ہمیں سکول میں پڑھایا جاتا تھا کہ ’’اصلی‘‘ کا متضاد یا اُلٹ ’دیسی‘‘ ہے۔ یہاں سے دیسی کے ساتھ ہماری نفرت شروع ہوگئی۔ ہر وہ چیز جو ہمیں گھٹیا لگی، ہم نے اُسے دیسی ہی کہا۔ اسی طرح ہر غیر چیز ہمیں اصلی لگنے لگی۔ اسی سے جڑی ہوئی کہاوت ’’گھر کی مرغی دال برابر‘‘ ہے۔ ہماری زبان توروالی میں اس کہاوت کا متبادل کچھ بہت ہی شرمناک ہے جسے شاید کسی دانا نے ’’دیسی‘‘ یا ’’مقامی‘‘ کی بے توقیری برداشت نہ کرتے ہوئے بڑے غصّے سے کہا ہے ۔
اصلی کا اُلٹ دیسی کیوں کر پڑا؟ یہ بظاہر ایک معمولی سی بات لگتی ہے لیکن انسانی فکر کی نمُو میں یہی معمولی باتیں اپنے اندر خاص پس منظر رکھتی ہیں۔ زبانوں کی تشکیل اور ترویج میں کئی کلتوری، فطری اور اساطیری کہانیاں پنہاں ہوتی ہیں۔ لفظ کے معانی سے مجموعی انسانی سوچ کے دایرے اشکار ہوتے ہیں۔ کئی الفاظ اپنے پس منظر میں انسانی اختراع یا قیاس پر مبنی افکار لیے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر جملہ ’’طوفان آتا ہے‘‘ یا یہ ’’ہوا چلتی ہے‘‘ پر غور کیجیے۔ افعال ’’آنا‘‘ اور ’’چلنا‘‘ ہر اس شے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جن کے پاؤں ہوں اور وہ ذی روح ہوں۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ تاریخ میں کہیں انسان ’’طوفان‘‘ یا ’’ہوا‘‘ کو کوئی دیوی یا دیوتا سمجھا جاتا تھا۔ ویسے بھی قدیم انسان جب بھی کسی قدرتی مظہر کو نہیں جانچ سکا یا پھر اس کا سائنسی تجزیہ نہیں کر سکا، تو اُس نے اپنے قیاس پر مبنی اس قدرتی مظہر کی توجیح کی۔ مثلاً یہ میتھ (Myth) اب بھی راسخ ہے کہ سایہ دار درخت کے نیچے نہیں سونا چاہیے کہ ایسے درخت کے نیچے عفریت ہوتی ہے جو انسان پر بیٹھ کر اس کی سانس بند کردیتی ہے۔ یہ انسان کی اپنی اُس وقت کے بساط کے مطابق اس قدرتی مظہر کی تشریح تھی۔ اب سائنس نے ثابت کیا کہ پتے دار درخت رات کو سانس لیتے ہیں اور سانس لینے کے اس عمل میں زہریلی گیس کاربن ڈائی اکسائیڈ، جسے ہر جاندار سانس لیتے وقت خارج کرتا ہے، خارج ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے درخت کے نیچے رات کو اکسیجن کم پڑجاتی ہے جس سے سوتے ہوئے انسان کی سانس پُھول جاتی ہے اور اس کا جسم سُن ہوجاتا ہے۔
وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ انسان ترقی کرتا گیا لیکن ’’ترقی‘‘ کی یہ رفتار ہر جگہ یکساں نہیں رہی۔ پہلے جن انسانوں کے پاس جسمانی Muscular طاقت زیادہ ہوتی وہی ’’ترقی‘‘ کر جاتے۔ دوسرے لفظوں میں دُنیا میں دستیاب وسائل سے زیادہ مستفید ہوتے۔ وسائل پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے قبیلوں اور قوموں کے بیچ جنگوں نے جنم لیا اور یہی سے سیاست اور ریاست پیدا ہوئیں۔ وسائل سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی اس جستجو نے جنگوں کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار، رویّوں اور افکار کو بھی متاثر کیا۔ یہی سے ’’کلچر‘‘ نے ’’تہذیب‘‘ کی شکل اختیار کی اور یوں ’’مہذب‘‘ اور ’’غیر مہذب‘‘ کی تفریق پیدا ہوگئی۔ وسائل پر قبضے کی یہ کوشش ہر دور میں کسی نہ کسی صورت جاری رہی ہے۔ کہیں یہ نوآبادیاتی رہی، تو کہیں تقدیس کے پردے میں لپٹی ہوئی تہذیبوں کے تصادم میں پنہاں۔ کہیں یہ بہ اشکال نئی دُنیا کی ترکیب (New World Order) میں پوشیدہ رہی تو کہیں اشتراکیت (Communism) اور سرمایہ داریت (Capitalism) کی باہمی کشمکش میں ظاہر ہوئی۔ کہیں اس کی صورت علاقائی رہی، تو کہیں قومی اور عالمگیر۔ اس کی کئی صورتیں رہیں لیکن اپنے نصب العین میں یہ ہمیشہ ہی ’’طاقت‘‘ کے حصول میں مگن رہی۔ موجودہ دُنیا میں دہشت گردی ہو یا اس کے خلاف جنگیں، سبھی ’’طاقت‘‘ کے حصول کے لیے ہیں، تاکہ وسائل پر زیادہ سے زیادہ قبضہ کیا جائے۔ بدقسمتی یہ کہ یہ جاری رہیں گی۔
