گزشتہ سال مئی میں وفاقی کابینہ نے پاکستان کی قومی زبان اردو کو سرکاری زبان بنانے کے احکامات جاری کئے تھے۔ گزشتہ دنوں کابینہ ڈویژن کی طرف سے مختلف محکموں کو حکم نامے جاری کرتے ہوئے ان احکامات پر عمل درآمد شروع کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حکم نامے میں تمام محکموں اور افسر شاہی کو کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری احکامات و مراسلے اردو میں جاری کرے اور پہلے سے موجود دستاویزات کو بھی اردو میں ترجمہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس اقدام کے ذریعے صدر، وزیراعظم اور وزرا کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اندرون اور بیرون ملک اردو ہی میں خطاب کریں۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ 1973ء کے آئین کی شق نمبر 251 پر مکمل عمل درآمد کی جانب ایک اہم قدم ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ پندرہ برسوں میں انگریزی زبان کی سرکاری حیثیت کو اردو میں منتقل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ اردو کو مکمل طور پر پاکستان کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہو۔
پاکستان میں عام طور سے اردو زبان کو رابطے کی زبان ہونے کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اردو ذرائع ابلاغ کی اہم زبان ہے۔ پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے قیام نے بھی اردو کو کافی حد تک مقبولیت بخشی ہے۔ پاکستانی معاشرہ پہلے ہی سے کافی حد تک اردو اپنا چکا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ تحقیق، تنقید اور ادب میں اردو زبان کی پستی مشاہدہ میں آئی ہے۔ ہر سال جتنی کتابیں اردو میں شائع ہوتی ہیں، ان میں بہت کم تعداد اعلیٰ ادب کی ہوتی ہے۔ زیادہ کتابیں، کتابچے اور رسائل مذہبی و فرقہ وارانہ منافرت کے پرچار کے لئے اردو زبان کو ذریعہ بناتے ہیں۔ اب بہت کم ہی لوگ ہوں گے جو اردو میں اعلی ادب تخلیق کر رہے ہوں، البتہ کالم نگاروں کی تعداد بڑھ گئی ہے جو اردو کے ذریعے اپنے کالموں میں ایک خاص ذہنیت کو فروغ دے رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی ہو جو اب بھی اردو میں فیضؔ ، منیرؔ ، ابن انشاؔ ، مشتاق احمد یوسفی یا پھر علی عباس جلالپوری کی طرح اردو کو اعلیٰ اظہار کا ذریعہ بنا رہے ہوں۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے اردو کو سرکاری زبان بنانے کی کوشش قابل تعریف ہے۔ البتہ پاکستانی ریاست زبانوں کے سلسلے میں اپنے وجود میں آنے کے بعد ہی سے ایک تعصب برت رہی ہے۔ مثلاً اسی حکومت کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انصاف و قانون نے پچھلے سال جولائی میں ایک ایسے بل کی مخالفت کی جسے قومی اسمبلی کی رکن ماروی میمن نے پیش کیا تھا۔ اس بل میں پاکستان میں اردو کے ساتھ دیگر نو زبانوں کو بھی قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح کا ایک بل سینیٹر حاجی عدیل کی طرف سے پیش کیا گیا تھا مگر قانون نہیں بن سکا تھا۔ اس سے پہلے 2011ء میں بھی ماروی میمن کی طرف سے پیش کردہ ایک ایسے ہی بل کو مسترد کیا گیا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان مسودات قانون کو آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت ہی مسترد کیا گیا تھا جس کی بنیاد پر اب اردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ کیا جا گیا ہے۔
پاکستانی ریاست ساز ابتدا ہی سے اس تعصب کے شکار رہے ہیں جس کی بنیاد بے بنیاد خوفparanoia ہے۔ پاکستانی ریاست کو بنانے کے لئے ایک زبان اور مذہب کے بیانیے کا سہارا لیا گیا جس سے تکثریت pluralism کے دیگر ممکنہ بیانیے رد کر دیے گئے۔ یکسانیت کے اسی رویّے کا خمیازہ ہم آج مذہبی دہشت گردی اور لسانی علیحدگی پسندی کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔ پاکستان میں اردو اور انگریزی کے علاوہ کم و بیش ستّر دیگر زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جن میں بعض کے بولنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں تو بعض کے بولنے والے کئی کروڑکی تعداد میں ہیں۔ اگرانڈس کوہستان میں بولی جانے والی زبانیںآیر اور گاؤرو کے بولنے والوں کی تعداد 150 یا 200ہے، تو پنجابی زبان کو پاکستان میں کم از کم چھ کروڑ لوگ بولتے ہیں، مگر تینوں زبانوں کے بارے میں ریاست اور دیگر اداروں کے رویّے ایک جیسے ہیں۔
ان ستّر زبانوں میں یونیسکو (UNESCO) کے مطابق اٹھائیس زبانیں آئندہ دس برس میں ختم ہو جائیں گی۔ اردو کے نادان ’’عاشقوں‘‘ کے لئے یہ شاید خوشخبری ہو لیکن یہ زبانیں اپنے ساتھ جس علم، حکمت، ثقافت، شناخت اور تاریخ کو لے ڈوبیں گی، اس کا احساس شائد ہی ان احباب کو ہو۔
کسی بھی زبان کے ایک ایک لفظ اور جملے کے ساتھ ایک تاریخ اور ثقافت جڑی ہوتی ہے۔ مثلاً میری زبان کا لفظ ’’سیمام‘‘ عام بول چال سے معدوم ہوچکا تھا جب زندہ کیا گیا، تو اس کے ساتھ آٹھ دہائی پہلے والی ایک پوری ثقافت جُڑی ہوئی تھی جس کی رسوم شادی بیاہ میں بروئے کار لائی جاتیں۔ اس لفظ کے دوبارہ استعمال میں آنے سے اس وقت کی سماجی تاریخ بھی زندہ ہوگئی۔ اردو کے تاریخ دان ہمیں بتاتے ہیں کہ کس طرح لفظ اردو رواج پایا۔ فرض کریں، اس لفظ ہی کو بھلادیں، تو اس کے ساتھ وہ تاریخ بھی مٹ جائے گی۔
زبان ثقافت کی بقا اور اظہار کا اہم ترین ذریعہ ہوتی ہے۔ جب زبان مٹ جائے، تو اس کے ساتھ ثقافت اور تاریخ بھی مٹ جاتی ہے۔ چترال کی تین وادیوں میں بسنے والے کیلاش لوگوں کی ثقافت کو ریاست اور اس کے ادارے پاکستان میں ثقافتی تنوع کے نمونے کے طور پر پیش کررہے ہیں، لیکن شاید ہی کسی کو پتہ ہو کہ جب کوئی کیلاش اپنی زبان چھوڑتا ہے، تو وہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی اپنی ثقافت اور مذہب بھی چھوڑ دیتا ہے۔
’’علاقائی زبانوں‘‘ کے علاوہ دیگر ساری آبائی مادری زبانیں معدومی سے دوچار ہیں۔ ان زبانوں کے بولنے والے اس دھرتی کے اصل باشندے ہیں، مگر اسی دھرتی پر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔
اردو کو سرکاری اور قومی زبان بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت دیگر پاکستانی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دے اور ان کے تحفظ و فروغ کے لئے انہیں تعلیم، قومی ابلاغ اور ورثے میں شامل کرے ۔
774 total views, no views today


