سوات ،فضاگٹ بائی پاس روڈ پرمبینہ طور پر لیویز اہلکاروں کو رشوت نہ ملنے پر مزدوروں کی شامت اگئی، برف فروخت کرنے والے غریب مزدوروں اور گاڑی ڈرائیور پر تشدد کے بعدبھی رحم نہ آیا،مزید دھلائی کیلئے تھانہ رحیم آباد منتقل کردیئے گئے جہاں باقی ماندہ کام پولیس نے پورا کرلیا،میڈیا کو معاملات کا علم ہونے کے بعد انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئی اور مبینہ طور پر مزدروں کو دھمکیو ں کے ذریعے راضی نامہ کرنے کیلئے راضی کرلیا،مزدوروں کا احتجاج،ذرائع کے مطابق لیویزاہلکارمزدوروں پر ایف آئی آر درج کرنے پر بضد تھے لیکن جب مزدروں نے تھانے میں پولیس اورلوگوں کے سامنے اس بات کا انکشاف کیا کہ لیویز اہلکار10ہزار روپے رشوت طلب کررہے تھے جس کو دینے کی طاقت ہم میں نہیں تھی ،حقائق کا پتہ چلنے پر لیویز اہلکار اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ،بعدازاں مزوروں نے نامناسب روئے اور تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا،گزشتہ روزبرف فروش مزدوروں عبید اللہ ،وزیر ،ظہور ، اسحاق اور برکت علی نے میڈیا کو بتایاکہ گزشتہ روز افطاری کے وقت فضاگٹ بائی پاس روڈ پر سادہ کپڑوں میں ملبوث لیویز اہلکار آئے اور کہا کہ آپ لوگ برف مقررہ نرخ سے زیادہ قیمت پر فروخت کررہے ہیں اور ہمارے شناختی کارڈ لے گئے ان میں سے ایک جو اپنے اپ کو لیویز کا انچارج ظاہر کررہاتھا نے ہم سے10ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کیا اور نہ دینے کی صورت میں ایف ائی ار کاٹنے کی دھمکی دی، جس پر ہم نے صاف انکار کردیا کہ ہم غریب لوگ ہے دو سوروپے کا حلال رزق بمشکل کماتے ہیں اپ کو دس ہزار کہاں سے دے سکتے ہیں انکار کے بعدسادہ کپڑوں میں ملبوس لیویز اہلکاروں نے ہم پر وحشیانہ تشددشروع کیااور ہمیں رحیم آباد تھانہ منتقل کردیا گیاجہاں پر موجود ایک محرر اور لیویز اہلکاروں نے دس ہزار کے غوض چھوڑنے کی دوبارہ پیشکش کی انکار پر لیویز اہلکاروں کے ساتھ پولیس بھی اپے سے باہر ہوگئی اور مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، پولیس نے لیویز اہلکاروں سے بھی دو قدم آگے جاتے ہوئے وہاں پر موجود لوگوں کو بھی نہیں بخشا ،میڈیا کو معاملات کا علم ہونے کے بعد لیویز اہلکاروں کی دوڑیں لگ گئی اورمزدوروں کو راضی نامہ کرنے کی منت کرتے رہے جس کیوجہ سے لیویز اہلکاروں اور پولیس کے کردار پر سوالیہ نشانات لگ گئے ،تشدد کا نشانہ بننے والے مزدوروں نے کمشنر مالاکنڈ ڈویژن،ڈی سی سوات ،ڈی پی او سوات سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
620 total views, no views today


