مینگورہ،کمشنر ملاکنڈ ڈویژن محمود اسلم وزیر نے کہاہے کہ چترال میں سیلاب غیر متوقع آنے سے ذیادہ نقصان ہوا ہے تاہم پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ مل کر جنگی بنیادوں پر بحالی اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ،ملاکنڈ ڈویژن میں اب تک سیلاب کے دوران 48افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 34افراد چترال میں جان کی بازی ہار گئے ہیں ،سوات میں بھی ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ہر ممکن اقدامات اٹھاکر کنٹرول روم بھی قائم کردیا ہے ،اب تک چترال متاثرین میں 40ٹن خوراکی اشیاء تقسیم کی گئی ہیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے جرگہ ہال سیدوشریف میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ٹو کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نعیم اختر ،اسسٹنٹ کمشنر نیاز خان اور دیگر حکام بھی موجود تھے ،کمشنرملاکنڈڈویژن محمو داسلم وزیر نے کہاکہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ مرتب کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر چترال کی سربراہی میں 12ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو جلد رپورٹ مرتب کریں گی انہوں نے کہاکہ سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس کے حساب سے 3لاکھ جبکہ زخمی افراد کو فی کس ایک لاکھ روپے دئے جائیں گے ،انہوں نے کہاکہ تباہ شدہ انفراسٹرکچرکی بحالی اور متاثرین کی مدد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے،اوراس سلسلے میں صوبائی حکومت ، سول انتظامیہ اورپاک آرمی اہم کرداراداکررہی ہے جبکہ لوکل کمیونٹی کا تعاؤن بھی حاصل ہے ،چترال سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا مکمل اندازہ لگانے کیلئے سروے جاری ہے ،آزمائش اورتکلیف کی اس گھڑی میں متاثرین کو ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے،انہوں نے کہاکہ چترال سیلاب سے اب تک 34افرادجاں بحق جبکہ سات افراد زخمی ہوئے ہیں ،اسی طرح 348مکانات مکمل جبکہ 80مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں ،اسی طرح 40 رابطہ سڑکیں ،14رابطہ پل،9ایری گیشن چینل ،83واٹر سپلائی سکیمیں تباہ ہوچکی ہیں ،انہوں نے کہاکہ کئی رابطہ سڑکیں ،چار ایری گیشن چینل اور دس واٹرسپلائی سکیمیں بحال کردی گئی ہیں جبکہ دیگر پر کام جاری ہے ،انہوں نے کہاکہ چترال متاثرین کیلئے روزانہ کئی ٹن راشن بذریعہ ہیلی کاپٹرپہنچایا جارہاہے اوراب تک انہیں 40ٹن راشن پہنچایا جاچکا ہے ساتھ ساتھ ادویات،ٹینٹ اوردیگر ضروری سامان بھی فراہم کیاجارہاہے ،انہوں نے کہاکہ چترال سیلاب سے ہونے والے نقصانات اورتباہی پر افسوس ہے تاہم مصیبت اورآزمائش کی اس گھڑی میں متاثرین کو ہرگزتنہا نہیں چھوڑاجائے گا جبکہ متاثرین کی مسلسل مددکے ساتھ ساتھ بحالی کیلئے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے جس میں صوبائی حکومت،سول انتظامیہ اورپاک آرمی بڑ ھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں،انہوں نے کہاکہ چترال میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی مکمل آگاہی حاصل کرنے کیلئے سروے جاری ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد اسی کی رشنی میں امدادی کاموں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے گا،انہوں نے کہاکہ سوات میں بڑے سیلاب کا کوئی خطر ہ نہیں تاہم اس کے باوجود بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹنے کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کردئے گئے اس سلسلے میں ہم نے ایس ایم ایس سروس بھی الرٹ کردی ہے جس کے ذریعے ہرقسم کی صورتحال سے عوام ہمیں اورہم عوام کوبروقت آگاہ کرسکیں گے۔
700 total views, no views today


