ریاست کے لازمی عناصر ماہر سیاسیات چار بتاتے ہیں جن میں سب سے پہلے آبادی، علاقہ، حکومت اور اقتدار اعلیٰ ہیں۔ یہ چاروں عناصر کسی بھی ریاست کے لیے بہت ضروری ہیں، تاکہ وہ ریاست، وہ خاص عوامی طبقہ دنیا کے نقشے پر اپنے مخصوص نام سے جانا جا سکے۔ ریاست کے لیے سب سے ضروری جز آبادی ہے، اگر آبادی ہی نہ ہو تو حکومت، اقتدار اور علاقہ وغیرہ کسی اہمیت کے حامل نہیں ٹھہرتا۔ کیوں کہ آبادی ہی سے حکومت بنے گی۔ پھر خاص شخصیات کو اقتدار دیا جاتا ہے اور یوں ایک ریاست کا نظام چلتا ہے، مگر کسی بھی ریاست کے لیے ایک مخصوص علاقہ کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔
گویا یہ تو بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ آبادی سے باقی امور نمٹائے جائیں گے۔ گیارہ جولائی کو دنیا بھر میں پاپولیشن ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں شعور و بیداری پیدا کرنا ہے کہ دنیا میں آبادی کے بڑھنے کے کیا نقصانات ہیں؟ آبادی کی زیادتی سے کون سی پیچیدگیاں اور پریشانیاں کسی بھی اسٹیٹ کے لیے مسائل کھڑی کرسکتی ہیں۔ آبادی سے جہاں ملک کو مختلف بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، وہاں پر ماں اور بچے کی صحت بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ اگر اس وقت دنیا کی کل آبادی کی بات کی جائے، تو یونائٹیڈ نیشن ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس اینڈ سوشل آفیرز کے مطابق کل آبادی سات اعشاریہ تین دو پانچ بلین ہے۔ اب آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی شاپنگ مال کا آپ رخ کر لیں، تو جو چیز آپ خریدیں گے اُس پر ’’میڈ اِن چائنہ‘‘ لکھا ہوتا ہے، اس طرح اگر آبادی کی بات کی جائے، تو چائنہ آبادی کے میدان میں بھی دنیا میں سب سے آگے ہے۔ ’’انٹرنیٹ ورلڈ ڈیٹا ڈاٹ‘‘ کام کے مطابق چائنہ کی کل آبادی ایک ارب چھتیس کروڑ پندرہ لاکھ بارہ ہزارپانچ سو چالیس ہے۔ اس طرح انڈیا کی اگر بات کریں تو ایک ارب پچیس کروڑ کم و بیش سترہ لاکھ ہے۔ اس طرح امریکہ، انڈونیشیا، برازیل اور پھر پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ پاکستان عالمی رینکنگ میں چھٹے نمبر پر آتا ہے۔ پاکستان کی اس وقت کل آبادی اُنیس کروڑ ننانوے لاکھ پچاسی ہزار آٹھ سو سینتالیس ہے، جب کہ آخری مرتبہ 1998ء میں جب مردم شماری ہوئی، تو اُس وقت پاکستانی شماریاتی ادارے کے مطابق تیرہ کروڑ تیئس لاکھ باون ہزار دو سو اسّی تھی۔ دنیا کی آبادی میں پاکستان دو اعشاریہ پانچ سات فیصدحصہ ڈال رہا ہے۔ پاکستان کی اڑتیس فیصد آبادی شہری جبکہ باسٹھ فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔
قارئین، بڑھتی آبادی اب معمہ بنتی جا رہی ہے۔ کیونکہ حکومت کو اس آبادی کے لیے صحت کی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اسپتال، تعلیم کے لیے اسکولز، انڈسڑی، نوکریاں حتی کہ خوارک بھی ارینج کرنی پڑے گی۔ چند ایک بنیادی چیزیں میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں جو کہ ضروری ہیں، اسکے علاہ بہت سے مسائل ہیں جو آبادی کی زیادتی سے جنم لیں گے۔