ایسے میں وہ قومیں یا قومیتیں زیادہ گھاٹے میں رہی ہیں کہ جن کے پاس سیاسی طاقت نہ رہی ہو اور وہ تاریخ میں کسی کی محکوم رہی ہوں۔ محکوم قومیں ہمیشہ حاکم قوموں کے کلچر، روایات، افکار اور روایات کو اپناتی ہیں، اس لیے آج ہم جیسے بہت سوں کو دیسی اور مقامی سے چھڑ ہے اور ہم ان دیسی افکار، روایات یا چیزوں کو ایک لحاظ سے جعلی سمجھنے لگے ہیں، اس کے پیچھے ہماری انسانی تاریخ ہے۔
حاکم قوموں یا قومیتیوں کے افکار و خیالات کو محکوموں کے ذہنوں میں ٹھوسنے کے لیے جنگوں کے ساتھ ساتھ بڑے دلکش الفاظ و نظریات جیسے کہ تہذیب، مذہب، تقدیس، اشرافیت، خاندانیت، توقیر اور ترقی کا سہارا بھی لیا گیا اور ہر زمانے میں خوب لیا گیا ہے۔اس مقابلے نے ادب، فنون، زبان اور روایات سب کو متاثر کیا۔ طاقتور کی زبان، ادب، فنون اور روایات کو سیکھنا ’’تعلیم‘‘ گردانا گیا۔ دیسی مرئی چیزوں کے ساتھ ساتھ ادب، فنون، حکمت اور زبانوں کی بے توقیری ہونے لگی اور ان کو پسماندگی، جہالت اور ’’جعلیت‘‘ کا ذریعہ سمجھاگیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ دیسی حکمت کے خزینے دفن ہوتے گئے اور ان خزینوں کے سر چشمے بے توقیر،مثلاً میرے لیے توروالی کلاسک شاعروں خان گل خان، جمروز ملنگ یا پھر امیر محمد کے کسی ایسے شعر کی کوئی اہمیت نہ رہی جو بلاشبہ غالبؔ ، میرؔ یا خوشحالؔ خان کے شعر کے پائے کا ہو۔ اسی طرح میرے پختون ہمسائے کے لیے رحمانؔ بابا، غنی خان یا رحمت شاہ سائلؔ کے اشعار کی وہ وقعت نہ رہی جو غالبؔ ، اقبالؔ یا فیضؔ کے کلام کی ہو۔ یہ سلسلہ یہاں نہیں رکتا، آگے جاتا رہتا ہے جہاں تک طاقت کی مختلف درجے موجود ہیں۔
دنیا میں مروجہ تعلیم اس فکر کو دوام بخشنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور ہمارے ملک میں یہ کردار مزید گھمبیر ہوجاتا ہے۔ تعلیمی پالیسی ساز چونکہ اپنی سطح پر ایسی ہی تعلیم کی پیداوار ہے، لہٰذا وہ اس طلسم کو توڑنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔ وہ وہی لاگو کرتا ہے جو اُسے سکھایا گیا ہو۔ نتیجتاً ہماری قومی سوچ میں ’’یکسانیت‘‘ کو ’’یکجہتی و اتحاد‘‘ سمجھا جاتا ہے اور ’’تکثیریت‘ ‘ (Pluralism) کو غداری۔
بیرونی افکار، نظریات اور روایات کی یہ نقل ہمارے اندر تخلیقیت کو ماردیتی ہے اور ہم صرف اسے تعلیم گرداننے لگتے ہیں جو ہمیں انگریزی یا اردو میں کہا اورپڑھایا جائے۔ اس طرح ہم اچھے نقال تو بن جاتے ہیں لیکن تخلیق کار نہیں۔ یہ نقالی ہم مقامی سطح پر اپنی چور ریوں کا تڑکا دے کر جعلی کردیتے ہیں اور اس جعلی کو پھر دیسی کے معانی پہناتے ہیں۔
ہمیں اپنے کلتور اور روایات کو ایک وسیع دنیا کے تناظر میں سمجھنا چاہیے اور پھر انھی کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرنا چاہیے۔ اس دور میں ہم سائنس اور علم میں جدت اور تیزی سے انکار نہیں کرسکتے اور کرنا بھی نہیں چاہیے کہ ایسا کرنے کا مطلب تاریخ کے پہیّے کو الٹا گھمانا ہے، مگر تھکا دینے والی اس دوڑ میں ہمیں اپنی دیسی حکمت اور روایات کو نہیں بھولنا چاہئے بلکہ ان میں نئی معانی ڈال کر اپنانا چاہئے۔ اس سے ہم ایک اصلی قوم بن جائیں گے ورنہ قومیت کے جعلی تجربات تو پچھلی چھ دہایوں سے ہورہے ہیں۔
1,040 total views, no views today


