اس آرٹیکل کو دیر سے لکھنے کی وجہ دراصل یہ ہے کہ میں چاہتا تھا کہ اسے رمضان کریم کے تیسرے اور آخری عشرے جوکہ ’’جہنم سے نجات کا ہوتا ہے‘‘ میں شائع ہو۔ رمضان کریم ہمارے مذہبی اعتبار سے بے حد اہمیت کا حامل مہینہ ہے اور اس بابرکت مہینے میں تمام حضرات زیادہ سے زیادہ ثواب کماناچاہتے ہیں اور اس لئے ہرطرف ایک پُرنور ماحول نظرآتا ہے۔ مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ تراویح کا اہتمام خاص طور پر کیا جاتا ہے۔ سحر و افطار میں دسترخوان خداکی عطا کردہ نعمتوں سے بھر جاتے ہیں۔ تلاوت قرآن پاک اور دیگر دعائیں وغیرہ بھی خصوصی طور پر پڑھی جاتی ہیں۔ غرض یہ کہ ہرکوئی جنت کا طلب گار اور خدا کی رحمتوں کا خواست گار نظر آتاہے۔ میرا یہ آرٹیکل جوکہ اِس مؤقر ویب سایٹ ’’زما سوات ڈاٹ کام‘‘ میں کچھ عرصہ پہلے شائع ہوا تھا: ’’یہ میڈیکل ریپ کون سی مخلوق ہیں؟‘‘ یہ اُس کے سلسلے میں آنے والے ردعمل کا جواب ہے جوکہ میری نگاہ میں نیکی ہی ہے اور رمضان میں ہرنیکی کا اجر ستّر گنا بڑھ جاتاہے۔ میں واضح کرتا چلوں کہ ہرجگہ اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں، سو یہ آرٹیکل اور میں صرف میڈیکل ریپ اور ان ڈاکٹرز کے خلاف ہیں جوکہ اس کا ناجایز استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔
میرے بھائی جنھوں نے میرے کالم پہ تنقید کی تھی، وہ درست طور پر وضاحت نہ پیش کرنے کے سبب نہ تو مجھے مطمئن کر سکے اور نہ اُس جو ابی وار سے قارئین کرام کی ہی تسلی ہوسکی۔ میں نے تو کالم میں بے حد کڑی تنقید کرتے ہوئے کافی سوالات اٹھائے تھے، مگر جناب آپ نے تو بات ساری میرے پیٹ کا مروڑ کہہ کر ختم کر ڈالی۔ جناب میڈکل ریپ کے تمام وہ حضرات جوکہ مجھ پہ جوابی وار کررہے تھے اور میرے کالم کی وجہ سے مجھے کیا کچھ نہ کہا، انہیں میں بتاتا چلوں کہ میں آسٹریلیا میں ایک ہیلتھ کیئر کے ادارے سے وابستہ ہوں۔ سو میں ہیلتھ کیئر کی صورتحال جوکہ یہاں ہے اور وہ صورتحال جو پاکستان میں ہے، اس کا فرق واضح محسوس کرسکتا ہوں۔
میں آج ایسا کچھ نہیں لکھ رہا کہ میڈیکل ریپ کیا کرتے ہیں اور کیا نہیں؟ کچھ ڈاکٹرز، غریب عوام کو کیسے لوٹ رہے ہیں؟ اور نہ یہ کہ لوگ کس قسم کی عیاشیاں کرتے ہیں؟ کیو ں کہ ان سب باتوں کا ذکر میں اپنے گزشتہ کالم میں کرچکا ہوں، مگر میں اپنی بات پہ اب بھی قائم ہوں کہ تھائی لینڈ کے ہوٹلز میں ایسی کوئی ٹرنینگ نہیں ہوتی جن میں نئی تحقیق یادوا پہ سیشن ہوں اور بحث و مباحثہ ہو۔
میں اپنے بھائی کی اِس بات سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں کہ میڈیکل ریپ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیں۔ ہاں، مگر کچھ ،نہ کہ تمام حضرات بلکہ یہ تمام حضرات بس آٹے میں نمک کے برابر ہی ہیں۔ میں اپنے بھائی صلاح الدین یوسف زئی سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر میں میڈکل ریپ لائن کو جوائن کرنا چاہوں، تو میرے لئے اِیسی کون سی ڈگری، ڈپلومہ، شارٹ ٹکو رس وغیرہ ہے جو میں کرلوں؟ کیوں کہ میں بھی ان میڈیکل ریپ حضرات کے اُس جادو کو سیکھنا چاہوں گاکہ جو صرف دو ہفتے میں کردیتے ہیں اور بہتر بتاسکتے ہیں کہ کون سی دوا کب اور کیسے استعمال کرنی ہے؟ جوکہ ایک ڈاکٹر چھ سات سال کی مشکل ترین پڑھائی کے بعد سیکھتا ہے۔