اس طرح اگر ہم صحت کی بات کریں، تو دنیا میں یونایٹیڈ نیشن پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کے مطابق انہتر ممالک ایسے ہیں جہاں پر ماں کو دورانِ حمل جو خوارک، کیئر (احتیاط) اور ضروری چیزیں دستیاب نہیں ہوتیں، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں روزانہ آٹھ سو خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ دنیا میں اس وقت صرف بیالیس فیصد مڈ وائی فری ((Midwifery ڈاکٹرز ہیں جو تہتر ممالک میں کام کر رہی ہیں۔دنیا کے باقی ممالک میں جو انتظامات ہیں وہ خاطر خواہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے خواتین میں بہت سے مہلک بیماریاں جنم لیتی ہیں جس کی بڑی وجہ محکمۂ ہیلتھ کی لاپروائیاں اور عطائی ڈاکٹر ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی جلد شادی کر دینے اور مناسب فیملی پلاننگ نہ ہونے کے سبب پاپولیشن میں اضافہ ہورہا ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں روزانہ بیس ہزار خواتین جن کی عمریں اٹھارہ سال سے کم ہیں، بچوں کو جنم دے رہی ہیں جس سے سالانہ سات اعشاریہ تین ملین آبادی بڑھ رہی ہے۔ جس کی بڑی وجہ شعور کی کمی ہونا ہے اور اگر شعور ہو بھی تو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ننھے مہمان کو دعوت دے ڈالتے ہیں، جس سے نہ صرف آبادی میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ یوں ماں اور بچے دونوں کی زندگی داؤ پر ہوتی ہے، تو یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی ریاست کو اپنے شہریوں کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کسی ریاست کی آبادی کتنی ہونی چاہیے جہاں پر تعلیم، صحت، گھر اورخوارک کے ساتھ ساتھ امن و امان بھی بہتر ہو سکے؟
یونانی مفکر ارسطو اس بارے میں دو اصول بتاتے ہیں کہ ایک یہ کہ آبادی اتنی ضرور ہونی چاہیے کہ ایک خود کفیل معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔ دوئم یہ کہ آبادی اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ امن وامان کی صورتحال قائم نہ ہوسکے۔
افلاطون ایک مثالی ریاست کی تعداد پانچ ہزار چالیس مقرر کرتا ہے جبکہ فرانسی روسودس ہزار کی آبادی کو مثالی قرار دیتا ہے۔ اور شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ آبادی کم ازکم اتنی ہو جس میں تمام پیشوں سے افراد منسلک ہوں، تاکہ معاشرہ خود کفیل ہو۔ اگر ان اسکالرز کی باتوں کو مدنظر رکھا جائے، تو پھر بڑھتی آبادی نے تو تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ آج آبادی کا تعین کرنا ہی مشکل ہوچکا ہے۔ ارسطو مزید لکھتے ہیں کہ ریاست وہ ہے جس کے ایک سرے سے کھڑے ہوکر دوسرا سرا دیکھا جاسکے۔ میرے مطابق آبادی کم سے کم اتنی ضرور ہوکہ آپ کے ملکی وسائل اور آبادی میں توازن برقرار رہے اور آئے دن غذائی قلت، چینی بحران، آٹا بحران، صحت کی ناقص صورتحال، بے روزگاری، قتل و غارت میں مزید اضافہ اس بات کا شاخسانہ ہے کہ ہمارے وسائل اتنے نہیں جتنی ہماری آبادی ہے۔ اگر ضروریات پوری نہیں ہوں گی، تو یقیناًناجایز راستہ اختیار کر نا پڑئے گا جس سے امن وامان کی صورتحال خراب ہوگی۔
لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کے جتنے اُسکے وسائل ہیں، اتنے ہی وہ پاؤں پھیلائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا اس ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کنبہ چھوٹا رکھنے کی بھرپور مہم چلائیں۔ سیمینار اور واک کا انعقاد کیا جائے اور پمفلٹ تقسیم کرکے لوگوں میں پاپولیشن کنٹرول کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے، تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گام زن ہوسکے۔
782 total views, no views today


