوں یا خواص، ہر کسی کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ لچھے دار باتوں اور جھوٹے سچے دلایل سے الجھے ہوئے معرکے سر کرلیے جائیں۔ ایسی جیت ہمیشہ لمحاتی اور وقتی ہوتی ہے۔ کیوں کہ ہم اپنے جھوٹے دلایل کی مدد سے اپنے مخالفین کو وقتی طور پر تو چپ کرواسکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے یہ ممکن نہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ قول کے بہ جائے اپنے فعل سے شکست دینا زیادہ پائیدار اور مؤثر امر ہے، ایسی شکست وقتی نہیں ہوتی۔ ہر میدان میں عمل کرنا ہم بھول چکے ہیں، یہاں ہر کوئی گفتار کا غازی ہے، کردار وعمل کے غازی تو کب کے ناپید ہوگئے۔ باتوں سے بجلی کی قلت تو پچھلے تین سال سے روز اول سے ہی یہ حکومت دورکرتی آرہی ہے لیکن عملی طور پر ہرسال قلت، زور و شور سے نہ صرف بڑھ جاتی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ تباہ کن نتایج لے کر لوڈ شیڈنگ کا سورج طلوع ہوتاہے۔ نسخہ بڑا آسان ہے لیکن عمل کرنا خاصا مشکل۔ نسخہ ایک فقرے میں مقید ہے: ’’اپنے عمل سے جیت کر دکھائیں، دلایل و براہین کو رہنے دیں۔‘
672 total views, no views today