میرے بھائی! اگر آپ کا تعلق اُس مافیہ سے نہیں جو مہنگی دواؤں کے نام پر مریضوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے، تو پھر آپ کو اس بات پہ اعتراض کیوں ہوا کہ دوائیں “genric” ناموں سے فروخت کی جائیں۔ میں جانتا ہوں اس بات کا جواب آپ کے پاس نہیں ہوگا؟ کیوں کہ دونوں صورتوں میں آپ کی برادری کی عیاشیوں پہ سوال اُٹھے گا۔
عوام تو اب بھی سوشل میڈیا پر سوالات اٹھا رہے ہیں بلکہ پچھلے دنوں اے آر وائی ڈیجیٹل کی نشریات دیکھ رہا تھا جوکہ شانِ رمضان کے نام سے ہیں، اُن میں بھی اینکر پرسن وسیم بادامی نے ڈاکٹرز کے مراعات لینے اور میڈیکل ریپ کے کردار اور ان کے کام کے متعلق جب علمائے کرام سے سوال کیا، تو علمائے کرام نے بھی کہا کہ وہ دونوں حضرا ت جہنمی ہوں گے۔ کیوں کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہوتے ہیں۔
میرا مشورہ ہے کہ آپ میڈیکل ریپ کے حضرات اور تمام ڈاکٹرز صاحبان اپنے کام کی نوعیت پوری سچائی سے علمائے کرام سے شیئر کرتے ہوئے اپنے رزق کی نوعیت کے متعلق ضرور معلوم کرلیں۔ کیوں کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کے بولتا ہوں کہ میرے وہ تمام سوالات اُس اینکر پرسن نے اُسی انداز میں کیے ہیں۔ ایک بات اور، وہ یہ کہ میرے بھائی نے خود اقرار کیا ہے کہ ہزار میں سے کوئی ایک کمپنی ہوگی جوکہ مراعات دیتی ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کو غلط سمجھا جائے۔ تو کیا میرا بھائی مجھے اُس کمپنی کا نام بتانا پسند فرمائے گا؟ تاکہ ہم عوام وہ ادویات نہ خریدیں اور اس کمپنی کا مکمل بائیکات کریں۔ اس طرح ہمیں بھی آسانی ہوجائے گی۔ کیوں کہ تھائی لینڈ تک کے ٹوورز کا ذکر تو اُس اینکر نے بھی کیا اور دواؤں میں پرسنٹ ایج وصولی اور مہنگے تحائف جیسے گاڑی اور بنگلہ پر بھی روشنی ڈالی جس کا سارا ملبہ بعد میں غریب پر گرتاہے۔
پاکستان میں اس وقت 368 فارما یونٹ کام کررہے ہیں، ان میں پنجاب 194 لوکل جب کہ 5 ملٹی نیشنل، سندھ میں 91 لوکل 23ملٹی نیشنل، کے پی کے میں 45 لوکل، بلوچستان میں 5 لوکل اور 2 ملٹی نیشنل اور آزاد کشمیر میں 3 لوکل کمپنیز کام کررہی ہیں۔ اور اب یہ کس طرح کام کررہی ہیں اور ان کی مصنوعات کس طرح عوام تک پہنچ رہی ہیں؟ یہ میں اپنے آنے والے آرٹیکل میںآپ کو بتاؤں گا۔ ساتھ ہی ادویہ کی مارکیٹنگ کا طریقہ کار بھی اپنے قارئین کو بتاؤں گا اور میری کوشش ہوگی کہ ان ڈاکٹرز کے نام بھی تحریر کروں جن کی ادویہ پوری مارکیٹ میں صرف اُنھیں کے میڈیکل اسٹور پر ملتی ہیں۔
رمضان کا مہینہ ہے، شاید کسی کو میرے آرٹیکل میں بتائی گئی حقیقت کی وجہ سے خوفِ خدا محسوس ہوجائے اور آگے میرے ساتھ مل کے اس مافیا کو بے نقاب کرنے میں میرا ساتھ دے۔ ساتھ ہی میں ان تمام دوستوں کا ممنون ہوں کہ جنھوں نے مجھے معلومات کو اکھٹا کرنے میں مدد فراہم کی ، شکریہ!
828 total views, no views today


